ایرانی جوابی حملوں کے بعد پاکستانی ترسیلاتِ زر میں اربوں ڈالر کی کمی

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف عالمی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے بلکہ پاکستان کی معیشت کا بھی کباڑا نکال دیا ہے۔ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتِ حال میں جہاں خلیجی ممالک میں مقیم ہزاروں پاکستانی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں وہیں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں بھی 3 سے 4 ارب ڈالر کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ترسیلات زر میں ریکارڈ کمی آنے والے دنوں میں پاکستان کیلئے افراط زر میں اضافے اور ملی خسارے سمیت کئی معاشی چیلنجز کو جنم دے سکتی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ترسیلاتِ زر پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لاکھوں پاکستانی محنت کش، جو خلیجی اور دیگر مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں برسرِ روزگار ہیں، ہر ماہ اربوں ڈالر وطن بھیجتے ہیں۔ یہی رقوم نہ صرف لاکھوں گھروں کے چولہے جلائے رکھتی ہیں بلکہ ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ تاہم ایران امریکہ اور اسرائیل جنگ کی وجہ سے ترسیلات زر میں کمی کے خدشات نے پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اس حوالے سے سرکاری تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کی سامنے آنے والی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدہ حالات کے باعث پاکستان کی سالانہ ترسیلاتِ زر میں 3 سے 4 ارب ڈالر تک کمی کا خدشہ ہے۔ ملکی معیشت کیلئے یہ کمی معمولی نہیں، کیونکہ ترسیلاتِ زر پہلے ہی پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 10 فیصد حصہ ہیں اور گزشتہ دو دہائیوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے تقریباً 40 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ خدشات حقیقت کا روپ دھارتے ہیں تو اس کے اثرات کئی سطحوں پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ترسیلات زر میں کمی سے سب سے پہلے زرِمبادلہ کی شرح دباؤ کا شکار ہوگی، جس سے روپے کی قدر متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے کا امکان ہے، جو پہلے ہی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ جبکہ ترسیلات زر میں کمی سے مہنگائی میں اضافہ اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل بھی شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی لیبر مارکیٹ سے پاکستان کا گہرا تعلق ہے، جہاں تقریباً 60 لاکھ پاکستانی کام کر رہے ہیں۔ یہی خطہ پاکستان کی مجموعی ترسیلاتِ زر کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے۔ ہر سال سات سے آٹھ لاکھ پاکستانی روزگار کے لیے ان ممالک کا رخ کرتے ہیں، جو ملک میں بے روزگاری کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں یہ سلسلہ متاثر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف نئی بھرتیوں میں کمی آئے گی بلکہ بڑی تعداد میں پاکستانی ورکرز کو وطن واپس بھی آنا پڑ سکتا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق 2026 میں تقریباً پانچ لاکھ پاکستانی نئے روزگار کے مواقع سے محروم رہ سکتے ہیں، جبکہ اتنی ہی تعداد میں پہلے سے مقیم افراد کو واپس آنا پڑ سکتا ہے۔ اس ممکنہ واپسی کے اثرات خاص طور پر خیبر پختونخوا اور پنجاب جیسے صوبوں میں زیادہ محسوس کیے جائیں گے، جہاں بیرونِ ملک مقیم افراد کی کمائی مقامی معیشت کا اہم سہارا ہے۔ لاکھوں افراد کی واپسی نہ صرف بے روزگاری میں اضافہ کرے گی بلکہ سماجی و معاشی دباؤ کو بھی بڑھا دے گی۔
ایران جنگ میں پاکستان کو سفارتی توازن برقرار رکھنے کا چیلنج
معاشی ماہرین کے مطابق حالیہ کشیدگی سے ترسیلاتِ زر میں 20 سے 25 فیصد تک کمی واقع ہو سکتی ہے، جبکہ بے روزگاری میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں پہلے ہی کچھ پاکستانی ورکرز بے روزگار ہیں، اور اگر حالات مزید خراب ہوئے تو سب سے پہلے غیر ملکی کارکنوں کو ہی نکالا جائے گا۔ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں کمی کے باعث پاکستان کو ڈالر کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے بقول مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پاکستان کے لیے صرف ایک خارجی بحران نہیں بلکہ ایک اندرونی معاشی چیلنج بھی بن سکتی ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال نہ صرف ترسیلاتِ زر بلکہ روزگار، مہنگائی اور مجموعی معاشی استحکام کو بھی شدید متاثر کر سکتی ہے۔
