ملک بھر میں 86 واں یوم پاکستان روایتی جوش و جذبے کیساتھ منایا جا رہا ہے

آج ملک بھر میں 86 واں یوم پاکستان روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے، اور اس موقع پر عام تعطیل ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں دن کا آغاز 31 توپوں کی سلامی سے ہوا، جبکہ صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ مساجد میں وطن عزیز کی ترقی، خوشحالی اور سالمیت کے لیے دعائیں کی گئیں۔

توپوں کی سلامی کی تقریب میں موجود پاک فوج کے جوانوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فضا اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ افسران اور جوانوں نے ملک کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔

اس سال مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کے پیش نظر ملک میں کفایت شعاری کی پالیسی کے تحت یوم پاکستان سادگی سے منایا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے مرکزی پریڈ منسوخ کر دی گئی جبکہ پرچم کشائی کی تقریب بھی سادہ اور پروقار انداز میں منعقد کی گئی۔

یوم پاکستان کے موقع پر مزار اقبال پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب ہوئی، جس میں پاکستان ایئر فورس کے چاک و چوبند دستے نے شاندار مارچ پاسٹ پیش کیا۔ اس تقریب کے دوران پاک فضائیہ نے مزارِ اقبال کی سیکیورٹی سنبھالی، جبکہ پہلے یہ ذمہ داری ستلج رینجرز کے پاس تھی۔

مہمانِ خصوصی ائیر وائس مارشل محمد شاہد افضل نے مزار اقبال پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے۔

وفاقی دارالحکومت کی طرح ملک بھر میں پرچم کشائی کی تقریبات بھی سادگی اور کفایت شعاری کے تحت منعقد کی جا رہی ہیں۔

تاریخی حوالے سے، پاکستان میں پہلی مرتبہ یوم پاکستان 23 مارچ 1959 کو منایا گیا۔ قیام پاکستان کے بعد 1948 سے 1955 تک یہ دن معمول کے مطابق منایا جاتا رہا۔ قیام پاکستان کے سات سال بعد، صدر سکندر مرزا اور وزیراعظم چودھری محمد علی کی قیادت میں 23 مارچ 1956 کو ملک کا اپنا نیا آئین نافذ کیا گیا۔

نیا آئین نافذ کرنا بڑی کامیابی تھی، اور حکومت نے اسے ہمیشہ کے لیے یادگار بنانے کے لیے اس دن کو یوم جمہوریہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا۔

Back to top button