حکومت کا جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے فرار

وزارت قانون کے ذرائع کے مطابق حکومت نے بڑی سوچ بچار کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ جنرل مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا فیصلہ سنانے پر جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کرنے سے پرہیز کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے وزارت قانون کے کرتا دھرتا افسران کی ذمہ داری لگائی گئی ہے کہ وہ وزارت دفاع کے متعلقہ افسران کو سمجھائیں کہ قانون کے مطابق کسی بھی جج کے خلاف کوئی فیصلہ سنانے پر ریفرنس دائر نہیں کیا جاسکتا اور اگر ایسا کیا بھی گیا تو ماضی کی مثالوں کی روشنی میں یہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل سے خارج کردیا جائے گا جس سے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت دونوں کو سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق وزارت قانون نے حکومت کو بڑی سوچ پر بچار کے بعد یہ رائے دی ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف عدالتی فیصلے میں ججوں کو کسی بھی فورم پر مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس سے پہلے فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جسٹس وقار سیٹھ کے فیصلے کو نشانہ مشق بناتے ہوئے کہا تھا کہ جنرل مشرف فوج کے سربراہ رہے ہیں اور وہ کسی بھی صورت غدار نہیں ہوسکتے اور ان کے خلاف عدالتی فیصلے میں پھانسی کے حوالے سے دیے گئے ریماکس سے پتہ چلتا ہے کہ عدلیہ کے عزائم کچھ اور تھے۔ تاہم فوجی ترجمان شاید یہ بھول گئے کہ جنرل مشرف نے آئین پاکستان سے کھلواڑ کیا تھا جس کے مرتکب شخص کو غداری کے الزام کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آئین میں اس جرم کی سزا موت ہے. تاہم حکومت ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے اگلے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے اور وزیر قانون فروغ نسیم کو ایسی کوئی ہدایات نہیں ملی کہ مشرف کے خلاف خصوصی ٹریبونل کے سربراہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر نہ کیا جائے۔
یاد رہےکہ 22 ماہ قبل سپریم جوڈیشل کونسل نے لاہور ہائی کورٹ کے ایک سینئر جج جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف ان کے ایک فیصلے کی بنیاد پر جاری شوکاز نوٹس خارج کر دیا تھا اور قرار دیا تھا کہ کسی بھی جج کے خلاف اس کے کسی فیصلے کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی نہیں کی جا سکتی۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ حکومت پر پہلے ہی کام کا بڑا بوجھ ہے اور جج صاحب کے خلاف ریفرنس دائر کرنے یا نہ کرنے کے لیے ابھی کوئی نئی ہدایات نہیں آئی ہیں۔ تاہم قانونی ماہرین کی رائے میں بھی کسی بھی طرح کے عدالتی فیصلے پر کسی بھی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل یا کسی اور فورم پر کوئی کارروائی نہیں ہوسکتی۔ ان کا کہنا ہے کہ آج دن تک پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی جج کے خلاف اس کے کسی فیصلے کی بنیاد پر کارروائی کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے اور اگر ایسا ہوگیا تو پھر جج فیصلے کس طرح سنائیں گے۔
حال ہی میں لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فرخ عرفان خان کی پاناما پیپرز لیکس میں دو آف شور کمپنیاں سامنے آنے پر ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہوا۔ جسٹس فرخ نے الزامات کو چیلنج کیا لیکن یہ محسوس کرتے ہوئے کہ جوڈیشل کونسل سے ان کے خلاف فیصلہ آسکتا ہے، انہوں نے خود ہی اپنے منصب سے مستعفی ہو جانا بہتر سمجھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں ان کے فوج مخالف خطاب پر سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہوا جسے انہوں نے آخر وقت تک چلینج کیا۔ تاہم چونکہ ان کے خلاف بھی کسی فیصلے کی بنیاد پر ریفرنس دائر نہیں کیا گیا تھا بلکہ فوج کو بدنام کرنے کا الزام تھا اس لیے اسٹیبلشمنٹ کے لیے انہیں فارغ کروانا قدرے آسان ثابت ہوا۔ تاہم جسٹس وقار سیٹھ کے کیس میں ایسا ہوتا مشکل نظر آتا ہے خصوصا جب گلزار احمد جیسا چیف جسٹس سپریم کورٹ میں براجمان ہو۔