محمد خان بھٹی کی گرفتاری کے بعد پرویزالٰہی خطرے میں

سابق وزیر اعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے فرنٹ مین اور دست راست محمد خان بھٹی کی بلوچستان سے ایران فرار ہوتے ہوئے کوئٹہ پولیس کے ہاتھوں گرفتاری سے ان نام نہاد سیاسی رہنماؤں کے منہ ضرور بند ہو گئے ہیں جو محمد خان بھٹی کے مبینہ لاپتا ہونے کو بھی خفیہ ایجنسیوں کے کھاتے میں ڈال رہے تھے تاہم محمد خان بھٹی کی گرفتاری کے بعد چودھری پرویز الٰہی پریشانی کا شکار ہیں کہ اگر محمد خان بھٹی نے سب سچ اگل دیا تو ان کا کیا بنے گا؟

خیال رہے کہ کئی روز سے مبینہ طور پر لاپتا رہنے والے محمد خان بھٹی کو کوئٹہ پولیس نے بلوچستان میں سرحد عبور کر کے ایرانی طرف فرار ہوتے ہوئے گرفتار کیا ہے۔سابق وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کے دست راست محمد خان بھٹی کے خلاف اینٹی کرپشن میں 80 کروڑ روپے کی کرپشن کا مقدمہ درج ہے۔محمد خان بھٹی کے خلاف تقرر و تبادلوں میں رشوت اور ترقیاتی منصوبوں میں بھاری کمیشن وصول کرنے کا الزام ہے۔محکمہ اینٹی کرپشن نے محمد خان بھٹی کے خلاف درج مقدمے میں سی اینڈ ڈبلیو کے رانا اقبال کو پہلے ہی گرفتار کر رکھا ہے، گرفتار ملزم رانا اقبال، محمد خان بھٹی کے خلاف عدالت میں اعترافی بیان بھی ریکارڈ کروا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے کہا تھا کہ پرویز الہٰی کے پرنسپل سیکریٹری محمد خان بھٹی اور ضیغم گوندل کا تاحال کچھ پتا نہیں ہے جبکہ فواد چودھری سے پہلے پرویز الٰہی اور مونس الٰہی نے بھی محمد خان بھٹی کی گمشدگی کوخفیہ ایجنسیوں کے کھاتے میں ڈالا تھا۔اس سے قبل سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی مبینہ طور پر لیک ہونے والی آڈیوز میں بھی انہیں اپنے سابق پرنسپل سیکریٹری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔

واضح رہے کخ پنجاب میں جب بھی چوہدری پرویز الٰہی اقتدار میں آتے ہیں تو سب سے پہلے جس افسر کی اہم پوسٹ پر تعیناتی کا حکم نامہ جاری ہوتا ہے اس کا نام ہے محمد خان بھٹی۔سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی جانب سے پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد محمد خان بھٹی منظرعام سے تو غائب تھے البتہ وہ خبروں میں   موجود تھا۔

محمد خان بھٹی کا تعلق پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین سے ہے اور وہ گجرات کے چوہدریوں کے خاص الخاص شخص سمجھتے جاتے ہیں۔انہوں نے نوے کی دہائی میں پنجاب اسمبلی میں 14ویں گریڈ سے ملازمت کا آغاز کیا۔ جب چوہدری پرویز الٰہی سال 2002 میں وزیراعلیٰ پنجاب بنے تو محمد خان بھٹی کو کچھ ہی عرصے بعد سیکریٹری اسمبلی کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔ عام طور پر یہ عہدہ 20ویں یا 21ویں گریڈ کے افسر کو ملتا ہے۔

ان کے مخالفین کا الزام ہے کہ محمد خان بھٹی کو آؤٹ آف ٹرن پروموٹ کیا گیا۔سنہ 2008 میں جب صوبے میں مسلم لیگ ن کی حکومت آئی تو سب سے پہلے جس افسر کو عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنایا گیا، وہ محمد خان بھٹی ہی تھے۔ اگلے 10 برس جب تک پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت رہی، محمد خان بھٹی او ایس ڈی ہی رہے۔2018 کے عام انتخابات کے بعد جب صوبے میں تحریک انصاف نے حکومت بنائی تو چوہدری پرویزالٰہی کو سپیکر پنجاب اسمبلی کا عہدہ دیا گیا تو انہوں نے اپنے پہلے حکم نامے میں محمد خان بھٹی کو سیکریٹری پنجاب اسمبلی تعینات کر دیا۔

