پارلیمانی پارٹی اجلاس، فیصلوں کا اختیار شہباز شریف کو تفویض

وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی متحدہ اپوزیشن کی جانب سے نمبر پورے کرنے کے حوالے سے تگ و دو جاری ہے، اسی تناظر میں پی ایم ایل ن کی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں صدر میاں شہباز شریف کو نواز شریف کی رہنمائی میں تمام فیصلوں کا اختیار تفویض کردیا گیا۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی رہائش گاہ پر اجلاس ہوا، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تمام 84 ارکان قومی اسمبلی نے اجلاس میں شرکت کی، شہبازشریف نے اراکین کے اعزاز میں عشائیہ کا بھی اہتمام کیا۔
اجلاس میں پارلیمانی پارٹی کی جانب سے کہا گیا کہ قائد محمد نوازشریف اور شہبازشریف کے ہر فیصلے پر لبیک کہیں گے، شہبازشریف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لئے تمام فیصلے کریں گے، تحریک عدم اعتماد عوام کا مطالبہ ہے، کامیابی یقینی ہے، پارلیمانی پارٹی اجلاس میں مزید کہا گیا کہ قوم کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تباہی مزید قبول نہیں، عوام حکومت سے نجات، مہنگائی سے ریلیف اور قومی مفادات کی تکمیل چاہتے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران خان کی تقریر میں عیاں ہے وہ گھر جانے والے ہیں، پارلیمانی پارٹی نے قومی اسمبلی اجلاس فوری بلانے کا کہا ہے، نمبر گیم ہماری تحریک عدم اعتماد جمع کروانے سے پہلے ہی پوری تھی، تحریک عدم اعتماد والے دن انہیں پارلیمنٹ جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، کسی آرٹیکل 63 میں پارلیمنٹ جانے والے کو نااہل کرنے کا نہیں لکھا، ارکان اپنا اختیار استعمال کرلیں گے اسکے بعد انکے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔
مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے، اجلاس میں پارلیمانی پارٹی اجلاس تمام 84 ممبران نے شرکت کی، شہباز شریف خاصے پراعتماد دکھائی دے رہے تھے جبکہ مسلم لیگ ن نے روزانہ پارلیمانی پارٹی کے اعزاز میں عشائیہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی ٹی آئی نے 27 مارچ کو ڈی چوک میں جلسے کا اعلان کر دیا
قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے تک روزانہ ایک رکن اراکین کو عشائیہ دے گا، کل رکن قومی اسمبلی روحیل اصغر کی طرف سے عشائیہ دیا جائے گا جبکہ شہبازشریف نے تمام ارکان کو تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ تک اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کی۔
آج پیشیاں ہم بھگت رہے ہیں کل سے عمران نیازی اور اسکے حواریوں کی پیشیوں کا سلسلہ شروع ہو گا، ہمیں سیاسی انتقام کی خاطر پیشیاں بھگتنی پڑ رہی ہیں، ہم سیاسی انتقام نہیں لیں گے، انہیں قانون کے مطابق عدالتوں سے انصاف لینا پڑے گا، اب سے انکی پیشیوں کا سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے، تمام اتحادیوں سے بات چیت جاری ہے، عمران نیازی کے اتحادی بھی اب اسکا بوجھ اٹھانے کی ہمت ہار چکے ہیں۔
