پاکستانی حکومت نے ٹرمپ کو رام کرنے کے لیے ماسٹر سٹروک کھیل ڈالا

سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے نہایت مایوس کن اور سرد مہری والے چار سالہ اقتدار کے بعد حکومت پاکستان نے امریکی تاریخ کے طاقتور ترین صدر ٹرمپ کے ساتھ سکیورٹی تعاون کا اغاز کر کے ایک ماسٹر سٹروک کھیلا ہے جو دونوں ممالک کے مابین ایک اچھا تعلق استوار کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار عامر خاکوانی اپنے تازہ ترین تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ’سب سے پہلے پاکستان‘ کی اصطلاح وجود میں آئی جس کا سیدھا مطلب یہ تھا کہ پاکستان کو اپنے قومی مفادات سامنے رکھنے چاہییں، اور ایسا کرتے ہوئے اسے اگر اپنے ہمسایے میں ملا محمد عمر کی طالبان حکومت کو بھی قربان کرنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ ‘سب سے پہلے پاکستان’ کے فارمولے کے تحت ہی مشرف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو امریکہ کا سٹریٹیجک اتحادی بنانے کا فیصلہ بھی کیا۔ تب کے معروضی حالات میں شاید اسکے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ آج وہ سب کچھ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

عامر خاکوانی کہتے ہیں پاکستان جیسے کمزور، معاشی طور پر غیر مستحکم اور ہمہ وقت مسائل میں گھرے ملک کو اپنی بقا کی خاطر مسلسل سوچنا پڑتا یے اور کوئی نہ کوئی حکمت عملی بنائے رکھنا پڑتی ہے۔ ویسے ہی وقت نے ہمیں یہ سکھا دیا ہے کہ سب انڈے ایک ٹوکری میں نہیں رکھنے چاہییں۔ ہمیں مغرب کے ساتھ بنا کر رکھنی ہے، جبکہ چین کے ساتھ سٹریٹجک تعلقات بھی قائم رکھنے ہیں۔ ہمیں سعودی عرب اور امارات وغیرہ سے قریبی تعلق استوار کرنا ہے، جبکہ ایران کے خلاف کسی مہم جوئی کا حصہ بھی نہیں بننا۔ ماضی میں ہمارے حکمرانوں  سے بہت ساری غلطیاں ہوئیں، مگر ہم نے نازک تر معاملات کو بھی کسی نہ کسی طور چلائے رکھا۔ ہم نے سپر پاورز کے ساتھ ڈیل کرتے ہوئے ڈبل کیا، ٹرپل گیم بھی کامیابی کے ساتھ کھیلی اور اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔

عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ ہماری بعض خارجہ پالیسیوں پر تنقید کی جا سکتی ہے، مگر ناقدین سے اگر حل پوچھا جائے تو جواب ان کے پاس بھی نہیں۔ ہمارے ہاں لیفٹ کے لوگ یہ کہتے تھے کہ لیاقت علی خان نے پاکستان کے ابتدائی برسوں میں دورہ سوویت یونین کی دعوت مسترد کر کے امریکا کا دورہ کیا جو کہ ایک غلطی تھی، انکا کہنا ہے کہ ہمیں سوویت یونین کے ساتھ جانا چاہیے تھا۔ لیکن وقت نے ایسے دانشوروں کو غلط ہی ثابت کیا۔ وہ سوویت یونین آخر غروب ہی ہوگیا اور اس کے قریبی اتحادی خوار ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ بات تاریخ کی طرف نکل گئی، آج کی طرف واپس لوٹتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ’امریکا فرسٹ‘ کی جو تھیوری دی ہے اور جس جارحانہ انداز میں وہ اس پر عمل درآمد کر رہے ہیں، اسے دنیا بھر میں بڑی تشویش اور غور کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ ہر ملک یہ سوچ رہا ہے کہ کس طرح خود کو ٹرمپ کے غضب سے بچائے۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے بڑے یورپی ممالک بھی واضح طور پر پریشان نظر آ رہے ہیں۔

عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے پاکستان میں بھی تشویش پائی جا رہی تھی۔ یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ ٹرمپ جب یوکرائن جنگ کے  معاملے کو نمٹا لیں گے تو وہ دیگر ایشوز کی طرف توجہ کریں گے، تب ان کی نظر پاکستان پر بھی پڑے گی اور وہ عمران خان کے حامیوں کے مطالبے پر بھی توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔ عاشقان عمران تو یہ بھی کہہ رہے تھے کہ اگر صدر ٹرمپ کے مطالبے کے بعد حکومت پاکستان خان کو رہا کرنے سے انکار کرے گی تو آئی ایم ایف اپنا پروگرام روک کر اسے قرضہ دینے سے انکار کر دے گا۔ اس کے بعد امریکا پاکستان پر پابندیاں لگانے کا بھی سوچ سکتا ہے۔

 تاہم ان تمام اندیشوں کے برعکس صدر ٹرمپ نے 5 مارچ کو کانگرس سے اپنے پہلے خطاب میں حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کر کے ایک خوشگوار سرپرائز دیا۔ خاکوانی کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے بڑی سرعت کے ساتھ کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے کے ماسٹر مائنڈ کو پکڑا اور پھر اسے امریکیوں کے حوالے کر کے ٹرمپ کو امریکی عوام کے سامنے ایک اور پوائنٹ سکور کرنے کا موقع دیا۔ یہ پاکستان کی ایک ماسٹر سٹروک اور سمارٹ موو تھی۔ مطلوب ترین دہشتگرد شریف اللہ جعفر کو امریکہ کے حوالے کر کے حکومت پاکستان نے امریکی تاریخ کے طاقتور ترین صدر کے ساتھ ایک اچھا تعلق استوار کرنے کی ابتدا کر دی ہے جسے سے سراہنا چاہیے۔

یوکرینی صدر کی رسوائی سے پاکستان کو کیا سبق سیکھنا چاہیے ؟

عامر خاکوانی کا کہنا تھا کہ ہمارے بعض سیاسی حلقوں کوصدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی حکومت کی تعریف سے مایوسی ہوئی ہے۔ انہیں یہ امید تھی کہ صدر ٹرمپ پاکستانی حکومت پر عمران خان کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں گے، لیکن نئے امریکی صدر کی جانب سے حکومت پاکستان کی تعریف سے انہیں ایک دھچکا لگا ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ سے غلط امیدیں لگانے والے عاشقان عمران کو حقیقت پسندانہ سوچ اپنانی چاہیے تھی۔ کامن سینس یہ کہتی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور عمران خان کی خاطر پاکستان جیسی ایٹمی پاور سے اپنے تعلقات کیوں خراب کرے گی۔ لہٰذا ہمیں امید رکھنی چاہیے کہ آنے والے دنوں میں پاک امریکا تعاون مزید بڑھے گا۔ مختصر یہ کہ فیصلہ سازوں کی ’سب سے پہلے پاکستان‘ کی غیر اعلانیہ سوچ اور پالیسی کارگر ثابت ہوئی ہے۔

Back to top button