پاکستان اور کرغزستان کے درمیان باہمی تجارت 100 ملین ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

ڈپٹی وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار نے کرغزستان کے صدر سادِر ژاپاروف سے ملاقات کی، جس میں پاکستان نے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
جولائی میں بین الحکومتی کمیشن کے اجلاس کے دوران دوطرفہ تجارت کو 100 ملین ڈالر تک بڑھانے کے معاہدے کی توثیق کی گئی۔ پاکستان اور کرغیزستان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے بھی رکن ہیں، جو 10 رکنی یوریشیائی سیکیورٹی و سیاسی تعاون کا اہم فورم ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق صدر ژاپاروف بدھ کے روز دو روزہ پہلے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ 20 برسوں میں یہ کسی کرغیز صدر کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔
جمعرات کو جاری کیے گئے بیان میں دفترِ خارجہ نے بتایا کہ اسحٰق ڈار نے صدر سادِر ژاپاروف اور ان کے وفد کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی جانب سے گرمجوشی کا پیغام پہنچایا۔ اس موقع پر انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی نیک خواہشات بھی پیش کیں۔
اسحٰق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر پاکستان–کرغیز تعاون کو ہر شعبے میں مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے صدر ژاپاروف کو پاکستان کی قیادت سے طے شدہ ملاقاتوں، دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے مجوزہ روابط اور دوطرفہ تعاون کے فروغ سے متعلق گفتگو سے بھی آگاہ کیا۔
گزشتہ روز اسحٰق ڈار نے دفترِ خارجہ میں کرغز وزیرِ خارجہ زینبیک کولو بایف سے الگ ملاقات بھی کی، جس میں باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں پر تبادلۂ خیال ہوا۔
وزیرِ اعظم ہاؤس کے ایک ذریعے کے مطابق صدر ژاپاروف کے دورے کے دوران تجارت، سرمایہ کاری، آئی ٹی، قدرتی وسائل اور دفاع کے شعبوں میں متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہونے کی توقع ہے۔
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان برسوں پر محیط تعلقات گہرے ثقافتی، تاریخی اور روحانی رشتوں پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک نے حالیہ مہینوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے، جن میں اگست میں کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور ڈیجیٹل فنانس پر اشتراکِ عمل کا فیصلہ شامل ہے۔
