نواز کو نکالنے اور عمران کو لانے کے لئے ملک داؤ پر لگا دیا گیا

سینئر صحافی اور اینکر پرسن جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ہمیں آج یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نکالنے اور عمران خان کو وزیراعظم بنانے کے لیے ہماری اسٹیبلشمینٹ نے پورے ملک کو داؤ پر لگا دیا تھا لیکن اس شخص نے اقتدار میں آ کر ملک کو برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نواز شریف کو نکالنے والے عمران خان کو لانے میں کامیاب تو ہو گئے لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چودھری لکھتے ہیں کہ دنیا میں نادان قومیں اور بیوقوف لوگ ہمیشہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کو تیار نہیں ہوتے اور ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ ہم بے وقوف بھی ہیں اور نادان بھی۔ اگر آپ کو یقین نہ آئے تو دیکھ لیجیے ہم آج بھی کیا کر رہے ہیں؟ ہم آج بھی سلیکشن کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں اور ای دوسرے کو سلیکٹ کر رہے ہیں۔ وزرا اعظم ایک کم زور سلیکٹر کو اوپر لے آتے ہیں اور سلیکٹر کم زور وزیراعظم کا بندوبست کر لیتے ہیں حالانکہ یہ دنیا کی مانی ہوئی حقیقت ہے کم زور لوگ کبھی مضبوط لوگوں کو اپنا ماتحت نہیں بناتے۔ وہ ہمیشہ ’’یس سر‘‘ اور خاموش سے احکامات سننے والوں کو پسند کرتے ہیں اور اس ملک میں مسلسل یہی عمل ہمیشہ سے جاری ہے۔

جاوید چوہدری بتاتے ہیں کہ عمرانخان بطور وزیراعظم کم زور بھی تھا، ناتجربہ کار بھی اور انا پرست بھی لہٰذا اس نے اعلیٰ عہدوں پر چن چن کر کم زور‘ نا تجربہ کار اور انا پرست تعینات کر دیے۔

آپ آج کسی بھی شعبے میں چلے جائیں آپ کو وہاں ٹاپ پر کوئی نہ کوئی انا پرست‘ ناتجربہ کار اور کمزور شخص براجمان ملے گا اور وہ بھی وہی کر رہا ہو گا جو روزانہ وزیراعظم ہاؤس میں ہوتا ہے، یعنی آپ اس امید پر جھوٹ بولتے رہیں کہ یہ کسی نہ کسی دن سچ ثابت ہوجائے گا، آپ بے شک آنکھیں بند کر کے پاکستان کو دنیا کا سستا ترین ملک قرار دے دیں، آپ بے شک ڈالر کو 182 روپے پر لے جائیں یا گیس 200 فیصد، بجلی 52 فیصد، اور پٹرول کی قیمت 60 فیصد بڑھا دیں۔ آپ بے شک مہنگائی کو 12.3 فیصد تک لیجائیں، آپ سے کوئی پوچھے گا اور نہ ہی سوال کرے گا اور اگر کوئی یہ گستاخی کرے گا تو آپ مسکرا کر جواب دے دیں کہ "ابھی ہمارے سر سے ہاتھ نہیں اٹھا کیونکہ ادارے 20 سال کی پلاننگ کیا کرتے ہیں‘‘

