پاکستانی طالبان کو حملوں میں افغان شہری استعمال نہ کرنے کا حکم

پاکستانی فیصلہ سازوں کی جانب سے تحریک طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے حملوں میں افغان عسکریت پسندوں کے ملوث ہونے کی شکایات کے بعد دو پاکستانی عسکری تنظیموں کے کمانڈرز نے اپنی ریاست مخالف عسکری کارروائیوں میں افغان باشندوں کو شامل نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان حکومت اس معاملے پر مختلف ممالک کی جانب سے دباؤ کا شکار ہو رہی تھی لہذا اب پاکستانی عسکری تنظیموں کو دہشتگرد کاروائیوں میں افغان شہریوں کو استعمال نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پاکستانی جہادی تنظیموں کی جانب سے عسکری کاروائیوں میں افغانوں کو شامل نہ کرنے کی ہدایات کمانڈر حافظ گُل بہادر نے ایک آڈیو پیغام میں اور کمانڈر سربکف مہنمد نے ایک ویڈیو پیغام میں جاری کیں۔ پہلا بیان یکم جنوری کو حافظ گل بہادر جبکہ دوسرا پیغام چھ جنوری کو سر بکف مہمند کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔ حافظ گُل بہادر ٹی ٹی پی کے ایک ذیلی گروہ کے سربراہ ہیں جبکہ سربکف مہمند جماعت الاحرار کے سربراہ ہونے کے علاوہ ٹی ٹی پی کا بھی حصہ ہیں۔ دونوں عسکریت پسند رہنماؤں نے پشتو زبان میں اپنے پیغامات میں اپنے زندہ ہونے کے ثبوت پیش کرتے ہوئے ان تاریخوں کا ذکر کیا ہے جب یہ بیانات ریکارڈ کیے گئے۔

حافظ گل بہادر نے آڈیو پیغام وزیری زبان میں جاری کیا ہے۔ چونکہ حافظ گل گروپ کا کوئی میڈیا ونگ نہیں ہے اس لیے یہ پیغام ان کی جانب سے ان کے پیروکاروں کو بھیجا گیا ہے اور پھر ان لوگوں کے سوشل میڈیا پیجز پر شیئر کیا گیا ہے۔ حافظ گُل بہادر اور سربکف مہمند نے اپنے جنگجوؤں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اپنے گروہوں میں غیر ملکی جنگجوؤں، خصوصاً افغان باشندوں کو بالکل بھرتی نہ کریں۔

ادھر تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود بھی مختلف مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ افغان جنگجو ان کی تنظیم میں شامل ہونے کی بجائے صرف دعا کیا کریں۔ پاکستانی عسکریت پسندوں کے بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حال ہی میں افغان علما نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کی جائے۔ اس اعلامیے میں واضح کیا گیا تھا کہ جو بھی افغان سرزمین کا استعمال کرتے ہوئے ملک سے باہر عسکری کارروائی کرے گا اسے ’باغی‘ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان میں حکومتی عہدے داروں اور سکیورٹی حکام نے عسکریت پسندوں سے جھڑپوں میں ہلاک ہونے افراد کی بطور افغان شہری مسلسل نشاندہی کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ اس الزام کے بعد پچھلے برس کئی پاک افغان سرحدی جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔ ان سرحدی جھڑپوں کے بعد کابل اور اسلام اباد کے مابین جنگ بندی میں ترکی اور قطر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ تاہم یہ مذاکرات کارگر ثابت نہیں ہو سکے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بھی ایک پریس کانفرنس میں 2025 کے دوران 10 بڑے دہشت گرد واقعات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ان میں ملوث تمام عسکریت پسند افغان شہری تھے جو مارے گئے۔

پاکستان میں مبصرین حافظ گُل بہادر اور سربکف مہمند کے بیانات کو ایک تبدیلی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اس خطے میں مسلح تنظیموں پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار احسان ٹیپو محسود کا کہنا ہے کہ دیگر عسکری تنظیموں کے قائدین کے برعکس حافظ گُل بہادر ہمیشہ میڈیا سے دور رہے ہیں اور کبھی سوشل میڈیا پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ احسان ٹیپو محسود کہتے ہیں کہ گل بہادر کی تنظیم پر افغان حکام کی جانب سے دباؤ آنے کے علاوہ افغان علماء کی جانب سے جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق افغان طالبان کا ایک حصہ سمجھتا ہے کہ پاکستانی طالبان کی وجہ سے افغانستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات میں غیر ضروری تناؤ آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے پاکستانی لوگوں کو جو ہدایات جاری کی ہیں انکا اصل مقصد پاک افغان تعلقات بہتر بنا کر عالمی دباؤ سے نکلنا ہے۔

Back to top button