پاکستانی کوششوں سےامریکا اور ایران 2 ہفتے کی جنگ بندی پر رضا مند

پاکستان کی اعلیٰ عسکری و سول قیادت یعنی وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مؤثر سفارتکاری نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑے بحران سے بچا لیا۔ امریکا اور ایران نے دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامندی ظاہر کر دی۔
واضح رہے کہ امریکا نے ایران سے اپنی شرائط پر آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے ایران نے مسترد کر دیا۔ اس کے جواب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی تھی۔گزشتہ روز ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایران کی تہذیب ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔
اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل متحرک سفارتکاری کرتے ہوئے دونوں ممالک کو دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادہ کر لیا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق جنگ بندی کا یہ فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا گیا، جنہوں نے ایران پر ممکنہ حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طریقے سے کھولنے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو امریکا دو ہفتوں کے لیے ایران پر بمباری اور حملے معطل رکھنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو دوطرفہ جنگ بندی قرار دیا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے بیشتر فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے کے حوالے سے پیش رفت بھی خاصی آگے بڑھ چکی ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے، جسے مذاکرات کے لیے ایک قابلِ عمل بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ماضی کے بیشتر تنازعاتی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور آئندہ دو ہفتے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔انہوں نے اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے قریب پہنچنے کا اہم موقع قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک دیرینہ مسئلے کے حل کی جانب بڑا قدم ہے۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل اور مؤثر کردار ادا کیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے خلاف حملے روک دیے جائیں تو ایرانی افواج بھی اپنی کارروائیاں معطل کر دیں گی۔ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق دو ہفتوں کے لیے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ممکن بنائی جائے گی، تاہم یہ عمل ایران کی مسلح افواج کے ساتھ مکمل رابطے اور تکنیکی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے انجام دیا جائے گا۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب سفارتکاری کے نتیجے میں ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات اسلام آباد میں کرنے پر اتفاق ہو گیا ہے، جہاں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔ایرانی نیشنل سپریم کونسل کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے اور یہ عمل زیادہ سے زیادہ 15 دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد ایک حتمی اور دیرپا معاہدہ طے کرنا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق امریکا سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد کو مقام کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جبکہ قطری میڈیا نے بھی ایرانی نیشنل سپریم کونسل کی جانب سے جنگ بندی کی تصدیق نشر کی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد حاصل ہونے والی پیش رفت کو ایک باضابطہ معاہدے کی شکل دینا مذاکرات کا اہم ہدف ہوگا، جبکہ اگر دونوں فریق متفق ہوئے تو مذاکرات کا سلسلہ مزید آگے بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان کے مطابق یہ فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی گفتگو کے بعد کیا گیا، جنہوں نے ایران میں ممکنہ تباہی کو روکنے کی درخواست کی تھی۔صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ جنگ بندی ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے مکمل اور محفوظ کھولنے کی یقین دہانی سے مشروط ہے اور اسے دوطرفہ سیز فائر قرار دیا جا رہا ہے۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے بھی پاکستان کی تجویز کردہ جنگ بندی کو قبول کر لیا ہے، جس کی منظوری ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے دی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایران اور امریکا نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر لبنان سمیت مختلف خطوں میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ان کے مطابق یہ جنگ بندی فوری طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے اور اسے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔انہوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور اسے دانشمندی اور دور اندیشی کا مظہر قرار دیا۔وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ ایران اور امریکا کے وفود کو جمعہ، 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد مدعو کیا گیا ہے تاکہ تمام تنازعات کے حتمی حل کے لیے مزید مذاکرات کیے جا سکیں۔شہباز شریف نے کہا کہ دونوں فریقین نے غیر معمولی فہم و فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن کے حصول میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے اور آنے والے دنوں میں مزید مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔
امریکا اور ایران کے درمیان مشروط دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں نمایاں ردعمل سامنے آیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں واضح کمی جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی۔عالمی بینچ مارک برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 15.9 فیصد کمی کے بعد 92.30 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جبکہ امریکی مارکیٹ میں ٹریڈ ہونے والا خام تیل بھی تقریباً 16.5 فیصد کمی کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔تاہم ماہرین کے مطابق قیمتیں اب بھی اس سطح سے زیادہ ہیں جہاں تنازع شروع ہونے سے قبل 28 فروری کو تیل تقریباً 70 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا تھا۔
یاد رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل اور گیس کی سپلائی شدید متاثر ہوئی تھی، خاص طور پر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملوں کی دھمکی کے بعد توانائی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔جنگ بندی کے بعد ایشیا پیسیفک خطے کی اسٹاک مارکیٹس میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔جاپان کے نکئی 225 انڈیکس میں 4.5 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 5.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
