پرویز الٰہی نے اپنے مطالبات چودھری شجاعت کے سامنے رکھ دئیے

چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی کی جیل میں ہونے والی ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں افواہوں کا بازار گرم ہے۔ کوئی ملاقات کو پرویز الٰہی کی ق لیگ میں واپسی سے تعبیر کر رہا ہے تو کوئی اسے مقدمات سے چھٹکارے کی نوید قرار دے رہا ہے۔ خیال رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سے پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت نے پیر 19 جون کو جیل میں ملاقات کی تھی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات کے بعد لوگوں کے ذہنوں میں سوال کھٹک رہا ہے کہ آخر دونوں کے درمیان ملاقات کیا راز و نیاز ہوئے، کیا چودھری شجاعت نے تحریک انصاف چھوڑنے کیلئے چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی؟چودھری پرویز الٰہی نے چودھری شجاعت کے سامنے کیا مطالبات رکھے؟ چودھری شجاعت نے چودھری پرویز الٰہی کو کیا یقین دہانیاں کروائیں۔
چودھری شجاعت اور چودھری پرویز الٰہی کی جیل میں ہونےوالی ملاقات بارے چودھری خاندان کے معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری شجاعت حسین نے اپنے بیٹے سالک حسین کے ساتھ کیمپ جیل میں پرویز الٰہی سے ملاقات کی۔ اس دوران پرویز الٰہی نے چوہدری شجاعت سے پہلا مطالبہ یہ کیا کہ مجھ پر جو کیسز بنوائے گئے ہیں ان سے نکلوایا جائے۔پرویز الٰہی نے چوہدری شجاعت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چھٹہ کسی سے ہدایات لے کر مجھ پر کیسز بنوا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق پرویز الٰہی نے دوسرا مطالبہ یہ کیا کہ مجھے فوری طور جیل میں بی کلاس دلوائی جائے۔
ملاقات کے دوران چوہدری شجاعت حسین نے پرویز الٰہی سے پوچھا کہ آپ پر کون کیسز بنوا رہا ہے تو پرویز الٰہی نے جواب دیا کہ آپ کا بیٹا سالک حسین اور محسن نقوی میرے اوپر کیسز بنوا رہے ہیں۔اس موقع پر چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ میرے دونوں بیٹوں کا آپ کو جیل بھیجنے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے یہ بھی وضاحت دی کہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی بھی اس کے پیچھے نہیں ہے۔ اس بات کی تسلی رکھو آپ کو جیل بجھوانے میں خاندان کے کس شخص کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ہاں البتہ جیل میں بی کلاس آپ کو فوری دلوائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت حسین نے پرویز الٰہی سے سیاست کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی اور نا ہی ان کو ق لیگ میں واپس آنے کی دعوت دی۔ پرویز الٰہی کو پی ٹی آئی چھوڑنے کا مشورہ بھی نہیں دیا گیا۔
خاندانی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ چوہدری بردارن کی ملاقات سے ایک روز قبل شجاعت حسین کی اہلیہ اور نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی ساس نے بھی پرویز الٰہی سے جیل میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھی چوہدری پرویز الٰہی نے خوب گلے شگوے کیے اور بتایا کہ کس طرح محسن نقوی ان کو اور ان کے بیٹے کو ٹاچر کر رہا ہے۔پرویز الٰہی نے یہ بھی بتایا کہ ان کے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی پر کتنے احسانات ہیں جس پر محسن نقوی کی ساس نے انہیں دلاسا دیا اور کہا کہ محسن نقوی کا ان سب چیزوں میں کوئی کردار نہیں ہے۔ آپ کو معلوم ہے آپ کے ساتھ کیوں اور کس کے کہنے ایسا ہو رہا ہے۔محسن نقوی کی ساس نے یہ بھی بتایا کہ نگران وزیراعلیٰ خود بہت پریشان ہیں۔ چوہدری شجاعت حسین بھی اس بارے میں کافی پریشان ہیں اور وہ ہر وقت آپ کی طبیعت کا پوچھتے رہتے ہیں۔اس ملاقات میں پرویز الٰہی نے کارڈیالوجی اسپتال لے جانے کا واقعہ بھی بتایا اور یہ بھی بتایا کہ ان کے ساتھ جیل کے اندر اور اسپتال میں کس طرح کا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔پرویز الٰہی نے محسن نقوی کی ساس سے شکوہ کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ جب سے آیا ہوں کپڑے نہیں تبدیل کرنے دیے جا رہے اور واش روم بھی گندا ہے۔جس پر انھوں نے اس حوالے سے انھیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
دوسری جانب کیمپ جیل کے ایڈمن بلاک میں چوہدری شجاعت کے ساتھ پرویز الٰہی کی ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی، اس ملاقات کے بعد مونس الٰہی نے ٹوئٹ کی کہ میرے والد کو ان کے وکیلوں سے ملنے نہیں دیا جارہا، میری والدہ کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی۔انہوں نے بتایا کہ آئی جی جیل خانہ جات خود چوہدری شجاعت اور سالک حسین کو ملوانے لے کر گئے مگر وکیلوں اور والدہ کو ملاقات کی اجازت نہیں مل رہی، اب یہ ہمیں
عمران دور میں فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے مجرم کون ہیں؟
کہیں گے کہ اس ہفتے کی خاندان والوں کی ملاقات کروا دی ہے۔