پاکستانی ثالثی: بھارتی قیادت ایک دوسرے کے خلاف کھڑی ہو گئی

 

 

 

سینئیر صحافی رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں نے بھارت کی سیاسی قیادت کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیا ہے۔ کلاسرا کے مطابق، جہاں ایک جانب وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پاکستان کو امریکہ کا دلال قرار دیا، وہیں کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے سفارت کاری کے محاذ پر بھارت کو کہیں پیچھے چھوڑتے ہوئے عالمی سطح پر اپنی ایک خاص اہمیت منوا لی ہے۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں روف کلاسرا کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے امریکہ اور ایران کے مذاکرات شروع کروانے کے لیے پاکستانی ثالثی کی کوششوں کو دلالی قرار دیا تو بھارت کے اندر سنجیدہ اور سمجھدار حلقوں نے اس پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ جے شنکر نے یہ تنقید پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں کی، جہاں اپوزیشن کے ارکان بھی موجود تھے اور ایران-امریکہ تعلقات پر بریفنگ دی جا رہی تھی۔

 

کلاسرا کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا اور عوام میں پاکستان کی ثالثی پر جلن کی کیفیت پائی جا رہی ہے۔ بھارتی عوام برہم ہیں کہ پاکستان اتنا معتبر ملک کیسے بن گیا کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کروا رہا ہے، جبکہ بھارت کو کسی نے پوچھا تک نہیں۔ ان کے مطابق، یہ صورتحال بھارت میں حسد کی ایک واضح علامت ہے، جو نہ صرف عوام بلکہ حکومتی سطح پر بھی دیکھی جا رہی ہے۔

 

کلاسرا کہتے ہیں کہ انسانی جبلت میں حسد سب سے بڑا دشمن ہے، جو مخالف کو نقصان نہیں پہنچاتا لیکن اندر سے آپ کو جلا دیتا ہے۔ بھارت کی قیادت اور عوام اسی حسد کا شکار ہیں، کیونکہ وہ پاکستان کی کامیابی کو اپنے لیے خطرہ اور اپنی عظمت پر دھبہ سمجھ رہے ہیں۔ رؤف کلاسرا نے یہ بھی واضح کیا کہ بھارت نے گزشتہ برسوں میں اپنی مڈل کلاس کی اقتصادی طاقت اور توانائی کی ضروریات کی بنیاد پر ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کیے، اور اس دوران پاکستان اور خلیجی ممالک کے تعلقات میں وقتی کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔ تاہم، پاکستان نے اپریل 2022 کے بعد اپنے تعلقات بحال کر کے عالمی سطح پر اپنی اہمیت بڑھائی۔

 

کلاسرا نے یاد دلایا کہ 2019 میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کو پاکستان پر حملہ کرنے کا ایک موقع ملا، لیکن عالمی سطح پر کوئی ملک بھارت کے ساتھ کھڑا نہ ہوا، جبکہ پاکستان کو چین، ترکی اور آذربائیجان کی حمایت حاصل رہی۔ اس سے جے شنکر پر دباؤ بڑھ گیا کہ وہ اپنی سفارت کاری کی ناکامی کو چھپائیں۔ بھارتی وزیر خارجہ نے پارلیمانی اجلاس میں اپنے غصے اور فرسٹریشن کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے لیے دلال جیسے نامناسب الفاظ استعمال کیے، جس سے ان کا اپنا قد کم ہوا۔

 

رؤف کلاسرا کے مطابق ششی تھرور جیسے پڑھے لکھے کانگرسی سیاستدان نے کھلے عام پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے جنگی حالات میں ایران، امریکہ، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ نہ صرف اپنے تعلقات برقرار رکھے بلکہ امریکہ اور ایران کے مابین ثالث کا کردار بھی حاصل کر لیا۔ تھرور کی یہ رائے اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان نے اپنی سفارت کاری میں مہارت عالمی سطح پر منوا لی ہے۔ کلاسرا نے کہا کہ بھارت کی سفارت کاری کو ماضی میں اعلیٰ درجے کا سمجھا جاتا تھا اور پاکستانی سفیروں کو ان سے سیکھنے کا مشورہ دیا جاتا تھا۔ لیکن آج ششی تھرور جیسے سیاستدان کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں پاکستان سے سفارت کاری سیکھنے کی ضرورت ہے، جبکہ جے شنکر جیسے کیریئر ڈپلومیٹس گالی گلوچ کر کے اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ بھارت کی یہ خوش فہمی کہ دنیا اس کی آواز پر چلتی ہے، اب چیلنج ہو گئی ہے۔ پاکستان نے ثالثی اور سفارت کاری کے ذریعے عالمی سطح پر اپنا کردار منوا لیا ہے اور یہ بات دنیا بھر میں سراہی جا رہا ہے۔ اس کامیابی کا فائدہ دنیا سمیت انڈیا کو بھی پہنچ رہا ہے، کیونکہ اس سے توانائی کی سپلائی میں استحکام آیا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔

 

روف کلاسرا کے مطابق بھارتی سیاسی قیادت کے اندر جلن اور نفرت کے جذبات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے افراد بھی اگر اپنی ناکامیوں کو قبول نہیں کرتے اور غصے میں آ جاتے ہیں تو وہ ناکام سیاستدان اور ناکام  حکمران ہیں۔ انکے خیال میں جے شنکر کے نامناسب الفاظ نے بھارت کو شرمندہ کیا ہے جبکہ ششی تھرور کی پذیرائی نے پاکستان کے سفارتی کردار کو اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مشکل ترین حالات میں بھی ایران، امریکہ، سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں سمیت سب کے ساتھ تعلقات برقرار رکھ کر اپنی سفارت کاری کی مہارت دکھائی ہے، جس کا عالمی سطح پر اعتراف ہو رہا ہے۔ اس کامیابی نے پاکستان کو واحد ملک کے طور پر پیش کیا جو خطے میں ثالثی کے قابل ہے۔

بھارت نے 25 ارب ڈالر کے بڑے دفاعی منصوبوں کی منظوری دے دی

رؤف کلاسرا کے مطابق بھارت کو چاہئے تھا کہ وہ پاکستان کے اس کردار کو سراہتا، جیسا کہ ششی تھرور نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فرق پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ سیاستدان اور جذباتی، ناکام وزیر کے رویے میں ظاہر ہوتا ہے۔ نفرت اور حسد جیسے جذبات اگر حد سے بڑھ جائیں تو انسان کی کامیابی کو نقصان پہنچاتے ہیں، اور بھارت کی موجودہ صورتحال اس کا واضح مظہر ہے۔

Back to top button