پاکستان نے جنگ بندی کا منصوبہ امریکا اور ایران کو پیش کردیا

 

 

 

پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے فوری خاتمے اور جامع معاہدے کا منصوبہ امریکا اور ایران کو پیش کر دیا ہے اور معاہدے کو ’اسلام آباد اکارڈ‘ کا نام دیا جارہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے کےلیے پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دو مرحلوں پر مشتمل امن منصوبہ سامنے آگیا ہے،جس کےتحت فوری جنگ بندی اور بعد ازاں جامع معاہدے کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے،تاہم تاحال کسی فریق کی جانب سے باضابطہ منظوری سامنے نہیں آئی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے بتایا ہےکہ مجوزہ منصوبے کےتحت نہ صرف فوری جنگ بندی ممکن ہے لکہ اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو بھی دوبارہ کھولا جاسکتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فریم ورک پاکستان نے تیار کیا اور گزشتہ رات ایران اور امریکا کو باضابطہ طور پر ارسال کیا۔اس منصوبے میں دو مرحلے شامل ہیں: پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جب کہ دوسرے مرحلے میں ایک پائیدار اور جامع امن معاہدے کی تشکیل شامل ہے،تمام نکات پر آج ہی اتفاق رائے ضروری ہے، جب کہ ابتدائی سمجھوتےکو مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کی شکل دےکر پاکستان کے ذریعے الیکٹرانک طور پر حتمی شکل دی جائےگی، کیوں کہ اس عمل میں پاکستان واحد رابطہ کار کا کردار ادا کررہا ہے۔

خبر رساں ادارے نے اتوار کو رپورٹ کیا تھاکہ امریکا، ایران اور علاقائی ثالث ممالک 45 روزہ جنگ بندی پر مشتمل دو مرحلوں کے ایک معاہدے پر غور کررہے ہیں، جو بالآخر مستقل امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔یہ معلومات امریکی،اسرائیلی اور علاقائی ذرائع کے حوالے سے سامنے آئی تھیں۔

ذرائع کےمطابق پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رات بھر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس،صدارتی ایلچی وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطہ رکھا،منصوبے کے تحت فوری جنگ بندی کے ساتھ آبنائے ہرمز کو کھولنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ حتمی معاہدے کی تکمیل کےلیے 15 سے 20 دن کی مدت رکھی گئی ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کو غیررسمی طور پر “اسلام آباد اکارڈ” کا نام دیاگیا ہے،جس کے تحت حتمی بالمشافہ مذاکرات اسلام آباد میں متوقع ہیں۔

تاحال نہ امریکی اور نہ ہی ایرانی حکام نے اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ ردعمل دیا ہے، جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ایرانی حکام پہلے ہی واضح کرچکے ہیں کہ وہ مستقل جنگ بندی چاہتےہیں اور اس کےلیے امریکا یا اسرائیل کی جانب سے آئندہ کسی بھی حملے کےخلاف ضمانت کے خواہاں ہیں،ان کےمطابق پاکستان،ترکیہ اور مصر سمیت مختلف ممالک کی جانب سے ثالثی پیغامات موصول ہوچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ حتمی معاہدے میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی شامل ہوگی،جس کے بدلے اسے اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی واپسی کی پیشکش کی جاسکتی ہے۔تاہم دو پاکستانی ذرائع کےمطابق وسیع رابطوں کے باوجود ایران نے ابھی تک کسی حتمی اتفاق پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

ایران کا جواب نہ صرف مؤثر بلکہ خوف ناک ہوگا: ایرانی وزارت خارجہ

ایک ذریعے نے بتایاکہ ایران کی جانب سے تا حال کوئی واضح جواب موصول نہیں ہوا، جب کہ پاکستان،چین اور امریکا کی مشترکہ حمایت سے پیش کی گئی عارضی جنگ بندی تجاویز پر بھی کوئی یقین دہانی سامنے نہیں آئی۔چینی حکام نے بھی اس معاملے پر فوری رد عمل دینےسے گریز کیا ہے۔

 

Back to top button