دباؤ کے باوجود پاکستان آئی سی سی کو ڈنڈا دینے کو تیار

پاکستان کی جانب سے ٹی20 ورلڈ کپ کے ممکنہ بائیکاٹ کے پیش نظر بھارتی میڈیا نے مودی سرکار کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستان کو خوفزدہ کرنے کے لیے آئی سی سی کی جانب سے پی سی بی کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکیاں تیز کر دی ہیں، تاہم پاکستانی فیصلہ ساز گیدڑ بھبکیوں کے باوجود اپنے اصلی موقف پر ڈٹے ہوئے نظر آتے ہیں اور آئی سی سی کو ڈنڈا دینے کے لیے تیار ہیں۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق اس وقت انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور بھارتی کرکٹ اسٹیبلشمنٹ شدید تشویش میں مبتلا ہیں، وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی عدم شرکت نہ صرف اس ایونٹ کا بیڑا غرق کر دے گی بلکہ آئی سی سی کے لیے بھی ایک بڑا معاشی جھٹکا ثابت ہوگی۔اس وقت بھارتی میڈیا مودی سرکار کے ایما پر یہ دعوے کر رہا ہے کہ اگر پاکستان ٹی20 ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرتا ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور اس کے اثرات پاکستان سپر لیگ تک بھی جا سکتے ہیں۔ بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا ہے کہ آئی سی سی کی ہدایت پر مختلف کرکٹ بورڈز اپنے کھلاڑیوں کو پی ایس ایل میں شرکت کی اجازت دینے سے انکار کر سکتے ہیں، جبکہ پاکستان کی دستبرداری کی صورت میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سخت اور سنگین کارروائی کر سکتی ہے۔
بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کے حالیہ بیانات سے ناخوش ہے، جن میں انہوں نے بنگلہ دیش کے موقف کی کھل کر حمایت کی تھی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذرائع ان بھارتی دعوؤں کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کر چکے ہیں کہ آئی سی سی کھلاڑیوں کو مختلف لیگز کھیلنے کے لیے این او سی جاری نہیں کرتی، بلکہ یہ اختیار کھلاڑیوں کے اپنے متعلقہ ہوم بورڈز کے پاس ہوتا ہے۔ اسی طرح ایشیا کپ کی میزبانی کا فیصلہ بھی آئی سی سی نہیں بلکہ ایشین کرکٹ کونسل کرتی ہے، جس کی سربراہی اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق آئی سی سی دو طرفہ سیریز کا شیڈول بھی تیار نہیں کرتی بلکہ یہ فیصلے باہمی مشاورت سے متعلقہ ممالک خود کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آئی سی سی آخر پاکستان کے خلاف کس بنیاد پر کوئی یکطرفہ کارروائی کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے بنگلہ دیش کو ٹی20 ورلڈ کپ سے نکالنے کے فیصلے کے ردعمل میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان یا تو ایونٹ کا مکمل بائیکاٹ کرے گا یا پھر بھارت کے خلاف اپنے تمام میچز کھیلنے سے انکار کر دے گا۔ اگر پاکستانی ٹیم کو حکومتی سطح پر ایونٹ میں شرکت سے روکا جاتا ہے تو عملی طور پر آئی سی سی کے پاس پاکستان کرکٹ بورڈ کے خلاف کسی کارروائی کا جواز باقی نہیں رہتا۔ ماضی میں اس کی واضح مثالیں موجود ہیں، جب بھارت سمیت دیگر ٹیموں نے اپنی حکومتوں کے مشورے پر عمل کیا اور ان کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی نہیں کی گئی۔
اسی لیے بھارتی میڈیا کے وہ دعوے، جن میں کہا جا رہا ہے کہ ورلڈ ٹی20 سے دستبرداری کی صورت میں پاکستان پر پابندیاں عائد کی جائیں گی، زمینی حقائق کے برعکس نظر آتے ہیں۔ کرکٹ ایکسپرٹس کے مطابق بنیادی طور پر پاکستان کے ورلڈ کپ میں حصہ نہ لینے کی صورت میں اس ٹورنامنٹ کا مجموعی ریونیو شیئر تقریباً 50 فیصد تک گرنے کا خدشہ ہے، کیونکہ کسی بھی عالمی ایونٹ میں پاکستان اور بھارت کے میچز مجموعی آمدنی کا تقریباً نصف حصہ بناتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ میں شامل نہیں ہوتا تو آئی سی سی کو مالی طور پر انتہائی بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
