افغانستان کےحملے پرپاکستان کابھرپورجواب،آپریشن غضب للحق شروع،30طالبان ہلاک

افغان طالبان کی بلااشتعال کارروائیوں کیخلاف پاکستان  کا منہ توڑ جواب ،آپریشن غضب للحق، 30 طالبان اہلکار ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ کردیئے۔

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کردیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے افغان طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہوگئے اور خوارج بھاگ کھڑے ہوئے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی، پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جواب میں ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر میں بھرپور جواب دیا، چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نےنشانہ بنا کر تباہ کردیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ کر دیں، افغان طالبان رجیم کے 22 اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی ناکام کوشش کی، پاکستانی سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کاپٹرز گرا دیے گئے، پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے  اور  بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے، ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان رجیم کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے

سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز سرحد کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں، پاکستان کی سکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی جارحیت کےخلاف سخت اور فوری جواب دینے کے لیے مکمل طورپر تیار ہیں۔

اس سے قبل وزارت اطلاعات کا کہنا تھاکہ افغان طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان سرحد پر بلااشتعال کارروائی کی گئی ہے جس کا سکیورٹی فورسز نے بھرپور اور فوری جواب دیا ہے۔

ایکس پر جاری بیان میں وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ افغان طالبان نے غلط اندازہ لگاتے ہوئے خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد کے متعدد مقامات پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کا پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے فوری اور مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔

وزارت اطلاعات کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ کے سیکٹرز میں افغان طالبان فورسز کو سخت جواب دیتے ہوئے بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے پاک افغان سرحد پر کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کسی کو پاکستان کا امن چھیننے کی اجازت نہیں دیں گے، ہماری کوشش رہی ہے کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیےجائیں۔

طلال چودھری نے کہا کہ بھارت جس کے پاس فوج ، طیارے اور ہتھیار بھی تھے اس کی کیا حالت ہوئی ، پاکستان کے بازار اور مساجد میں بم دھماکے بالکل بھی برداشت نہیں ہوسکتے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان اپنے عوام کے امن کے لیے کسی بھی حد تک جائے گا، افغانستان کو ہر صورت ایک پرامن ہمسایہ بننا ہوگا، چین سے لے کر امریکا تک پوری دنیا کو افغانستان سے یہ شکایت ہے۔

 

Back to top button