کپتان کے مغرب کو لتاڑنے پر پاکستانی بزنس مین پریشان

اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل ہونے کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے یورپی یونین کو آڑے ہاتھوں لینے پر کاروباری حلقے پریشان ہیں اور خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یورپی یونین کے ممالک ردعمل میں پاکستان سے اپنے تجارتی روابط محدود یا منقطع کر سکتے ہیں

جسکا نقصان بزنس کمیونٹی اور پاکستان دونوں کو بھگتنا پڑے گا

۔خیال رہے کہ اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سے وزیراعظم مسلسل جلسوں میں یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ اپوزیشن نے امریکہ اور مغربی ممالک کے ایماء پر ان کے خلاف سازش شروع کی ہے۔

حال ہی میں ایک جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا تھا کہ یورپی یونین پاکستان سے کہہ رہا ہے کہ وہ یوکرین میں روسی حملے کی مذمت کرے، لیکن کیا کبھی یورپی یونین نے کشمیر میں اُن کے بقول بھارت میں غیر قانونی اقدامات کی مذمت کی ہے؟اس کے علاوہ وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے پاکستان کو استعمال کیا ہے لیکن جب بھی پاکستان پر مشکل وقت آیا تو اسکا ساتھ چھوڑ دیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کیا اور اس کی خود مختاری ختم کی تب بھی امریکہ اور مغرب خاموش رہے۔ تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور مغرب کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی سازش کا حصہ قرار دینا ایک بھونڈے مذاق کے سوا کچھ نہیں۔

پروپیگنڈا سے قومی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے اقتدار کی کشتی کو ڈوبتا دیکھ کر اب فرسٹریشن کا شکار ہوگئے ہیں اور اپنی حکومت کی ناکامی کا مدعا امریکہ اور مغرب کے سر ڈالنے پر تل گے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خارجہ امور پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے وزیراعظم کے منصب پر فائز شخص کو بولتے ہوئے بہت احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ خیال رہے کہ حال ہی میں پاکستان میں تعینات یورپی ممالک کے سفارت کاروں نے حکومتِ پاکستان کو خط لکھا تھا جس میں زور دیا گیا تھا کہ وہ یوکرین پر روسی حملے کی کھل کر مذمت کرے۔ تاہم پاکستان کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ کسی بھی تنازع میں فریق نہیں بنے گا۔ لیکن وزیرِ اعظم عمران خان نے یورپی ممالک کے اس مطالبے پر عوامی جلسے میں کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ عمران نے نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ تب اگر وہ اقتدار میں ہوتے تو کبھی یہ فیصلہ نہ کرتے کیوں کہ اس کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانا پڑی۔ اُن کے بقول پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث 80 ہزار سے سیکیورٹی اہل کار اور عام شہری ہلاک ہوئے اور پاکستانی معیشت کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچا۔

دوسری جانب سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب اقوام ِمتحدہ کے آزاد رکن ملک پر کوئی دوسرا ملک قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کوئی واضح مؤقف اختیار نہ کرنا، اس عمل کی مذمت نہ کرنا اور اسے مقبوضہ کشمیر یا افغانستان سے جوڑنا کوئی عقل کی بات نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف یورپی ممالک کی بات نہیں ہے، اقوامِ متحدہ کے بیشتر رُکن ممالک نے روسی جارحیت کی مذمت کی ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ پہلے ہی یورپی ممالک کے سفیروں کے خط پر اپنا ردعمل دے چکا ہے تو پھر وزیراعظم عمران خان کو بیان دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کے بقول اس بیان کی وجہ سے بیرون ملک کوئی اچھا پیغام نہیں جائےگا جو پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار ہیں۔

دودری طرف پاکستانی بزنس مین کمیونٹی کا کہنا ہے کہ یوکرین کے معاملے میں کوئی واضح مؤقف اختیار نہ کرنے کی وجہ سے مغربی ممالک کی طرف سے پاکستان کو دباؤ کا سامنا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ یورپین یونین پر عمران خان کے تازہ زبانی حملوں کے بعد یورپی یونین کے ممالک ردعمل میں پاکستان سے اپنے تجارتی روابط محدود یا منقطع کر سکتے ہیں جسکا نقصان نہ صرف پاکستانی بزنس کمیونٹی بلکہ پاکستانی معیشت کو بھی ہوگا۔ انکا کہنا ہے کہ ایک عوامی جلسے میں مغربی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے وزیرِاعظم کے پیشِ نظر سیاسی مصلحت ہو سکتی ہے خصوصا جب حزبِ اختلاف نے ان کے خلاف عدم اعتماد کی قرار داد پیش کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ خارجہ امور پر بیان صرف دفتر خارجہ کی سطح پر دینا مناسب ہے اور عمران خان کی جانب سے یورپین یونین کو لتاڑنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ایسا کرنے سے شاید ان کی اپنی عوامی مقبولیت میں تو اضافہ ہوجائے لیکن پاکستانی معیشت کا بڑا نقصان ہو جائے گا۔

Pakistani businessman upset over captain’s kicking west

Back to top button