پاکستان نے کتےکےکاٹنے سےبچاؤکی ویکسین تیارکرلی

پاکستان نے پہلی بار مقامی سطح پر کتے کے کاٹنے سے بچاؤ کی انسانی ویکسین (ریبیز ویکسین) تیار کر لی ہے۔
ویکسین تیارکرنےکاسنگِ میل ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے عبور کیا ہے، جس نے مقامی طور پر حاصل کردہ ریبیز وائرسز سے "پیوڑفائیڈ، انیکٹیویٹڈ، لیوفلائزڈ” ویکسین تیار کی ہے۔
یہ ویکسین انسانی استعمال کے لیے مکمل طور پر پاکستان میں تیار کی گئی پہلی ویکسین ہے، اور اس وقت اس کی منظوری کے لیے مخصوص بیچز کلینیکل ٹرائلز کی تیاری کے مراحل میں ہیں۔
ڈاؤ یونیورسٹی کی جانب سے ابتدائی طور پر 2024 میں "DOW Rab” کے نام سے ویکسین کی خام خوراکیں متعارف کرائی گئیں، جن میں 30,000 خوراکیں تیار کی گئیں، جب کہ آئندہ مرحلے میں مزید 1,70,000 خوراکیں بنانے کا منصوبہ ہے۔
پاکستان ہر سال تقریباً 20 لاکھ ریبیز ویکسین درآمد کرتا ہے، جس پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ مکمل مقامی پیداوار کے بعد 2031 تک اس مالیاتی دباؤ میں واضح کمی آئے گی۔ اس ویکسین کا استعمال خاص طور پر دیہی علاقوں میں متوقع ہے، جہاں کتے کے کاٹنے کے واقعات عام ہیں۔
