ایران جنگ میں پاکستان کو سفارتی توازن برقرار رکھنے کا چیلنج

معروف تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا ہے کہ امریکہ سے پینگیں ڈالنے والے پاکستان کے لیے اس وقت ایران جنگ میں ملوث فریقین کے ساتھ بہ یک وقت سفارتی توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کی جنگ میں اب تمام خلیجی ممالک بھی بالواسطہ طور پر شامل ہو چکے ہیں۔
معروف انگریزی روزنامہ ڈان کے لیے اپنے تجزیے میں زاہد حسین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی زد میں آنے والے ایران نے نہ صرف خلیجی ممالک بشمول سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کیے ہیں بلکہ تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ یہ اڈے اس کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، اس لیے وہ اس کے جائز اہداف ہیں۔ اگرچہ خلیجی ممالک نے براہِ راست ایران کے حملوں کا جواب نہیں دیا، تاہم وہ عملاً ایک ایسی جنگ کا حصہ بن چکے ہیں جو بظاہر جلد ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔
زاہد حسین کے مطابق اس پھیلتے ہوئے تنازع نے خلیجی ممالک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور انہیں بھاری مالی نقصانات کا بھی سامنا ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان اور بحرین ایک ایسی جنگ میں پھنس گئے ہیں جو انہوں نے خود شروع نہیں کی۔
مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان ممالک نے امریکہ کو ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے روکنے کی کوشش کی تھی، مگر وہ ٹرمپ کو نہ روک سکے اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں کی زد میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان خلیجی ممالک نے نہ تو ایران کے خلاف امریکی جارحیت کی کھل کر مذمت کی اور نہ ہی ایرانی قیادت کے قتل پر واضح موقف اختیار کیا، کیونکہ ان کے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات اور سکیورٹی معاہدے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ یہ ممالک امریکہ میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کے بھی پابند ہیں اور اسرائیل کے ساتھ مل کر صدر ٹرمپ کی قیادت میں بنائے گئے متنازع بورڈ آف پیس کا بھی حصہ ہیں، جسے بعض حلقے امریکی عزائم کے پردے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
زاہد حسین کے مطابق ایران کی شدید جوابی کارروائی اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کا ذریعہ ہے، اور اس کی بندش سے خلیجی معیشتوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ 700 ملین سے 1.2 ارب ڈالرز تک کا تیل کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ فضائی حدود کی بندش کے باعث خلیجی ایئرلائنز کو بھی اربوں ڈالرز کا خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایرانی میزائل حملوں نے خلیجی ممالک میں ہوائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا، جس سے پروازوں کا نظام متاثر ہوا، سیاحت اور سرمایہ کاری میں کمی آئی، جبکہ دفاعی نظام پر بھی بھاری اخراجات آ رہے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے خلیجی ممالک میں بیرونی دنیا سے سرمایہ کاری کرنے والوں کا اعتماد بھی بری طرح مجروح ہوا ہے۔ ایران کے حملوں کو کاؤنٹر کرنے کے لیے دفاعی نظام اور انٹرسیپٹرز پر روزانہ اربوں ڈالرز خرچ ہو رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود خلیجی ممالک امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی کے باوجود خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔
زاہد حسین نے معروف امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کا مشورہ دیا ہے، جو ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے اور خطے کے لیے مزید خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ خلیجی ممالک نے جنگ کی ابتدا میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا، مگر اب بعض رپورٹس کے مطابق وہ ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے امریکہ پر زور دے رہے ہیں تاکہ اپنی تیل کی معیشت کو بچایا جا سکے۔ دوسری جانب امریکہ بھی ان ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اسکی فوجی مہم میں شامل ہوں۔ زاہد حسین کے مطابق امریکی سینیٹر لنڈسی گراہم نے بھی سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خلیجی ممالک اس جنگ میں شامل نہیں ہوتے تو اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، جو ایک قسم کی بالواسطہ دھمکی سمجھی جا رہی ہے۔
ادھر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلیجی ممالک میں مزید 2,500 امریکی میرینز کی تعیناتی کا اعلان کیا ہے، جس سے اس جنگ کے ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس وقت پہلے ہی خطے میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی موجود ہیں، اور مزید فوج کی آمد زمینی کارروائی کے امکان کو بڑھا رہی ہے۔ زاہد حسین نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اشارہ دیا ہے کہ ایران کے ممکنہ جوہری مواد کو حاصل کرنے کے لیے زمینی آپریشن کیا جا سکتا ہے، جو خطے کو ایک طویل اور تباہ کن جنگ میں دھکیل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورت حال پاکستان کے لیے نہایت پیچیدہ ہو چکی ہے، کیونکہ اس کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ موجود ہے۔ پاکستان اب تک محتاط توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ایک طرف وہ خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کرتا ہے اور دوسری طرف ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی کارروائیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔
خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کا جواز ختم کیوں ہو گیا؟
تاہم زاہد حسین کے مطابق اگر سعودی عرب براہِ راست ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہو جاتا ہے تو پاکستان کے لیے غیر جانبدار رہنا مشکل ہو جائے گا۔
پاکستان پہلے ہی سعودی عرب کی سلامتی کے لیے فوجی دستے تعینات کر چکا ہے اور اس نے عہد کیا ہے کہ اگر سعودی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ اس کا دفاع کرے گا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیر اعظم شہباز شریف حال ہی میں سعودی عرب کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے سعودی قیادت کے ساتھ علاقائی صورتحال پر بات چیت کی، تاہم اس ملاقات کی تفصیلات منظرِ عام پر نہیں آئیں۔
زاہد حسین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، اور اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے براہِ راست سیاسی اور سلامتی کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