فارن فنڈنگ کیس، سکروٹنی کمیٹی رپورٹ پبلک نہ کرنے کی استدعا

جاوید چوہدری پوچھتے ہیں ہیں کہ کیا یہ تھی آپ کی 20 سال کی پلاننگ اور کیا یہ تھا وہ ہاتھ؟ آپ ساڑھے 3 برسوں میں دیکھ لیں کہ کوئی ایسا شخص اپنی سیٹ پر برقرار رہا ہے جس نے حکومت کو جگانے کی غلطی کر دی ہو۔ آپ صرف چیف الیکشن کمشنر کی ہی مثال لے لیں۔ سکندر سلطان راجہ نے صرف ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں اپنے 20 آفیسرز کی گمشدگی کا نوٹس لیا تھا اور پھر ان کے ساتھ کیا کیا نہیں ہوا؟ آج ایک رانا شمیم بول رہا ہے۔
یہ سچے ہیں یا جھوٹے آپ چند لمحوں کے لیے یہ بحث بھول جائیں اور یہ سوچیں اگر ایسے آٹھ دس لوگ بول پڑے یا کسی استعمال شدہ ٹشو پیپر نے اعترافی بیان دے دیا تو یہ ریاست کہاں ہوگی؟ ہمارا بھرم کہاں کہاں ٹوٹے گا لہٰذا میری درخواست ہے کہ آپ لوگ ایک بار حالات کو سنجیدہ لے لیں۔ آپ بے شک آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن کر دیں لیکن اس ملک کو سنبھال لیں۔ آپ ایک دوسرے کو سلیکٹ کرنا بند کر دیں۔

جاوید چوہدری پاکستانی سیاست کی ہانڈی میں مسلسل ڈوئی مارنے والی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مشوری دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسکے کرتا دھرتا ایک مرتبہ حمود الرحمن رپورٹ کھولیں، اسے پڑھیں، غلطیوں کا اعتراف کریں اور آیندہ کے لیے سیاست سے توبہ کر لیں، ورنہ یاد رکھا جائے کہ ہم جس راستے پر چل رہے ہیں وہ اپنے ایٹمی پروگرام سے بھی محروم کر دے گا اور ہمارے وزیراعظم کا فیصلہ بھی آئی ایم ایف کیا کرے گا۔ بقول جاوید چوہدری، وہ وقت اب زیادہ دور نہیں اور سگر وہ وقت آگیا تو ہم ایک نیا حمود الرحمن کمیشن بنانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس حمود الرحمن کی سقوط ڈھاکہ بارے 23 اکتوبر 1974 کو جمع کروائی گئی رپورٹ پاکستانی تاریخ کا پہلا اور شاید آخری بے لاگ جائزہ تھا، جوید چوہدری کہتے ہیں کہ ہم اگر آج بھی اپنے ماضی سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف حمود الرحمن رپورٹ پڑھ لینی چاہیے اور پھر اس بنگالی جج کی سفارشات پر عمل کر لینا چاہیے۔ ایسا کرنے سے پاکستان بچ جائے گا، ہم اگر واقعی اس ملک سے وفادار ہیں تو ہمیں فوری طور پر ان کی رپورٹ نکال کر اپنا حال ٹھیک کرنا چاہیے، جسٹس حمود الرحمن نے قوم کو بتایا تھا کہ مارشل لاء ملکوں کو بربادی کر دیتے ہیں، ملک صرف سیاست دان ہی چلا سکتے ہیں، جنرل یحییٰ خان اگر شیخ مجیب الرحمن کو حکومت بنانے کی اجازت دے دیتا تو ملک نہ ٹوٹتا، مشرقی پاکستان میں فوج کشی بہت بڑی غلطی تھی، فوج کبھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی اور مصنوعی قیادت کے ذریعے ملک نہیں چلایا جا سکتا وغیرہ۔ بقول جاوید چوہدری، افسوس کہ ہم نے ہر اس پاکستانی کو ملک سے مار بھگایا ہے جس کی نسوں میں پاکستان دوڑتا تھا، یہاں اب صرف وہ لوگ رہ گئے ہیں جن کی آنکھیں تو ہیں مگر وہ دیکھتے نہیں ہیں، کان تو ہیں لیکن وہ سنتے نہیں ہیں اور اگر ان سے سچی بات کی جائے تو وہ جواب میں الٹا آپ ہی کو غدار قرار دے دیتے ہیں، یہ ہے آج کا نیا پاکستان۔

Back to top button