دبئی کے ایئر شو میں جہاز کی تباہی سے پہلے پاک انڈیا ہینڈ شیک

پاکستانی اور بھارتی افواج کے درمیان مئی میں ہونے والی جنگ کے نتیجے میں دونوں ممالک کے کرکٹرز اب میچ کے دوران ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کی بھی روادار نہیں، لیکن فضائی جنگ لڑنے والے پاکستانی اور بھارتی ایئر فورس آفیسرز نے دبئی میں ہونے والے ائیر شو میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر سب کو سرپرائز کر دیا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان رواں برس مئی میں ہونے والی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کرکٹ کے میدانوں سے لے کر سوشل میڈیا تک نمایاں ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایشیا کپ کے میچ کے دوران بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو نے پاکستانی کپتان سلمان علی آغا سے ٹاس کے وقت ہاتھ نہیں ملایا اور میچ کے اختتام پر بھی روایتی ہینڈ شیک سے گریز کیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ بھارتی حکام کی جانب سے انہیں ہینڈ شیک سے منع کیا گیا تھا۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جن ممالک کی فوجیں حال ہی میں فضائی محاذ پر آمنے سامنے رہیں، اُن کی ایئر فورسز کے افسران دبئی ایئر شو میں ایک دوسرے سے خوشگوار ماحول میں ملتے اور تصاویر بنواتے دکھائی دیے۔
دبئی ایئر شو کی کچھ تصاویر اس وقت سوشل میڈیا پر بحث کا مرکز بنی ہوئی ہیں جن میں بھارتی ایئر فورس کے اہلکار پاکستانی پویلین کے قریب پاکستان ایئر فورس کے افسران سے گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ تصاویر میں بھارتی افسران جے ایف-17 تھنڈر طیاروں کے سامنے تصاویر اور سیلفیاں بنواتے بھی نظر آتے ہیں۔ پاکستان ایئر فورس کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ بھارتی ایئر فورس اور نیوی کے افسران واقعی جے ایف-17 تھنڈر کے سامنے تصاویر بنواتے رہے۔
یاد رہے کہ مئی میں ہونے والی جنگ اور فضائی جھڑپوں کے بعد پاکستان نے بھارت کے چھ طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا جبکہ بھارت نے یہ جھوٹا دعوی کیا تھا کہ اس نے بھی پاکستان کے کئی طیارے تباہ کیے تھے۔ دونوں ممالک کی ایئر فورسز متعدد مرتبہ آمنے سامنے آ چکی ہیں اور ایک دوسرے پر فضائی برتری کے دعوے کرتی آئی ہیں۔ پاکستان ایئر فورس کے ڈپٹی چیف آف ایئر اسٹاف آپریشنز نے بھی جنگ کے بعد کہا تھا کہ دونوں فضائی افواج ایک دوسرے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی معترف ہیں اور ہر ملک کی ایئر فورس اپنے وطن کے دفاع کی ذمہ دار ہے۔
دبئی ایئر شو کی تصاویر پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین پاکستانی اور بھارتی ایئر فورس آفیسرز کی جانب سے ہاتھ ملانے اور اکٹھے تصاویر کھنچوانے کو پیشہ ورانہ تعلق کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ اسے پاکستان کی فضائی برتری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین ٹیکٹیکل ٹیپو، امن سنگھ چنا اور سلیم چوہدری نے دونوں ملکوں کے افسران کی ملاقات کو مثبت قرار دیا، جبکہ این کے نامی صارف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’کرکٹرز ہاتھ نہیں ملاتے لیکن انڈین ایئر فورس کے افسران پی اے ایف پویلین کے قریب کھڑے ہیں۔‘‘
ایک اور سوشل میڈیا صارف ہانیہ بتول نے بھارتی افسران کی جے ایف-17 بلاک تھری کے سامنے تصاویر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’لڑائی صرف آسمانوں پر ہوتی ہے، گراونڈ پر صرف ایوی ایشن کا جنون ہے۔‘‘ یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کی ایئر فورس کے درمیان ماضی میں بھی پیشہ ورانہ روابط کی مثالیں ملتی ہیں۔ 1965 کی جنگ کے بعد انڈین ایئر چیف مارشل ارجن سنگھ نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا تھا جہاں انکی ملاقات تب کے پاکستان ایئر فورس کے سربراہ ائیر مارشل نور خان سے ہوئی۔ دونوں افسران تقسیمِ ہند سے قبل رائل انڈین ایئر فورس میں کورس میٹ بھی رہ چکے تھے۔
مولانا فضل الرحمٰن کو اپوزیشن اتحاد کا سربراہ بنائے جانے کا امکان
یاد رہے کہ دبئی ایئر شو میں پاکستان ایئرو ناٹیکل کمپلیکس نے جے ایف-17 بلاک تھری طیارے اور میزائل نمائش کے لیے رکھے ہیں جبکہ جے ایف-17 نے دورانِ شو فضائی کرتب بھی پیش کیے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ایک دوست ملک نے جے ایف تھنڈر کی خریداری کے لیے ایم او یو بھی سائن کیا ہے۔ 17 سے 21 نومبر 2025 تک دبئی کے المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر جاری اس ایئر شو کو دنیا کا سب سے بڑا ایوی ایشن ایونٹ قرار دیا جا رہا ہے جس میں 200 سے زائد کمرشل اور جنگی طیارے نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں اور ایئر بس، بوئنگ، فالکن اور لاک ہیڈ مارٹن سمیت عالمی کمپنیاں اپنے پویلین قائم کیے ہوئے ہیں۔
