وفاقی کابینہ نے افغانستان کے ساتھ تجارت پر ٹیرف میں نرمی کی منظوری دیدی

وفاقی کابینہ نے افغانستان کے ساتھ تجارتی ٹیرف میں رعایتوں کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ زرعی تجارت کو فروغ دینا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت تجارت کی جانب سے بھیجی گئی سمری کو سرکولیشن کے ذریعے کابینہ سے منظور کروایا گیا۔ یہ فیصلہ "ارلی ہارویسٹ پروگرام” کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان اور افغانستان کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس پروگرام کے تحت دونوں ممالک چار، چار زرعی مصنوعات پر کسٹمز ڈیوٹی میں نمایاں کمی کریں گے، تاہم اس رعایت کے باوجود 22 سے 27 فیصد تک دیگر ٹیکسز لاگو رہیں گے۔
دستاویزات کے مطابق یہ تجارتی رعایتیں یکم اگست 2025 سے 31 جولائی 2026 تک مؤثر رہیں گی۔
ٹماٹر پر 5 فیصد ڈیوٹی ختم کی جائے گی، جس سے کل ٹیکس کم ہو کر 27 فیصد سے 22 فیصد ہو جائے گا۔
انگور، انار اور سیب پر 26 فیصد ڈیوٹی کمی کی جائے گی، جس کے نتیجے میں ان اشیاء پر مجموعی ٹیکس 53 فیصد سے گھٹ کر 27 فیصد ہو جائے گا۔
9 مئی مقدمات، سزائیں : آج جمہوریت کےلیے ایک افسوسناک دن ہے، بیرسٹر گوہر
آلو پر 35 فیصد اور کیلے پر 30 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کم کی جائے گی، جس سے مجموعی ٹیکس بالترتیب 57 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد اور 60 فیصد سے کم ہو کر 30 فیصد ہو جائے گا۔
کینو اور آم پر 20 فیصد ڈیوٹی کمی کی جائے گی، جس سے ان مصنوعات پر ٹیکس 47 فیصد سے کم ہو کر 27 فیصد ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ ارلی ہارویسٹ پروگرام کے تحت باہمی تجارتی معاہدہ گزشتہ ہفتے طے پایا تھا، جسے دونوں ممالک کے لیے زرعی برآمدات میں توازن اور سہولت پیدا کرنے کی اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
