پاکستان کا افغانستان کے بعد ایران سے بھی سرحدی آمدورفت کا معاہدہ ختم

 

 

 

پاکستان نے افغانستان کے بعد اب ایران کے ساتھ بھی چھ دہائیوں سے نافذ ویزے کے بغیر داخلے کا ’سرحدی راہداری نظام‘ ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اب سرحدی آمد و رفت صرف پاسپورٹ اور ویزے کے ذریعے ہی ممکن ہوگی۔ حکومت اس اقدام کو سرحدی نظم و نسق بہتر بنانے، غیر قانونی نقل و حرکت روکنے اور سکیورٹی کو مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔ تاہم پاک ایران سرحد سے ملحق اضلاع کے رہائشی اور تاجر اس حکومتی فیصلے کو اپنی معاشی سرگرمیوں، روزگار اور سرحد پار خاندانی روابط کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ 1960 سے رائج راہداری نظام کے تحت دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کو پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر صرف ’راہداری‘ پر آمد و رفت کی اجازت حاصل تھی۔ سرحدی اضلاع کے رہائشیوں کو محدود مدت اور مخصوص علاقوں تک پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر آمد و رفت کی اجازت دی جاتی تھی۔ بلوچستان کے ایران سے ملحقہ اضلاع چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادرکے رہائشی سال میں دو مرتبہ تقریباً پندرہ دن کے لیے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ یہ اجازت نامے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز جاری کرتے تھے، تاہم اب اس نظام کو ایک سے دو ماہ میں مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، بلوچستان حکومت کے مطابق اب راہداری نظام کی جگہ مکمل ’ون ڈاکومنٹ رجیم‘ نافذ کیا جائے گا، جس کے تحت کسی کو بھی پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سرحدی علاقوں میں غیر قانونی آمد و رفت، منشیات، تیل، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور دیگر سمگلنگ نیٹ ورکس کے خاتمے کی وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ سکیورٹی اداروں کے تجزیے کے مطابق انہی غیر قانونی سرگرمیوں کی آڑ میں شدت پسند گروہوں کو مالی معاونت ملتی رہی ہے، جس کے باعث بلوچستان میں پائیدار امن کا قیام مشکل ہو جاتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اس سے قبل نومبر 2023 میں افغانستان کے ساتھ بھی ون ڈاکومنٹ رجیم نافذ کر چکا ہے۔ حکام کے مطابق ایران کے ساتھ بھی مکمل دستاویزی نظام کا نفاذ اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد دشوار گزار پہاڑی اور ریگستانی علاقوں سے گزرتی ہے، جو ماضی میں غیر قانونی نقل و حرکت کے لیے بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ تاہم گزشتہ برسوں میں سرحدی کشیدگی کے واقعات نے بھی سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھادیا ہے۔ انہی حالات کے تناظر میں سرحد پر آہنی باڑ، کنکریٹ کی دیواریں، خندقیں اور واچ ٹاورز تعمیر کیے گئے، اور پاکستان نے 2019 میں سرحدی باڑ لگانے کا آغاز کیا جو اب بڑی حد تک مکمل ہو چکی ہے اور اب حکومت نے بغیر ویزے اور پاسپورٹ کے آمدورفت پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ راہداری نظام سے محدود تعداد میں لوگ مستفید ہوتے تھے، اس لیے اس کے خاتمے کے بڑے منفی اثرات کا امکان کم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ترقی کے نام پر سمگلنگ کی اجازت دینا مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ ماضی میں سرحدی شہروں میں غیر رسمی تجارت کے باوجود نہ سکیورٹی بہتر ہوئی اور نہ ہی پائیدار معاشی ترقی آئی۔

بنگلہ دیش میں نیا بحران: نئے وزیراعظم کا اصلاحات کے نفاذ سے انکار

دوسری جانب سرحدی اضلاع کے رہائشی اس حکومتی فیصلے کو اپنے لیے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں جانب بلوچ آبادی کے خاندانی اور تجارتی روابط صدیوں پر محیط ہیں اور راہداری نظام ان تعلقات کو برقرار رکھنے کا ایک عملی ذریعہ تھا۔ زمینی راستے کی بندش یا سختی کے باعث لوگوں کو کوئٹہ یا کراچی جا کر مہنگا فضائی سفر اختیار کرنا پڑتا ہے، جو عام شہری اور چھوٹے تاجروں کے لیے بوجھ بن جاتا ہے۔ تاجروں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف عالمی پابندیوں اور خطے میں کشیدگی کے باعث تجارت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں مزید پابندیاں معاشی سرگرمیوں کو مزید محدود کر سکتی ہیں۔ ناقدین کے مطابق اگر مکمل دستاویزی نظام نافذ کرنا ناگزیر ہے تو اس کے ساتھ زمینی امیگریشن کو فعال اور آسان بنایا جائے تاکہ قانونی تجارت اور عوامی آمد و رفت مکمل طور پر معطل نہ ہو۔ مبصرین کے مطابق پاکستان ایران سرحد پر راہداری نظام کا خاتمہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے، جس کے اثرات سکیورٹی، معیشت اور سرحدی سماج تینوں پر مرتب ہوں گے۔ حکومت پر امید ہے کہ اس اقدام سے غیر قانونی سرگرمیوں میں کمی آئے گی اور امن و امان بہتر ہوگا، جبکہ سرحدی آبادیوں کو خدشہ ہے کہ اس سے ان کے روزگار، کاروبار اور خاندانی روابط مزید مشکل ہو جائیں گے۔

 

Back to top button