ادھر وفاقی حکومت کی جانب سے ملنے والے اشاروں سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پاکستانی ٹیم کو بھارت کی میزبانی میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت نہیں ملے گی۔ باخبر ذرائع کے مطابق اگر شرکت کی اجازت دی بھی گئی تو امکان ہے کہ پاکستان کو بھارت کے خلاف میچ کھیلنے سے روک دیا جائے گا۔ دونوں صورتوں میں سب سے زیادہ معاشی نقصان انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو ہوگا، جس کی قیادت اس وقت بھارتی کرکٹ بورڈ کے طاقتور سربراہ جے شاہ کے ہاتھ میں ہے۔ یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی درخواست اور پاکستان کے اصرار کے باوجود آئی سی سی نے بنگلہ دیش کو متبادل وینیو دینے سے انکار کرتے ہوئے اسے ورلڈ کپ سے ہی باہر کر دیا اور اس کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا۔ ناقدین اس فیصلے کو عالمی کرکٹ کے تجارتی توازن کے لیے تباہ کن قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ معاشی نقطۂ نظر سے پاکستان کی عدم شمولیت یا بھارت کے خلاف میچز نہ ہونے کی صورت میں آئی سی سی کا دہائیوں پر محیط کاروباری ماڈل شدید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
آئی سی سی کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ٹی وی نشریاتی حقوق ہیں، اور یہی وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کی غیر موجودگی سب سے بڑا خلا پیدا کرے گی۔ پاک بھارت میچ کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ دیکھا جانے والا کرکٹ مقابلہ تصور کیا جاتا ہے۔ کرکٹ مبصرین کے مطابق اگر پاکستان ایونٹ سے باہر رہا یا بھارت کے خلاف میچ نہیں کھیلتا تو آئی سی سی کو 300 ملین ڈالر سے 500 ملین ڈالر تک کے مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اندازوں کے مطابق صرف ایک پاک بھارت میچ ختم ہونے سے اشتہارات کی مد میں 100 سے 150 ملین ڈالر تک کے براہ راست نقصان کا خدشہ ہے۔ یہ نقصان صرف براڈکاسٹنگ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سپانسرشپس، مارکیٹنگ معاہدوں اور مستقبل کے میڈیا رائٹس کی قدر بھی شدید متاثر ہو گی۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق آئی سی سی کے بڑے اسپانسرز، جن میں پیپسی، کوکا کولا، ایمریٹس اور دیگر ملٹی نیشنل کمپنیاں شامل ہیں، بنیادی طور پر جنوبی ایشیا کی مارکیٹ کو مدنظر رکھ کر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ پاکستان کی غیر موجودگی میں ان کی رسائی محدود ہو جائے گی، جس سے موجودہ اور مستقبل کے معاہدے خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
اسی طرح ورلڈ کپ میچز کے ٹکٹوں کی فروخت، میزبان ملک میں سیاحت، ہوٹلنگ اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کو بھی شدید دھچکا لگنے کا امکان ہے، کیونکہ پاکستان خصوصاً بھارت کے خلاف میچز ہمیشہ سٹیڈیمز کو مکمل طور پر بھر دیتے ہیں۔ اس صورت حال میں آئی سی سی کے سربراہ جے شاہ کی ساکھ بھی دباؤ کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ انہوں نے عالمی ادارے کو غیر جانبدار رکھنے کے بجائے بھارتی مفادات کے تابع کر دیا ہے۔
پاکستان ورلڈ کپ نہ کھیلا تو ICC کا جنازہ کیوں اٹھ جائے گا؟
اس صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی کے درمیان اہم ملاقات بھی ہوئی ہے، جس میں ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت یا عدم شرکت کے حوالے سے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ محسن نقوی نے وزیراعظم کو آئی سی سی، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور ورلڈ کپ کی حالیہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ملاقات کے بعد محسن نقوی نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے تمام ممکنہ آپشنز زیر غور رکھے جائیں اور حتمی فیصلہ جمعہ یا آئندہ پیر تک کیا جائے گا۔
