پاکستان کی بنگلہ دیش سےدشمنی گہری دوستی میں بدلنےلگی

حسینہ واجد کے دورِ اقتدار کے خاتمے نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پچاس برس سے قائم نفرت اور بداعتمادی کی دیوار کو بھی منہدم کر دیا ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان دوریاں ایک بار پھر سِمٹتی دکھائی دیتی ہیں۔ عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے اور عبوری حکومت کے ساتھ متعدد معاہدوں پر دستخط اس امر کے غماز ہیں کہ دونوں ممالک ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر باہمی تعاون اور مشترکہ مستقبل کی جانب ملکر آگے بڑھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔
خیال رہے کہ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت قائم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ جہاں ایک طرف پاکستانی سول و عسکری قیادت بنگلہ دیش کے دورے کر چکی ہے وہیں دوسری جانب بنگلہ دیشی وفود کی پاکستان آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ تاہم دونوں ممالک کے مابین سب سے اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستان اور بنگلہ دیش میں براہِ راست تجارت بحال کر دی گئی، جس کے تحت بنگلہ دیش کو پاکستان سے چاول کی بڑی کھیپ برآمد کی گئی اور پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے جہاز نے پہلی مرتبہ بنگلہ دیشی بندرگاہ پر سرکاری سطح پر لنگر انداز ہو کر علامتی طور پر نصف صدی پرانے تعطل کو توڑا۔ اسی تناظر میں قریباً 20 سال بعد مشترکہ اقتصادی کمیشن کا اجلاس منعقد ہوا جس میں تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، توانائی، آئی ٹی، صحت اور فوڈ سیکیورٹی جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
صرف یہی نہیں 2025 میں ڈھاکا میں ہونے والے اعلیٰ سطحی دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 6 اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے، جن میں سفارتی و سرکاری پاسپورٹس پر ویزا کی شرط کا خاتمہ، تجارت کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ، فارن سروس اکیڈمیوں، میڈیا اداروں، اسٹریٹیجک اسٹڈیز اداروں اور ثقافتی تبادلوں میں تعاون شامل ہے۔ جبکہ تعلیم کے شعبے میں ’پاکستان بنگلہ دیش نالج کوریڈور‘ کے تحت بنگلہ دیشی طلبہ کے لیے سکالرشپس کا اعلان بھی کیا گیا۔
مبصرین کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیشن کے مابین ویزا سہولتوں میں نرمی، شپنگ اور براہِ راست فضائی رابطوں پر بات چیت اور علاقائی فورمز پر روابط کی بحالی معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں دونوں ممالک میں تعلقات پہلی بار جذباتی بیانیے کی بجائے معاشی اور عملی مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
مبصرین کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ تعلقات ہمیشہ ماضی اور مستقبل کے درمیان معلق رہے۔ 16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے نہ صرف ایک ملک کو دو حصوں میں تقسیم کیا بلکہ ایک ایسی سیاسی اور نفسیاتی خلیج بھی پیدا کی جو اگلے 50 برس تک دونوں ریاستوں کے باہمی رویّوں پر اثرانداز ہوتی رہی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کیلئے 1971 سے 1980 تک کا پہلا عشرہ مکمل طور پر خاموشی اور صدمے کا تھا۔ بنگلہ دیش ایک نئی ریاست کے طور پر اپنی شناخت قائم کر رہا تھا جبکہ پاکستان 1971 کی عسکری اور سیاسی شکست کے بعد داخلی بحرانوں میں گھرا ہوا تھا۔ اس عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان نہ سفارت تھی، نہ تجارت، نہ عوامی روابط تھے۔ 1974 میں لاہور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنا بلاشبہ ایک اہم پیش رفت تھی، مگر یہ قدم بھی اعتماد بحال نہ کر سکا۔ تعلقات رسمی سطح سے آگے نہ بڑھ سکے، اور پہلا عشرہ ایک بند دروازے کی طرح گزر گیا۔
تاہم 1980 کی دہائی میں حالات نے کچھ کروٹ بدلی۔ پاکستان میں جنرل ضیاالحق اور بنگلہ دیش میں جنرل حسین محمد ارشاد کے ادوار میں نظریاتی اختلافات کے بجائے او آئی سی جیسے فورمز پر دونوں ممالک ایک دوسرے کے قریب آئے۔ کچھ عملی مثالیں بھی سامنے آئیں۔ فوجی تربیت، سفارتی وفود کا تبادلہ، اور محدود تجارتی روابط۔ مگر یہ قربت سطحی رہی۔ 1971 کا سایہ ہر ملاقات میں موجود رہا۔ یوں یہ عشرہ ایک ایسی محتاط دوستی کی مثال بنا جو اعتماد میں کبھی نہ بدل سکی۔
مبصرین کے مطابق 1990 کی دہائی میں جمہوریت کی واپسی نے تعلقات میں ایک نیا عنصر شامل کر دیا۔ بنگلہ دیش میں 1996 میں شیخ حسینہ کی حکومت نے 1971 کو قومی بیانیے کا مرکز بنا دیا۔ نصاب، تقاریر اور ریاستی بیانات میں پاکستان کا ذکر ایک منفی حوالہ بن کر ابھرا۔ اس دور میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں سرد مہری بڑھتی گئی۔ اگرچہ سفارتی تعلقات برقرار رہے، مگر عملی تعاون محدود ہوتا چلا گیا۔ تاہم 2001 کے بعد کے دونوں ممالک میں ایک بار پھر تعلقات میں بہتری کی فضا بنی۔ دونوں ممالک نے یہ محسوس کیا کہ ماضی کو ایک حد تک پسِ پشت ڈال کر عملی مفادات پر بات کی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد پاک بنگلہ دیش باہمی تجارت بڑھی، تعلیمی تبادلے ہوئے اور دفاعی روابط بحال ہوئے۔ پاکستانی جامعات میں بنگلہ دیشی طلبہ کی تعداد بڑھی اور دوطرفہ وفود کا تبادلہ معمول بن گیا۔ مگر یہ بہتری دیرپا ثابت نہ ہو سکی۔ 2009 میں عوامی لیگ کی واپسی اور جنگی جرائم ٹربیونلز کے قیام نے اس دور کا خاتمہ کردیا۔
فیض حمید کی مرضی کے فیصلے دینے والے ججوں کی باری آ گئی
مبصرین کے بقول 2010کی دہائی دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے سب سے زیادہ کشیدہ ثابت ہوئی۔ 1971 کے جنگی جرائم کے مقدمات، جماعتِ اسلامی کے رہنماؤں کو دی گئی سزائیں، اور ان پر پاکستان کے ردعمل نے سفارتی بحران کو جنم دیا۔ سفیروں کو طلب کرنا، دفاعی تعاون کا خاتمہ اور اعلیٰ سطحی روابط کا تعطل اس عشرے کی نمایاں علامتیں بن گئیں۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں دونوں ممالک نے ٹکراؤ کے بجائے خاموشی کو ترجیح دی۔ شیخ حسینہ واجد کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے سیاسی سطح پر دونوں ممالک میں گرمجوشی نظرآ رہی ہے اس کے ساتھ ساتھ تجارت، صحت اور تعلیم جیسے شعبوں میں آہستہ آہستہ تعاون بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستانی فارماسیوٹیکل مصنوعات بنگلہ دیشی مارکیٹ میں جگہ بنا رہی ہیں، جبکہ علاقائی فورمز پر رابطے بحال بھی بحال ہو رہےہیں۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین تعلقات اب نہ جذباتی ہیں، نہ دشمنانہ بلکہ ایک محتاط حقیقت پسندی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
