پرویز الٰہی وزیراعظم ہاؤس کی بجائے اٹک جیل کیسے پہنچے؟

سینئر صحافی اور کالم نگار مظہر عباس کہتے ھیں کہ چوہدری پرویز الٰہی کو خاصی امید تھی کہ لاہور ہائی کورٹ کے واضح حکم کے بعد انہیں رہائی مل جائے گی مگر یہ ہو ناسکا اور رہائی کے فوراً بعد انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ۔ آخر ان سے ایسی کیا ’حکم عدولی‘ ہوئی ہے جس کی انہیں سزا مل رہی ہے مارچ اور اپریل2022کے درمیان ایسا کیا ہوا کہ پرویز الٰہی کی وہ گاڑی جو وزیراعظم ہاوس جارہی تھی وہ ’ اٹک جیل‘ پہنچ گئی۔ ۔ اپنے ایک کالم میں مظہر عباس کہتے ھیں کہ اب یہ دن بھی دیکھنا تھا؟ گجرات کے چوہدری پرویزالٰہی کو گاڑی سے گھسیٹ کر اسلام آباد پولیس نے نہ صرف گرفتار کیا بلکہ اب وہ قید ہیں اور وہ بھی ’ اٹک جیل‘ میں جہاں پہلے ہی اس وقت ریاست کے سب سے مطلوب شخص سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان قید ہیں اور بظاہر ان کے جلد باہر آنے کے امکانات معدم ہوتے جارہے ہیں۔ اندرون خانہ کیا ہورہا ہے اس کی ’خبر‘ صرف مخبروں کے پاس ہے مگر عین ممکن ہے کہ قائدین کو ایک جگہ رکھنے کے کچھ سیاسی مقاصد بھی ہوں۔ چوہدری پرویز الٰہی کو خاصی امید تھی کہ لاہور ہائی کورٹ کے واضح حکم کے بعد انہیں رہائی مل جائے گی مگر یہ ہو ناسکا اور رہائی کے فوراً بعد انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا ۔ آخر ان سے ایسی کیا ’حکم عدولی‘ ہوئی ہے جس کی سزا مل رہی ہے حالانکہ ہماری سیاست میں ’ چوہدری برادران ہمیشہ رہاستی اداروں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ اب برداران کی اپنی راہیں جدا ہیں۔ اب اس کا تعلق ان کا اور ان کے بیٹے چوہدری مونس الٰہی کے تحریک انصاف میں شمولیت سے ہے جس کا اپنا ایک سیاسی پس منظر ہے

مظہر عباس لکھتے ہیں کہ عجیب حسن اتفاق ہے کہ وہ چوہدری جن کی نہ شکل عمران خان کو پسند تھی اور نہ ہی ان کے دور حکومت میں ان کے درمیان کوئی ٹھوس رابطے تھے مگر پچھلے چند ماہ میں انہوں نے جس طرح قید کاٹی اس نے خود ان کے خاندان میں چوہدری ظہورالٰہی مرحوم کی یاد تازہ کردی جنہوں نے 70 کی دہائی میں سابق وزیراعظم ذوالفقار علی کے دور میں مشکل وقت دیکھا۔ یہ خبر ضرور نظر سے گزری کہ ’ اٹک جیل‘ کے اہم ترین قیدی کی ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ چوہدری پرویزالٰہی میں یہ ’تبدیلی‘ کیسے آئی کہ بڑے بھائی کا بھی ساتھ چھوڑ دیا جو انہیں انگلی پکڑ کر سیاست میں لائے تھے۔ مارچ اور اپریل2022کے درمیان ایسا کیا ہوا کہ شہباز شریف کی جگہ وزیراعظم بنتے بنتے ایک ’ کال‘ پر بنی گالہ چلے گئے اور یوں جو گاڑی وزیراعظم ہاوس جارہی تھی وہ ’ اٹک جیل‘ پہنچ گئی۔ سنا ہے جیل کی دوستی بڑی پائیدار ہوتی ہے۔ ’ چوہدریوں‘ نے 80 کی دہائی سے آج تک’ ریاست‘ اور اس کے اداروں کے ساتھ بے وفائی نہیں کی۔ ’ریاست کے اندر ریاست‘ کے تصور کو ان سے اور شریفوں سے زیادہ بہتر کون جان سکتا ہے۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ 2002کے انتخابات ہونے والے تھے کہ عمران کو ’ ایوان صدر‘ سے فون آیا کےا لیکشن کے سلسلے میں اجلاس ہے۔ عمران نے ’ کور کمیٹی‘ جس میں پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل معراج محمد خان اور حامد خان بھی شامل تھے کو اعتماد میں لیا تاہم حامد خان نے جنرل مشرف سےملاقات سے انکار کردیا ان کا موقف تھا کہ اس سے پارٹی کو نقصان ہوگا معراج محمد کا بھی یہی موقف تھا تاہم عمران کے کہنے پر وہ ساتھ چلے گئے اس کا احوال خود معراج محمد نے ایک بار سنایا تھا کہ۔’’ وہاں پہنچے تو ایک طرف چوہدری شجاعت تو دوسری طرف پرویزالٰہی تھے۔ ان دونوں سے خان کو اتنی ہی نفرت تھی جتنی شریفوں اور زرداریوں سے۔ اجلاس سے واضح ہوگیا کہ عمران کو میا نوالی کے علاوہ کوئی سیٹ نہیں ملے گی ۔ عمران نے باہر نکل کرکہا حامد ٹھیک کہتا تھا سب چور ہیں مشرف دھوکے باز ہے‘‘۔ کہتے ہیں اس اجلاس میں جنرل احتشام ضمیر نے خان صاحب کو ایک فہرست تھما دی تھی ممکنہ انتخابی نتائج کی۔ مظہر عباس کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں چوہدردی پرویز الٰہی عملاً وزیر اعلیٰ تھے۔ اس سب کے باوجود عمران بحیثیت وزیر اعظم لاہور آتے تو شاذونادر ہی چوہدریوں سے ملتے۔ تقریباً بات چیت بندتھی۔ جیسے ہی 2021میں زرداری، پرویزالٰہی قربتیں بڑھیں خان صاحب نے نیب کے ذریعےچوہدریوں کیخلاف ریفرنس کھلوادیا پھر معاملات طے ہوگئے تو ریفرنس ختم ہوگیا۔

