پاکستانی بائیکاٹ: سری لنکن بورڈ کو 100 ملین ڈالرز کا نقصان

پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ 15 فروری کو ہونے والا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میچ کھیلنے سے انکار کے نتیجے میں ایونٹ کے شریک میزبان سری لنکا کی 100 ملین ڈالرز کی کمائی داؤ پر لگ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ نے پاکستانی کرکٹ بورڈ سے درخواست کی تھی کہ وہ بھارت کے ساتھ اپنا میچ لازمی کھیلے۔ تاہم پی سی بی ایسا کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں اس لیے نہیں کہ اس پر پابندی وفاقی حکومت نے عائد کی ہے۔
پاک بھارت میچ کی منسوخی کے بعد غیر یقینی صورتحال کے باعث کولمبو کے بڑے ہوٹلز کی بکنگز کینسل ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ فلائئٹس منسوخ ہونے سے ایئر لائنز اور ٹریول ایجنٹس کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔ سری لنکن کرکٹ بورڈ کو خدشہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کا اہم ترین میچ نہ ہونے سے اس کے لیے ورلڈ کپ کے انتظامی اخراجات کی ریکوری بھی مشکل ہو جائے گی۔
15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے پاک بھارت میچ کی منسوخی کا سب سے زیادہ نقصان سری لنکن کرکٹ بورڈ کو ہونے کا امکان ہے جو پاک بھارت بڑے مقابلوں سے خطیر زرمبادلہ کی امید لگائے بیٹھا تھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان 15 فروری کے میچ کے علاوہ متوقع طور پر سیمی فائنل اور فائنل میچ کی بھی میزبانی سری لنکا نے ہی کرنی ہے۔ سری لنکن میڈیا کے مطابق غیر یقینی صورتحال نے سری لنکن بورڈ کو کئی محاذوں پر پھنسا دیا ہے۔ کولمبو کے بڑے ہوٹلز جو 15 فروری کے میچ کیلئے مکمل بک تھے، اب وہاں بکنگز کینسل ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ ہزاروں شائقین نے پاکستان اور بھارت کے اہم ترین میچز کیلئے فلائٹس بک کروا رکھی تھیں، جن کی منسوخی سے ایئر لائنز اور ٹریول ایجنٹس کو بھاری نقصان ہو رہا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ پاک بھارت میچ سیمی فائنل اور فائنل جیسے ہائی پروفائل میچز کی ہوسٹنگ فیس کے ذریعے سری لنکا کو انتظامی اخراجات اور فیس کی مد میں 15 سے 20 ملین ڈالرز براہِ راست ملنے تھے۔ لیکن وہ بھی ہاتھ سے نکلنے لگے ہیں کیونکہ یہ واضح نہیں ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم اس ٹورنامنٹ میں آگے بڑھتی ہے اور بھارت اس کے مد مقابل آتا ہے تو پاکستانی حکومت یہ میچز کھیلنے کی اجازت دے گی یا نہیں۔سری لنکن حکومت نے ورلڈ کپ کی میزبانی کیلئے سٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن، نئی جدید فلڈ لائٹس کی تنصیب اور سیکورٹی کے انتظامات پر کروڑوں روپے خرچ کیے ہیں۔ تاہم پاک بھارت میچز نہ ہونے کی صورت میں اس کے لیے ان اخراجات کی ریکوری مشکل ہو جائے گی۔
کولبو کے پریما داسا سٹیڈیم میں 15 فروری کے پاک بھارت میچ کیلئے فروخت ہونے والے ٹکٹوں کی واپسی کے حوالے سے بھی شائقین میں بے یقینی کی کیفیت ہے۔ انتظامیہ اس صورت حال سے نمٹنے کیلئے آئی سی سی کے باضابطہ اعلان کا انتظار کر رہی ہے کہ پاک بھارت میچ ہوگا یا نہیں، حالانکہ پاکستان کی جانب سے واضح طور پر بتا دیا گیا ہے کہ اسکی ٹیم 15 فروری کو بھارت کے ساتھ میچ نہیں کھیلے گی۔
اسی طرح سٹیڈیم نہ بھرنے کا خوف بھی شریک میزبان سری لنکا کیلئے سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ اگر 15 فروری کو گرین شرٹس میدان میں نہ اترے تو سری لنکا کی میزبانی عالمی سطح پر متاثر ہو گی۔ سری لنکن میڈیا اس صورت حال کو کرکٹ کا بلیک فرائیڈے قرار دے رہا ہے۔ ان نقصانات کے پیش نظر سری لنکن کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ ، آئی سی سی اور انڈین کرکٹ بورڈ کو ہنگامی طور پر خط لکھ کر درخواست کی کہ کھیل کو بچانے کیلئے عملی اقدامات کیے جائیں۔ سری لنکا کا موقف ہے کہ یہ میچز اس کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ہائی پروفائل میچز نہ ہونے سے انکی سیاحت، ہوٹل انڈسٹری اور مقامی کاروبار کو کروڑوں ڈالرز کے نا قابل تلافی مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاکستانی انکار کے باوجود انڈین ٹیم سری لنکا کیوں جا رہی ہے؟
دوسری جانب سری لنکا میں بارشیں بھی ورلڈ کپ کا ایونٹ خراب کرنے والی ہیں۔ کولمبو میں ہونے والی حالیہ بارشوں کی وجہ سے پاکستان کا ایک اہم پریکٹس سیشنز بھی منسوخ کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح لاجسٹک مسائل کی وجہ سے پاکستان کا مقامی ٹیم کے خلاف وارم اپ میچ بھی ری شیڈول کر دیا گیا۔ اسی طرح ہوا کے کم دباؤ کے سبب کولمبو اور کینڈی میں تیز بارشیں ہو رہی ہیں جو میچز کے دوران براڈ کاسٹرز کیلئے بھیانک خواب بن سکتی ہیں کیونکہ فائنل اور سیمی فائنل کے علاوہ کسی میچ کیلئے ریزرو دن مقرر نہیں کیا گیا ہے۔
