افغان ٹریڈ کی بندش سے پریشان پاکستانی تاجروں کے لیے اچھی خبر

 

 

 

طورخم بارڈر کی طویل بندش نے جہاں پاک افغان تجارت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، وہیں ایکسپورٹ بند ہونے سے کئی پاکستانی تاجر دیوالیہ ہو گئے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں وفاقی حکومت نے ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے پاک افغان سرحدی تجارت کا متبادل پلان تیار کر لیا ہے۔ اس نئی حکمتِ عملی کے تحت خیبر پختونخوا اور پنجاب کی زرعی پیداوار کو وسط ایشیائی ریاستوں کی منڈیوں تک پہنچانے کی تیاری شروع کر دی گئی ہے، جس سے نہ صرف مقامی کاشتکاروں اور تاجروں کو ریلیف ملے گا بلکہ پاکستانی برآمدکنندگان کو بھی نئی منڈی میسر آئے گی

 

خیال رہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر طورخم اور چمن بارڈر کی بندش مزید طول پکڑ گئی ہے۔ اندوہناک سانحے کے بعد رمضان المبارک سے قبل سرحد کھولنے کے مطالبات بھی دم توڑ چکے ہیں اور اب سرحد کو صرف افغان مہاجرین کی واپسی کیلئے کھولنے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس طویل تعطل نے سرحدی تجارت کو شدید متاثر کیا ہے اور دونوں جانب کے تاجروں اور کاشتکاروں کو مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ تاہم اب وفاقی حکومت نے متبادل راستوں سے اپنی مصنوعات وسطی ایشیائی ریاستوں تک پہنچانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے متبادل تجارتی راستے فعال کرنے کیلئے ٹرانسپورٹ، کسٹمز اور دیگر تجارتی سہولیات کو ہم آہنگ بنانے پر کام تیز کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کو فوری ریلیف دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں تاکہ سینٹرل ایشیائی مملاک تک سبزیوں، پھلوں اور دیگر زرعی اجناس کی بروقت ترسیل ممکن بنائی جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وسط ایشیائی ریاستوں تک برآمدات کا سلسلہ مؤثر انداز میں شروع ہو گیا تو اس سے نہ صرف کسانوں کے نقصانات میں کمی آئے گی بلکہ پاکستان کو ایک نئی اور مستحکم تجارتی منڈی بھی میسر آ جائے گی۔

 

معاشی ماہرین کے مطابق وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ براہ راست تجارتی روابط نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دیں گے بلکہ برآمدات میں اضافے اور زرِمبادلہ کے حصول کا نیا ذریعہ بھی بنیں گے جبکہ اس پیش رفت سے پاکستان کے وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔ اگر حکومتی حکمت عملی کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ اقدام ملکی زرعی شعبے کیلئے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ خطے کی معاشی معمولات میں بھی ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

 

دوسری جانب پاکستان سے تجارت کی بندش کے بعد افغانستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک بنتی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق باہمی تجارت معطل ہونے سے افغانستان میں 80 فیصد کاروبار متاثر ہو چکا ہے جبکہ ملک میں مہنگائی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔ رمضان سے قبل گوشت، چکن، آٹا اور دیگر اشیائے خوردونوش کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے جبکہ ادویات کی دستیابی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔اس کے علاوہ گھی، چینی، بیسن اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

’آزادی یا موت‘ یوتھیے نئے ٹرک کی بتی کے پیچھے کیسے لگے؟

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان سے طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان کو نہ صرف خوراک بلکہ رمضان میں استعمال ہونے والی اشیاء جیسے جائے نماز، مسواک، کھجوریں، ٹوپیاں، اسلامی کتب اور دیگر سامان بھی بھیجا جاتا تھا۔ بارڈر کی مسلسل بندش کے باعث یہ سامان افغانستان پہنچنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ جس کی وجہ سے افغان شہری اشیائے ضروریہ کے حصول کیلئے دھکے کھاتے نظر آتے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق پاک افغان بارڈز بند ہونے سے افغانستان میں پھلوں کی تجارت کرنے والے تاجروں کو بھی شدید دھچکا لگا ہے۔ انار، سیب اور خشک میوہ جات کے تاجروں کو کروڑوں افغانی روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔ افغان تاجر گوداموں میں پڑے بادام، اخروٹ، خشک خوبانی اور دیگر ڈرائی فروٹ خراب ہونے کے ڈر سے مقامی مارکیٹ میں کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔

Back to top button