عمران اور جنرل قمر باجوہ کے درمیان جنرل فیض کے معاملے پر معاملات بگڑے تو چوہدری کنفیوژن کا شکار ہوگئے۔ عمران پر حملہ ہوا ، خان نے حاضر سروس I S I کے جنرل کا نام لیا تو چوہدریوں نے F I R کی حمایت نہ کی مگر عمران کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کردیا چوہدری شجاعت کے سمجھانے کی وجہ سے اب ایک طرف چوہدری برادران میں دراڑ آگئی تو دوسری طرف مونس الٰہی نے والد کو پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے رہنے کو کہا اور وہ آج تک کھڑے ہیں جبکہ بزدار سمیت درجنوں رہنما ساتھ چھوڑ گئے۔سیاست بھی کیا ظالم چیز ہے جو کل تک ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی برداشت نہیں کرتے تھے اور کیا کیا القاب سےایک دوسرے کو نوازتے تھے آج ایک ہی جیل کے ساتھی ہیں۔ سکھ کے وقت کے ساتھی نہیں دکھ کے تو بن گئے۔ رہ گئی بات انصاف کے ایوانوں کی تو میں حیران ہو ں کہ اب عدالتوں کو یہ حکم بھی دینا پڑتا ہے کہ آئندہ اس شخص کو کسی اور مقدمہ میں بھی گرفتار نہ کیا جائے مگر شاباش ہے اس نظام کو وہ پھر بھی گرفتار کرلیتا ہے۔ جو کچھ ڈاکٹر یاسمین راشد اورپی ٹی آئی کی دیگر خواتین گرفتار کارکنوں کے ساتھ ہوا اس پر دیگر سیاسی جماعتوں کی خاموشی برقرار ہے اسی طرح جس طرح مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی خواتین کے ساتھ پی ٹی آئی کے دور میں ہوا ۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ ’اٹک جیل‘ کا خاص مہمان یہ ضرور سوچ رہا ہوگا کہ اقتدار میں جو لوگ میرے دائیں، بائیں کھڑے تھے ان میں علی محمد خان، شہر یار آفریدی، عمر چیمہ، محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور حلیم عادل شیخ کیوں نہ تھے۔ یہ بھی ضرور غور کر رہے ہونگے کہ جس شخص کی خاطر سب سے لڑائی مول لی وہ بھی دغا دے گیا…. پنجاب کا وزیراعلیٰ

ایف سی نے بلوچستان سے چینی کی اسمگلنگ ناکام بنادی

عثمان بزدار۔ پہلے ہی بات مان لیتے تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے

Back to top button