پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے ہمیشہ کی طرح اگر مگر کا کھیل شروع

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ہمیشہ کی طرح پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے اگر مگر کا کھیل شروع ہو گیا ہے۔ انگلینڈ کے ہاتھوں دو وکٹوں سے شکست کے بعد قومی ٹیم کی سیمی فائنل تک رسائی اب اس کے اپنے ہاتھ میں نہیں رہی بلکہ دوسری ٹیموں کی ہار اور جیت سے مشروط ہو گئی ہے۔
سری لنکا کے شہر پالے کیلے میں انگلینڈ کے ساتھ کھیلے گئے اہم مقابلے میں کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیتنے کے بعد پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا جسے غلط قرار دیا جا رہا ہے۔ حسب توقع پاکستانی ٹیم کا آغاز توقع کے مطابق نہ رہا اور ابتدائی اوورز ہی میں اس کو نقصان اٹھانا پڑا۔ مقررہ بیس اوورز میں پاکستان نے 165 رنز بنائے جو بظاہر ایک اچھا ٹوٹل تھا، لیکن انگلینڈ نے یہ ہدف 8 وکٹوں کے نقصان پر آخری اوور میں حاصل کر لیا۔
انگلینڈ کی جیت میں کپتان ہیری بروک کی شاندار سنچری فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ انہوں نے 51 گیندوں پر 100 رنز بنا کر میچ کا نقشہ بدل دیا۔ جب شاہین شاہ آفریدی نے انہیں بولڈ کیا تو انہوں نے روایتی جشن منانے کے بجائے بروک سے مصافحہ کر کے کھیل کے اعلیٰ جذبے کا مظاہرہ کیا، جسے شائقین نے خوب سراہا۔
پاکستان کی جانب سے شاہین شاہ آفریدی نے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ عثمان طارق اور محمد نواز نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں، مگر پاکستانی گیند باز 165 رنز کے ہدف کا دفاع نہ کر سکے۔ بلے بازی میں صاحبزادہ فرحان 63 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، تاہم دیگر بلے باز بڑی شراکت قائم کرنے میں ناکام رہے۔
صائم ایوب بطور اوپنر ایک بار پھر کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکے اور جلد پویلین لوٹ گئے۔ بابر اعظم بھی 25 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ فخر زمان اور شاداب خان نے مختصر مگر تیز اننگز کھیلنے کی کوشش کی، لیکن مجموعی سکور کو فیصلہ کن حد تک نہ پہنچا سکے۔ ابتدائی چھ اوورز میں پاکستانی بلے بازوں کا سست رفتار کھیل بھی تنقید کی زد میں رہا۔
سابق کپتان محمد یوسف اور دیگر مبصرین نے بلے بازوں کی تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر معمولی غلطیاں بھی مہنگی ثابت ہوتی ہیں۔ بیٹنگ ترتیب اور کھلاڑیوں کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جبکہ بعض حلقوں نے قیادت کے فیصلوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
گروپ کی صورتحال کے مطابق انگلینڈ چار پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے اور سینی فائنل مرحلے کے لیے مضبوط پوزیشن میں ہے۔ دوسری پوزیشن کے لیے پاکستان، نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت ایک پوائنٹ ہے اور اسے سیمی فائنل کی دوڑ میں شامل رہنے کے لیے سری کنکا کے خلاف اپنا آخری مقابلہ ہر صورت جیتنا ہوگا۔
پہلا امکان یہ ہے کہ اگر نیوزی لینڈ اپنے دونوں باقی میچز میں شکست کھا جائے تو پاکستان سری لنکا کو ہرا کر تین پوائنٹس کے ساتھ اگلے مرحلے میں پہنچ سکتا ہے۔ ایسی صورت میں فیصلہ براہِ راست پوائنٹس کی بنیاد پر ہوگا اور پاکستان کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ نیوزی لینڈ دو میں سے ایک مقابلہ جیت لے۔ اس صورت میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے پوائنٹس برابر ہونے کا خدشہ ہے اور فیصلہ خالص رن ریٹ کی بنیاد پر ہوگا۔ پاکستان کا موجودہ خالص رن ریٹ 641۔0 ہے، جسے بہتر بنانے کے لیے قومی ٹیم کو سری لنکا کے خلاف بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کرنا ہوگی، یعنی کم از کم 50 رنز سے فتح یا مقررہ ہدف 15 اوورز میں حاصل کرنا ہوگا۔
تیسرا اور سب سے تشویشناک امکان یہ ہے کہ نیوزی لینڈ اپنے دونوں مقابلے جیت جائے۔ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کی کہانی یہیں اختتام پذیر ہو جائے گی اور اس کا سیمی فائنل مرحلے تک رسائی کا خواب ٹوٹ جائے گا۔ اسی لیے نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہونے والا مقابلہ پاکستان کے لیے فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
مجموعی طور پر پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم ابھی مکمل طور پر دوڑ سے باہر نہیں ہوئی، لیکن اب سب کچھ اگر مگر پر منحصر ہے۔ قومی ٹیم کو نہ صرف اپنے آخری مقابلے میں بھرپور اور جارحانہ کھیل پیش کرنا ہوگا بلکہ اسے موافق نتائج کی بھی امید رکھنی ہوگی۔
کرکٹ کی غیر یقینی فضا میں امکانات ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، مگر اس وقت حقیقت یہی ہے کہ سینی فائنل مرحلے تک رسائی کے لیے پاکستان کو غیر معمولی کارکردگی اور سازگار حالات دونوں درکار ہیں۔
