پاکستان کا افغانستان سے کوئی ذاتی یا سیاسی مفاد نہیں،وزیردفاع

وزیردفاع خواجہ آصف کاکہناہے کہ پاکستان کا افغانستان سے کوئی ذاتی یا سیاسی مفاد نہیں، اور یہ تعلقات ہمیشہ یکطرفہ کوششوں کے باوجود مستحکم نہیں رہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کانجی ٹی وی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ کہ گزشتہ 3 سال میں پاکستان نے افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن یہ تعلقات کبھی قابل رشک ثابت نہیں ہوئے۔پاکستان نے افغانوں کی 50 سالہ مہمان نوازی کی، لیکن اس کے باوجود کوئی مثبت ردعمل حاصل نہیں ہوا۔

وزیر دفاع نے کہاکہ افغان حکومت اور عوام کا موجودہ رویہ نہ تو ماضی میں قابل قبول تھا، نہ آج ہے اور نہ مستقبل میں قابل قبول ہوگا۔ پاکستان نے بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کی کئی کوششیں کیں۔

خواجہ آصف نے مزید کہاکہ افغانستان نے ہمیشہ دہشتگردوں کی پشت پناہی کی، اور پاکستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان اسی پشت پناہی کی فرنچائز ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان کی حمایت نہ ہوتی تو یہ دہشتگرد گروہ کب کے ختم ہو چکے ہوتے۔ موجودہ صورتحال کو منطقی انجام تک پہنچانا ضروری ہے۔

وزیر دفاع نے کابل حکومت کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے کہاکہ افغان حکومت پر بھروسہ کرنا خطرناک ہے۔

توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں دنیا بھر میں اثرانداز ہو رہی ہیں اور پاکستان اس میں اکیلا نہیں ہے۔

انہوں نے ایران کی صورت حال اور آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر سامان کی ترسیل میں تاخیر ہو تو مہنگائی خود بخود بڑھ جاتی ہے۔

 

Back to top button