پاکستان کا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم

ترجمان دفتر خارجہ نے غزہ جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان معاہدے پر فوری اور مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرتا ہے،امید ہےکہ معاہدہ مستقل جنگ بندی کا باعث بنےگا۔

دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امید کرتے ہیں کہ معاہدے سے انسانی امداد کو بڑھانے میں مدد ملےگی، اسرائیلی افواج کی اندھا دھند طاقت کے استعمال سے لا تعداد جانوں اور املاک کا نقصان ہوا ہے، لاکھوں بےگناہ فلسطینی بےگھر ہوچکے ہیں، اسرائیل کےتوسیع پسندانہ عزائم نے پورےخطے کو غیرمستحکم کردیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کاکہنا تھاکہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے منصفانہ،جامع اور پائیدار حل کےلیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

حماس نے غزہ جنگ بندی کیلئےمعاہدے کی منظوری دیدی

واضح رہےکہ حماس اور اسرائیل میں جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ طے پاگیا ہے،اس حوالے سے قطری وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان بن جاسم الثانی نے اعلان کیاہے۔

غزہ میں جنگ بندی کا عمل 3 مراحل پر مشتمل ہے،پہلے مرحلےمیں 33 اسرائیلی اور 50 فلسطینی قیدی رہا ہوں گے،اسرائیلی فوج غزہ کے شہری علاقوں اور رفاہ بارڈر سے پیچھے ہٹےگی، دوسرا مرحلہ جنگ بندی کے 16 روز بعد شروع ہو گا، دوسرےمرحلے میں مزید قیدیوں کی رہائی کےلیے اقدامات کیے جائیں گے،تیسرے مرحلے میں غزہ کی تعمیر نو،انتظامی امور کے معاملات طےکیے جائیں گے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے بھی غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔

سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹیریس نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اس معاہدے کے نتیجے میں قیدیوں اور یرغمالیوں کو رہا کیا جائےگا اور امداد کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی۔

انتونیو گوٹیریس نے کہاکہ جنگ بندی معاہدے کےبعد غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل بھی شروع کر دی گئی ہے۔

ان کاکہنا تھاکہ سیکڑوں امدادی ٹرک صلاح الدین اسٹریٹ کے راستے جنوبی غزہ پٹی میں داخل ہوگئےہیں۔

Back to top button