کیا پاکستانی عوام عسکری شکنجے سے نکل پائیں گے؟

پاکستانی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ فوجی آمر اور امپورٹڈ حکمران ملک تباہ کرکے چلے گئے لیکن عوامی نمائندے بدترین حالات میں بھی آئین کی بالادستی کا علم اٹھائے نظر آئے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام کبھی قوم پر مسلط عسکری شکنجے سے نکل پائیں گے؟
معروف لکھاری وجاہت مسعود اپنی تازہ تحریر میں کہتے ہیں کہ تین مرتبہ طویل فوجی آمریتوں کے گھائو سہنے والا پاکستان اس سڑک کی مانند ہوچکا ہے جو سیلاب کے باعث جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کی تاریخ سمجھنا ہو تو سیلاب کے بعد مضافات میں نکل جائیے، جگہ جگہ سے سڑک کے ٹکڑے غائب ملیں گے۔ اس ملک کی سیاسی تاریخ کے تین بڑے تعطل تو سب جانتے ہیں۔ پہلے مارشل لاء 8 اکتوبر 58 ء کی رات 20 دسمبر 71 ء تک چلی۔ اس کے بعد ضیا الحق نے جمہوری حکومت پر شب خون مارا اور 5 جولائی 77 ء کی رات 17 اگست 88 ء تک طول کھینچ گئی۔ فوجی آمر جنرل مشرف کا پیداکردہ 12 اکتوبر 99 ء کا تعطل 18 اگست 2008 ء تک باقی رہا۔ اور اس دوران آنے والے مختصر وقفوں میں زلزلے کے زیر زمین جھٹکوں سے سیاسی اضطراب کو تالیف کی آسودگی نصیب نہیں ہو سکی۔ جس طرح جگہ جگہ سے شکستہ سڑک پر گاڑی کی سمت اور رفتار ہموار نہیں ہو سکتی ایسے ہی کروڑوں نفوس پر مشتمل قوم سازش اور جرم کی بے یقینی میں اپنا راستہ کیسے تلاش کرسکتی ہے۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ جمہوری عمل کے ثمرات کے لئے ضروری ہے کہ جمہور کی حکمرانی کو تسلسل کا اعتماد دیا جائے جو بدقسمتی سے پاکستان کو میسر نہیں آسکا۔
وجاہت مسعود کہتے ہیں کہ سیاست دان تاریخ کا ناول لکھتا ہے۔ سیاست دان اپنے کندھوں پر وہ ذمہ داری اٹھاتا ہے جس سے جیتے جی دستبردار نہیں ہوا جاتا۔ عبدالغفار خان نے 23 فروری 1948 کو پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھانے کے بعد 18 برس قید و بند میں گزارے، کبھی سیاست سے کنارہ کش ہوئے؟ ایوب خان کے ایبڈو میں 6 برس کی قید کاٹنے کے بعد حسین شہید سہروردی کی بیروت میں پراسرار موت کا راز یہی تھا کہ انہیں واپس آ کر جمہوری سیاست کرنا تھی۔ 1988 سے 2020 تک شیرباز مزاری عملی سیاست میں نہیں تھے لیکن کیا قوم کی قسمت سے لاتعلق بھی ہوئے؟ ذوالفقار علی بھٹو 4 اپریل 79 ء کی رات تک پاکستان کے رہنما تھے۔ کیا 24 برس کی عمر میں سیاست کی امانت اٹھانے والی بے نظیر بھٹو کو اکتوبر 2007 میں معلوم نہیں تھا کہ وطن واپسی پر موت ان کا استقبال کرے گی؟ 90 کے ابتدائی برسوں میں دستوری بالادستی کا جھنڈا اٹھانے کے بعد نواز شریف نے کون سی آزمائش نہیں جھیلی۔ اسی طرح دوسری طرف نظر ڈالیں تو دکھائی دیتا ہے کہ جلا وطنی کے بعد اسکندر مرزا نے کبھی پاکستان کی سیاست سے تعلق استوار کرنا نہیں چاہا۔ کوئی کھوج لگانے کی کوشش کرے کہ کیا سن 71 کے پرآشوب دنوں میں کبھی ایوب خان نے پاکستان کے حالات پر رائے دینے کی زحمت کی؟ ورلڈ بینک سے آنے والے محمد شعیب نے آٹھ برس تک وزارت خزانہ چلائی۔
جاوید اقبال نے شہرت کیلئے قتل کئے یا حملے کا بدلہ لیا؟
سن 76 میں واشنگٹن میں گمنام موت تک کبھی موصوف نے پاکستان کی معیشت پر تبصرہ کیا؟ آج آئین شکنی کے جرم میں سزائے موت سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہوجانے والے پرویز مشرف علیل ہیں لیکن ان کی بنائی ہوئی سیاسی جماعت کہاں ہے؟ کیا ریاستی عہدوں سے علیحدگی کے بعد غلام اسحاق خان، محبوب الحق، معین قریشی، وی اے جعفری اور شوکت عزیز نے قوم کی سیاسی اور معاشی قسمت سے کوئی تعلق باقی رکھا؟ مدعا صرف یہ ہے کہ سیاست ایک کار مسلسل ہے جس میں دستور کی روشنی میں قوم کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا جاتا ہے۔ اس امانت میں مداخلت کرنے والے طاقتور عناصر اپنے ذاتی مفادات کے لئے قوم کی تاریخ میں تاریک جزیرے اور غیر متصل منطقے چھوڑ جاتے ہیں۔ لہٰذا موجودہ صورت حال میں پاکستانی قوم کو عسکری شکنجے سے نکللنے کا واحد راستہ عوام کے حقیقی نمائندوں کو تسلسل سے قیادت کا موقع موقع دینا ہے تاکہ جمہوری ثمرات سمیٹے جاسکیں اور یہی پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ بھی ہے۔
