پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے پر آمادہ ہو چکا، نجم سیٹھی کا دعویٰ

پاکستان کے لیے اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرنا ہمیشہ ایک حساس اور نازک موضوع رہا ہے۔ لیکن سینئر تجزیہ کار نجم سیٹھی کے اس حالیہ دعوے نے حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے کہ پاکستانی فوجی اور سویلین قیادت نے امریکی دباؤ پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اس وقت اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے سخت ترین بین الاقوامی دباؤ کی زد میں ہے۔ یہ دباؤ اب براہِ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آ رہا ہے۔ نجم سیٹھی نے اشارتا بتایا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی حالیہ ملاقات کے دوران امریکی صدر نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر سنجیدگی سے غور کرے۔ ان کے مطابق امریکہ کا مؤقف یہ ہے کہ اگر مسلم دنیا کے باقی ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرتے ہیں، تو پاکستان کو بھی اسی صف میں آنا پڑے گا۔
نجم سیٹھی کے مطابق، امریکی صدر نے واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ اگر وہ باقی مسلمان ممالک کو اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرنے پر آمادہ کر لیتے ہیں، تو پاکستان کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نجم سیٹھی کا یہ دعویٰ محض ایک قیاس نہیں، بلکہ اس حقیقت کا غماز ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو نئی جیوپولیٹیکل صف بندیوں کے تحت شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ سیٹھی کا کہنا تھا کہ امریکہ نے مسلم دنیا میں "ابراہم اکارڈ” کے تحت پہلے ہی کئی ممالک — جیسے کہ متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش — کو اسرائیل کو تسلیم کرنے پر قائل کر لیا ہے، اور اب اگلا مرحلہ دیگر اسلامی ممالک کو قائل کرنے کا ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان صرف اس بنیاد پر اسرائیل کو تسلیم کر لے کہ عرب دنیا اسے تسلیم کرنے جا رہی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا "ہم تو اسرائیل سے ہزارون میل دور بیٹھے ہیں” والا پرانا موقف پاکستان کے تاریخی مؤقف، اصولی موقف اور نظریاتی شناخت کے ساتھ انصاف کرتا ہے؟
نجم سیٹھی نے زور دے کر کہا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ حلقے اسرائیل اور بھارت کے دفاعی تعلقات سے سخت پریشان ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان بھی اسرائیل سے براہِ راست تعلقات قائم کر لے تو نہ صرف بھارت اور اسرائیل کا اتحاد توڑا جا سکتا ہے بلکہ پاکستان کو سکیورٹی فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ نکتہ بظاہر حقیقت پسندانہ ہے، مگر ایک سوال ابھرتا ہے: کیا خارجہ پالیسی صرف مفادات کے تحت بننی چاہیے، یا کچھ اصول بھی اہم ہوتے ہیں؟ کیا نظریاتی شناخت، بین الاقوامی ساکھ، اور فلسطینی کاز کیساتھ یکجہتی جیسے عوامل اب صرف "پرانے نعرے” بن کر رہ جائیں گے؟
نجم سیٹھی کے مطابق اب تو ایسی اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ حماس اور حزب اللہ جیسی مزاحمتی تحریکوں کو بھی "کسی نہ کسی سطح پر” قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔ ان کے مطابق اگر ایران بھی عالمی دباؤ میں آ گیا تو پھر پاکستان جیسے ممالک کے لیے "پیچھے ہٹنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہے گی”۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ مؤقف پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ایک ایسی راہ پر لے جا رہا ہے جہاں قومی مفادات کی آڑ میں نظریاتی موقف قربان ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر پاکستان کی جانب سے فلسطین کا مسئلہ اب "ہمارا مسئلہ” نہیں والا موقف اپنایا جاتا ہے تو پھر ہم کب اور کہاں اپنی خارجہ پالیسی میں اصول کو اہمیت دیں گے؟
نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا، تاہم امکان ہے کہ پاکستانی قیادت نے "پس پردہ” اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کمٹمنٹ دے دی ہے۔ اور جب وقت آئے گا، تو پاکستان بھی باقی مسلم دنیا کی لائن میں کھڑا ہوگا۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر پاکستان واقعی اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے تو یہ صرف ایک سفارتی فیصلہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ قومی شناخت، اصولی مؤقف، اور خارجہ پالیسی کے بنیادی ڈھانچے میں ایک زلزلہ ثابت ہو سکتا ہے۔
مبصرین کہتے ہیں کہ یہ کہنا آسان ہے کہ "اگر باقی مسلم ممالک مان جائیں تو ہم بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے”, لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ "ہم اصول پر کھڑے ہیں، چاہے باقی کوئی اور کھڑا نہ ہو”. ایسے میں اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ہماری خارجہ پالیسی اب صرف عالمی دباؤ اور مفادات کی غلام بننے جا رہی ہے یا ہم اب بھی کسی اصول یا نظریے کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں؟
