پاکستانی شہری روس کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کو تیار

https://youtu.be/h5TdhdoKrVc

یوکرین کی حکومت کی جانب سے روس کے خلاف جاری جنگ میں حصہ لینے کے لیے پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے رضا کاروں کو یوکرین آنے کی پیشکش کے بعد درجنوں پاکستانیوں نے اسلام آباد میں یوکرائن کے سفارت خانے سے رابطہ کرلیا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا روس کے خلاف جنگ لڑنے کی خواہش رکھنے والے سابق پاکستانی فوجیوں کو حکومت کی جانب سے یوکرائن جانے کی اجازت ملے گے۔ یوکرین کی حکومت نے روسی افواج کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے لیے رضا کاروں کی بھرتی کو حکومتی اجازت اور فوجی تجربے سے مشروط کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف ممالک میں موجود ریٹائرڈ فوجیوں کو یوکرین پہنچ کر جنگ میں حصہ لینے کی ترغیب دی جارہی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ روس کے خلاف جنگ میں حصہ لینے والے غیر ملکی رضاکاروں کو بعد میں یوکرین کی شہریت بھی مل سکتی ہے۔ اسلام آباد میں یوکرینی سفارت خانے کی کلچر اتاشی اولینا بورڈلوسکا نے تصدیق کی ہے کہ روس کے خلاف جنگ لڑنے کے دنیا بھر سے رضاکاروں کو بھرتی کیا جا رہا ہے اور ہمیں اب تک درجنوں پاکستانیوں کی درخواستیں بھی موصول ہو چکی ہیں۔

خیال رہے کہ ماضی میں پاکستانی فوج کے علاوہ کئی جہادی تنظیموں سے وابستہ ہزاروں جنگجووں نے بھی افغانستان میں روسی افواج کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زلینسکی نے حال ہی میں روس کے خلاف جنگ میں یوکرین کی فوج کی معاونت کے لیے غیر ملکی رضا کاروں کو یوکرین آنے کی دعوت دی ہے جس کے بعد رضاکاروں کی بھرتی کے لیے باقاعدہ ایک ویب سائٹ ‘فائٹ فار یوکرین’ بھی بنائی گئی جہاں پاکستان سمیت 69 ممالک کے نام موجود ہیں اور ان ممالک کے لوگ خود کو رجسٹرڈ کروا سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود کو رجسٹرڈ کروانے والے رضاکاروں کو ماہانہ تنخواہ بھی ادا کی جائے گی۔ تاہم رجسٹریشن کے لئے رضا کاروں کا سابقہ فوجی تجربہ ہونا لازمی ہے۔

فائٹ فار یوکرین نامی ویب سائٹ پر69 ممالک میں موجود یوکرین کے سفارت خانوں کے رابطہ نمبر اور ای میل ایڈریسز دیے گئے ہیں۔ غیر ملکیوں کے لیے ضروری ہے کہ اُن کے پاس عسکری تربیت یا فوج میں ملازمت کی سند ہو جب کہ ان کے سفر کے لیے دستاویزات بھی مکمل ہوں۔ پاکستان بھی اُن ممالک میں شامل جہاں سے رضا کاروں کو یوکرین میں لڑنے کی دعوت دی گئی ہے۔

وائس آف امریکہ نے اس سلسلے میں اسلام آباد میں موجود یوکرین کے سفارت خانے سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ پاکستانی شہری روس کے خلاف لڑائی میں رضا کار کے طور پر کیسے بھرتی ہو سکتے ہیں؟ اس پر سفارت خانے کی کلچر اتاشی اولینا بورڈلوسکا نے تصدیق کی کہ روس کے خلاف لڑنے کے دنیا بھر سے رضاکاروں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اب تک پاکستان سے بھی درجنوں درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ تاہم سفارت کار نے خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان سے رضاکاروں کا یوکرین جانا خاصا دشوار ہے کیوں کہ ان کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنا مشکل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یوکرین جانے کے لیے شینگن ویزا، عسکری تربیت یافتہ ہونا اور حکومت کی اجازت لازمی ہے۔

دوسری جانب حکومتِ پاکستان نے یوکرین میں روس کے خلاف لڑائی میں رضاکاروں کی شمولیت کے لیے باقاعدہ حکومت کی اجازت اور بھرتی کے امکان کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اسلام آباد نے یوکرین تنازعے میں لڑنے کے لیے جانے کی کسی کو کوئی اجازت نہیں دی اور نہ ہی ایسی اجازت دی جا سکتی ہے۔

روس کی یوکرین کے خلاف جارحیت میں پاکستان نے اب تک محتاط رویہ اختیار کیا ہوا ہے اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی اجلاس میں بھی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ روس اور یوکرین کے تنازعے کو ختم کرنے اور امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ پاکستان میں یوکرین کے سفارتِ خانے کی ویب سائٹ چند روز قبل بند تھی البتہ اس خبر کی اشاعت کے وقت ویب سائٹ فعال ہو چکی ہے۔

روس نے امریکی صدر کے ملک میں داخلے پرپابندی لگا دی

یوکرین کے سفارت خانے نے پہلے پاکستان میں ویب سائٹ کی بندش پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا جب کہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کا کہنا تھا کہ ویب سائٹ کو بند کرنے کے حوالے سے کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے۔ بعد ازاں سفارت خانے نے بتایا کہ ویب سائٹ 22 فروری سے بند تھی۔ اس کے بند ہونے کو رضاکاروں کی بھرتی کی پیشکش سے منسلک کرنا بے بنیاد ہے۔ یوکرین میں لڑائی کے لیے منتخب ہونے والے رضاکاروں کو عارضی سفری دستاویزات جاری کی جائیں گی اور دستیاب معلومات کے مطابق متعلقہ شخص کے یوکرین پہنچنے پر اُس سے معاہدہ کیا جائے گا۔ یوکرین کی طرف سے ان رضاکاروں کو مستقبل میں یوکرین کی شہریت سمیت دیگر مراعات دینے کا بھی کہا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا مرسنری کنونشن 2001 کسی بھی ملک میں کسی غیرملکی شخص کو اجرت پر بطور فوجی بھرتی کرنے، تربیت دینے اور مالی فائدہ پہنچانے کی ممانعت کرتا ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رہنما اور سینئر وکیل حنا جیلانی نے اس بارے میں کہا کہ بین الاقوامی سطح پر اجرت پر یا کرائے کی فوج کے حوالے سے قوانین موجود ہیں البتہ رضاکاروں کے حوالے سے ایسی کوئی قدغن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمیت دنیا کا کوئی ملک اس بارے میں کوئی اجازت نہیں دے رہا البتہ انفرادی طور پر اگر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو اس بارے میں قوانین موجود نہیں لیکن اس جنگ میں رضاکاروں کو جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
Pakistani citizens ready to take part in war against Russia

Back to top button