اپریل 2022 میں جب پنجاب کی وزرات اعلیٰ پر گھمبیر سیاسی لڑائی جاری تھی، پنجاب اسمبلی کے اندر سیکرٹری محمد خان ہی تھے جنہوں نے چوہدری پرویزالٰہی کی سپیکر کے طور پر طاقت کو بحال رکھا۔یہیں سے مسلم لیگ ن کی محمد خان بھٹی کے ساتھ نئی رنجش کا آغاز ہوتا ہے۔ حمزہ شہباز کو پنجاب اسمبلی کی بجائے بجٹ اجلاس ایوان اقبال میں کرنا پڑا تھا کیونکہ سیکریٹری اسمبلی نئے اجلاس کا نوٹیفکیشن ہی جاری نہیں کر رہے تھے۔

2022 میں جب چوہدری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے اپنے پہلے حکم میں محمد خان بھٹی کو اپنا پرنسپل سیکریٹری مقرر کر دیا۔پنجاب اسمبلی کیڈر کے وہ پہلے افسر ہیں جنہیں ڈیپوٹیشن پر یہ عہدہ دیا گیا۔ اسی دوران محمد خان بھٹی کو گریڈ 22 میں بھی ترقی دے دی گئی۔اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد انہیں دوبارہ اسمبلی سیکریٹری مقرر کر دیا گیا۔

مسلم لیگ نواز کی ترجمان عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ ’محمد خان بھٹی پرویزالٰہی کے ذاتی ملازم کی طرح اسمبلی کو چلاتے رہے اور اتنی آئینی اور قانونی خلاف ورزیاں کیں کہ سسٹم کو ہی نہیں چلنے دیا۔ انہوں نے افسر بھرتی ہوتے وقت آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا لیکن وہ آئین اور قانون سے ہٹ کر پرویزالٰہی کے وفادار بنے رہے۔جبکہ سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے ترجمان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک فرض شناس افسر ہیں۔ یہ الزامات بھونڈے اور من گھڑت ہیں۔

پنجاب کے محکمہ اینٹی کرپشن نے سیکریٹری پنجاب اسمبلی پر کروڑوں روپے رشوت لینے کے الزام کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔محکمہ اینٹی کرپشن نے محکمہ مواصلات کے ایکس سی این رانا اقبال کو گرفتار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں محکمہ اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ رانا اقبال نے رشوت دے کر یہ پوسٹ لی اور مزید ٹھیکوں کی مد میں 50 کروڑ روپے کے لگ بھگ رشوت الگ سے دی۔اس مقدمے میں کئی سرکاری افسران کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس مقدمے کے درج ہونے کے بعد سے محمد خان بھٹی منظرعام سے غائب تھے۔ ان کی رہائش گاہ پر متعدد چھاپے مارے گئے لیکن وہ گرفتار نہیں ہوئے تھے۔اس کیس میں شریک ملزم دلشاد کو محکمہ اینٹی کرپشن نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ اپنی عبوری ضمانت کروانے عدالت پہنچے تھے۔

محمد خان بھٹی پر الزام ہے کہ انہوں نے اربوں روپے کے ٹھیکے قانون سے ہٹ کر دیے اور جب وہ وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری تھے، ان کے ضلع منڈی بہاؤالدین کے لیے اربوں روپے کے فنڈز کا اجرا کیا گیا۔تاہم چوہدری پرویز الٰہی ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ نگران حکومت انتقامی کارروائیاں کررہی ہے اور جان بوجھ کر ہمارے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سب سیاسی انتقام ہے۔

الیکشن کمیشن کی 30اپریل سے 7 مئی تک انتخابات کی تجویز

Back to top button