پاکستانی پاسپورٹ مسلسل دنیا کا چوتھا ’بدترین‘ پاسپورٹ قرار

 

 

 

 

پاکستانی پاسپورٹ کو ایک بار پھر دنیا کا چوتھا بدترین پاسپورٹ قرار دے دیاگیا۔ عالمی سطح پر دنیا بھر کے ممالک کے پاسپورٹس کی رینکنگ جاری کرنے والے ادارے ’ہینلے اینڈ پارٹنرز‘ پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ کا شمار دنیا کے چار کمزور ترین پاسپورٹس میں ہوتا ہے۔ یعنی پاکستان پاسپورٹ رینکنگ میں خانہ جنگی کے شکار فلسطین سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

 

انڈیکس رینکنگ کے مطابق 106 ممالک میں پاکستانی پاسپورٹ 98ویں نمبر پر ہے۔ اس کے ساتھ جن کمزور پاسپورٹ والے ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے ان میں پاکستان سے نیچے صرف عراق، شام اور افغانستان موجود ہیں جبکہ انڈیا اس فہرست میں 80 نمبر پر ہے۔

سال 2026 کے لیے جاری کردہ عالمی پاسپورٹ رینکنگ کے مطابق سنگاپور ایک بار پھر دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ قرار پایا ہے،جس کے شہری دنیا کے 227 میں سے 192 مقامات پر بغیر پیشگی ویزا کے جا سکتے ہیں۔ جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ طور پر دوسرے نمبر پر ہیں، جہاں دونوں ممالک کے شہریوں کو 188 ممالک تک ویزا فری رسائی حاصل ہے۔ اس طرح عالمی سفری آزادی کی فہرست میں ایشیا کی برتری بدستور قائم ہے۔ تیسرے نمبر پر ڈنمارک، لکسمبرگ، اسپین، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ ہیں، جن کے پاسپورٹس پر 186 ممالک تک بغیر ویزا رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

 

اس کے بعد یورپ کے 10 ممالک آسٹریا، بیلجیم، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، یونان، آئرلینڈ، اٹلی، نیدرلینڈز اور ناروے مشترکہ طور پر چوتھے نمبر پر موجود ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان کا شمار ایک بار پھر دنیا کے کمزور ترین پاسپورٹس میں ہوا ہے اور اسے 98ویں نمبر پر رکھا گیا ہے جو کہ نیچے سے چوتھا درجہ بنتا ہے، پاکستانی پاسپورٹ پر صرف 31 ممالک کا بغیر ویزا کے سفر کیا جاسکتا ہے۔

 

رپورٹ کے مطابق اعلیٰ درجے کے زیادہ تر پاسپورٹس یورپی ممالک کے ہیں، تاہم چند نمایاں استثنا بھی سامنے آئے ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات 5ویں، نیوزی لینڈ چھٹے، آسٹریلیا 7ویں، کینیڈا 8ویں اور ملائیشیا 9ویں نمبر پر شامل ہیں۔امریکہ 2025 میں پہلی بار ٹاپ 10 سے باہر ہونے کے بعد دوبارہ سرفہرست 10 ممالک میں شامل ہو گیا ہے، تاہم طویل المدتی تناظر میں امریکا اور برطانیہ دونوں کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔ دونوں ممالک 2014 میں مشترکہ طور پر پہلے نمبر پر تھے، مگر حالیہ برسوں میں ویزا فری رسائی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ امریکا گزشتہ 20 برسوں میں درجہ بندی میں تیسری بڑی گراوٹ کا شکار ہوا ہے، جبکہ برطانیہ چوتھی بڑی کمی والا ملک بن چکا ہے۔

 

دوسری جانب دنیا کا کمزور ترین پاسپورٹ ایک بار پھر افغانستان کا قرار پایا ہے، جس کے حامل افراد صرف 24 ممالک میں بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔ اس طرح 2026 میں دنیا کے طاقتور ترین اور کمزور ترین پاسپورٹس کے درمیان فرق 168 ممالک تک پہنچ گیا ہے، جو عالمی سفری عدم مساوات کی سنگین تصویر پیش کرتا ہے۔ 2006 میں یہ فرق صرف 118 ممالک کا تھا۔

 

رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات گزشتہ 20 برسوں میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والا ملک رہا ہے، جس نے 2006 سے اب تک 149 نئے ویزا فری ممالک کا اضافہ کیا اور 57 درجے ترقی کر کے 5ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔

 

خیال رہے کہ بین الاقوامی فرم ہینلے اینڈ پارٹنرز دنیا بھر کے پاسپورٹس کو رینک کرتی ہے جبکہ انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن اس سے متعلق ڈیٹا فراہم کرتی ہے۔ویب سائٹ ہینلے اینڈ پارٹنرز کے مطابق دی ہینلے اوپن نیس انڈیکس (ایچ او آئی) کے پاس دنیا بھر کے 199 ممالک کے پاسپورٹس کی رینکنگ جاری کرنے کا اختیار ہے۔ ہینلے اور پارٹنرز کی جانب سے پاسپورٹ کو دو طریقوں سے رینک کیا جاتا ہے۔

 

اگر کسی ایک ملک کا پاسپورٹ ہولڈر، دوسرے ملک میں بغیر ویزا لیے داخل ہو سکتا ہے تو اِس صورت میں ویزا دینے والے ملک کو ایک کا سکور دیا جاتا ہے۔اگر دوسرے ملک جانے سے پہلے کسی ملک کے پاسپورٹ ہولڈر کو اُس ملک کی حکومت سے منظور شدہ الیکٹرونک ویزا یعنی ای ویزا درکار ہو تو اس صورت میں ویزا دینے والے ملک کو صفر سکور دیا جاتا ہے۔

صارفین کو چونالگانے والی پاکستانی کمپنیوں کے خلاف گھیرا تنگ

اگر کسی پاسپورٹ ہولڈر کو ویزا آن ارآئیول سے قبل اُس ملک کی حکومت سے منظوری لینا پڑے تو اس صورت میں بھی ویزا دینے والے ملک کو صفر سکور دیا جائے گا کیونکہ اس سسٹم کو ویزا فری تصور نہیں کیا جائے گا۔اسی طرح ہر ملک کا مجموعی اوپن نیس سکور دوسرے ملک سے اُسے فری ویزا ملنے کے بعد طے کیا جاتا ہے۔

 

Back to top button