’’اسرائیلی بازاروں میں پاکستانی مصالحوں، میوہ جات کی دھوم‘‘

اسرائیلی بازاروں میں پاکستانی مصالحوں، میوہ جات کی موجودگی کی ویڈیو نے پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ آخر یہ سب کیسے ممکن ہوا، یہ کارنامہ پاکستانی یہودی فشل بین خلد نے انجام دیا جس کے لیے انھوں نے جرمن دوستوں کی خدمات حاصل کیں۔
پاک اسرائیل تعلقات کے حامی فشل بین خلد کے مطابق وہ پاکستانی پاسپورٹ کے بغیر دو مرتبہ اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں، کیونکہ پاکستانی پاسپورٹ اسرائیل میں کارآمد نہیں ہے۔
فشل بین خلد کے اکاوئنٹ کے مطابق ان کا تعلق پاکستانی کی کوشر فوڈ انڈسٹری سے ہے۔ کوشر فوڈ یہودی مذہب کے عقائد کے مطابق تیار کردہ خوراک کو کہا جاتا ہے جیسے مسلمان حلال کھانے پر یقین رکھتے ہیں۔اپنی ویڈیو کے ساتھ فشل نے لکھا کہ ’مجھے بطور پاکستانی مبارک ہو کہ میں نے پاکستان کی خوراک مصنوعات کی پہلی کھیپ اسرائیل کی منڈی میں برآمد کی۔
اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک سٹال پر مختلف میوہ جات، مصالحے اور کھجوریں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں جن پر عبرانی میں عبارت اور قیمتیں درج ہیں۔اپنی اس پوسٹ میں فشل نے وزیراعظم شہباز شریف، سابق وزیراعظم نواز شریف، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے ساتھ مریم نواز، وفاقی وزیر احسن اقبال اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو بھی ٹیگ کیا۔
ان کی اس پوسٹ پر جب عام صارفین نے سوال کیے یہ کیسے ممکن ہوا تو انھوں نے جواب میں لکھا کہ ’یہ بہت مشکل کام تھا۔‘ ان کے مطابق انھوں نے دبئی اور جرمنی میں تین اسرائیلی تاجروں سے متعدد ملاقاتیں کیں جس کے بعد یہ ممکن ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی مصنوعات کا معیار اچھا تھا اور قیمت بھی مناسب تھی تاہم یہ پہلی تجرباتی کھیپ تھی۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے ان سے سوال کیا کہ پاکستانی مصنوعات پر اسرائیل میں کیسا ردعمل سامنے آیا تو جواب میں فشل بین خلد نے کہا کہ ’پاکستانی مصنوعات کا معیار اسرائیل میں قابل قبول تھا تاہم بہتری کی گنجائش موجود ہے۔انھوں نے لکھا کہ ’اسرائیلی خریداروں کا ردعمل کسی عام خریدار جیسا ہی تھا جن کو مناسب قیمت میں معیاری مصنوعات درکار ہوتی ہیں۔
ایک اور صارف نے پوچھا کہ انھوں نے پاکستانی بینک کا استعمال کیا یا پھر کسی غیرملکی طریقے سے لین دین کیا۔ فشل نے جواب میں کہا کہ ’اسرائیلی حکومت اور عام خریداروں کو پاکستان سے لین دین میں کوئی مسئلہ نہیں۔
ایک صارف نے جب لکھا کہ یہ بہترین پہلا قدم ہے تو فشل نے جواب میں کہا کہ ’دراصل میں ایسا کرنے والا پہلا شخص نہیں ہوں لیکن میرے لیے یہ پہلا قدم ضرور ہے۔ایک صارف نے فشل سے سوال کیا کہ کیا انھوں نے یہ مصنوعات کراچی سے براہ راست اسرائیل بھجوائیں یا پھر متحدہ عرب امارات یا ترکی کے راستے، اس سوال کا فشل نے جواب نہیں دیا۔
ایک اور پاکستانی صارف نے ان سے سوال کیا کہ پاکستان سے کھجوریں کیسے بیرون ملک بیچی جا سکتی ہیں تو انھوں نے لکھا کہ یہ کوئی مشکل کام نہیں، اس کا دارومدار معیار اور قیمت پر ہے۔
سوشل میڈیا پر فشل کافی سرگرم رہنے کیساتھ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات کی حمایت کرتے رہتے ہیں، گذشتہ سال انھوں نے اسرائیل کا دورہ بھی کیا جہاں ایک وفد کے ہمراہ انھوں نے اسرائیلی صدر اور حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔
ان کے اکاوئنٹ کے مطابق وہ کراچی میں یہودی برادری سے تعلق رکھتے ہیں جس کی تعداد پاکستان کے قیام کے بعد سے مسلسل کم ہوتی رہی ہے۔فشل کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ یہودی تھیں تاہم اسی رپورٹ کے مطابق فشل کے بھائی ان کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے والدین مسلمان تھے۔
ماضی میں پاکستانی حکام پر خفیہ طور پر اسرائیل سے روابط کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔پاکستان میں اسرائیل سے متعلق تعلقات میں بہتری پیدا کرنے کی تجاویز سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں سامنے آئیں تو عوام نے سابق صدر پر بھی اسرائیل سے دوستی کرنے جیسے الزامات عائد کیے۔
سابق سفیر آصف درانی نے 16 مئی کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ پاکستان کا براہ راست کوئی تنازعہ نہیں اور نہ اسرائیل کبھی پاکستان کے خلاف براہ راست بیانات دیتا ہے۔ ان کے مطابق اچھے تعلقات کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔
آصف درانی کے مطابق انڈیا نے سنہ 1992 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مزید مربوط بنایا اور اگر اس وقت پاکستان بھی تعلقات بہتر کر لیتا تو اس کا اچھا اثر پڑنا تھا۔سابق سفیر کے مطابق پاکستان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حق اور مخالفت میں اپنے دلائل موجود ہیں جس وجہ سے یہ بحث جلد کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے گی۔
