کیا پرویز الٰہی کو کسی ڈیل کے نتیجے میں رہا کیا گیا؟

عمرانڈو ہو کر اپنی عزت کا جنازہ نکالنے والے پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی ایک سال کی جیل یاترا کے بعد رہا ہوچکے ہیں۔ چودھری پرویز الٰہی کی رہائی کو جہاں بعض سیاسی مبصرین کسی ڈیل کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں وہیں بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف کو مزاحمتی سیاست کی بجائے مفاہمت کی جانب مائل کرنے کیلئے چوہدری پرویز الٰہی کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے تاہم عمرانڈو قیادت ان دعوؤں کی تردید کرتی دکھائی دیتی ہے۔

یاد رہے کہ چوہدری پرویز الٰہی اپنی زندگی کی سب سے طویل جیل کاٹ کر رہا ہوئے ہیں اور اسیری کے دوران انہیں لاہور کی کیمپ جیل، اڈیالہ جیل راولپنڈی اور کوٹ لکھپت جیل لاہور میں رکھا گیا۔سابق وزیراعلٰی پنجاب کو پے درپے 17 مقدمات میں گرفتار کیا گیا اور ان 17 مقدمات میں عدالتوں نے انہیں ضمانت پر رہا کیا۔چوہدری پرویز الٰہی 9 مئی کے بعد گرفتار ہوئے اور تقریبا 12 ماہ جیل میں رہے۔ گو ان کی کئی بار ضمانتیں ہو ئیں مگر رہائی ممکن نہ ہوسکی کیوں کہ انہیں چھوڑنے سے پہلے ہی کسی اور مقدمے میں گرفتار کرلیا جاتا۔

اُن پر جو آخری مقدمہ چل رہا تھا وہ پنجاب اسمبلی میں غیر قانونی بھرتیوں کے عوض رشوت لینے کے الزامات کے تحت تھا۔ یہ مقدمہ پنجاب کے محکمہ اینٹی کرپشن کی جانب سے بنایا گیا تھا جس میں بالآخر اُن کی ضمانت ہوگئی ایرانی کے برعکس عدالتی احکامات کے فوری بعد انھیں رہا کر دیا گیا۔یوں چوہدری پرویز الٰہی ایک سال سے تین دن کم کی جیل کاٹنے کے بعد اپنے گھر لوٹ آئے۔ اس صورتِ حال پر مبصرین کئی سوالات اُٹھا رہے ہیں۔

وفاقی کا بینہ کا فیض  آباد دھرنا انکوائری رپورٹ پرعدم اطمینان

پہلا سوال یہ ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کی رہائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اسٹیبلشمنٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج آمنے سامنے ہیں اور تحریک انصاف کے روپوش رہنما حماد اظہر بھی ایک سال کے بعد منظرعام پر آگئے ہیں تو کیا پسِ پردہ کچھ چل رہا ہے اور چوہدری پرویز الٰہی کسی ڈیل کے نتیجے میں رہا ہوئے ہیں؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے اُن کے وکیل عامر سعید راں کا کہنا تھا کہ ’چودھری الٰہی کسی ڈیل کے نتیجے میں رہا نہیں ہوئے۔ جس مقدمے میں اُن کو گرفتار کیا گیا تھا اس میں محکمہ اینٹی کرپشن کے پاس اُن پر لگائے گئے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ایک بھی ثبوت نہیں تھا، ‘چوہدری پرویز الٰہی ایک طویل قانونی جنگ کے بعد باہر نکلے ہیں۔‘

دوسری طرف روایت کے برعکس چوہدری پرویز الٰہی کی بغیر رکاوٹ رہائی پر تجزیہ کار افتخار احمد کا کہنا ہے کہ ’چوہدری پرویز الٰہی کی رہائی کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا بتایا جا رہا ہے۔‘’بغیر کسی ثبوت کے اسے ڈیل بھی نہیں کہا جا سکتا، تاہم یہ رہائی علامتی طور پر اہم ہے۔ تحریک انصاف نے اُن کی رہائی پر خوشیاں منائی ہیں اور وہ اُنہیں ایک ہیرو کی طرح دیکھ رہی ہے۔‘اُن کے مطابق ’اگر پرانا ٹریک ریکارڈ دیکھا جائے اور واقعاتی شہادتوں پر نظر دوڑائی جائے تو چوہدری پرویز الٰہی کی رہائی محض اتفاقیہ معلوم نہیں ہوتی۔‘

اسی طرح تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ ’پرویز الٰہی نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست کی ہے اور پہلی مرتبہ انہیں اتنے طویل عرصے کے لیے جیل جانا پڑا۔ اس میں اُن کے بیٹے مونس الٰہی کی طرز سیاست کا بڑا ہاتھ ہے۔‘’ڈیل ہوئی یا نہیں اس پر میں آن ریکارڈ کچھ نہیں کہوں گا، البتہ یہ ٹائمنگ بہت اہم ہے۔ حماد اظہر کا یہ کہنا کہ قیادت نے تمام روپوش لیڈروں کو باہر آںے کی ہدایت کی ہے اور ایک دن پہلے پرویز الٰہی کی بغیر کسی مزید ڈرامے کے رہائی بہت سارے سوالات اور جوابات اپنے ساتھ لیے ہوئے ہے۔‘

سلمان غنی کے مطابق ’ایک تو لگ رہا ہے کہ اب تحریک انصاف کی قیادت وکلا سے سیاسی لیڈرشپ کی طرف منتقل ہو رہی ہے اور دوسرا اب پرویز الٰہی اپنی بگڑی بنانے کے لیے اپنے پُرانے حربے استعمال کر سکتے ہیں جس کا فائدہ پی ٹی آئی کو ہی ہو گا، اگلا منظرنامہ خاصا دلچسپ لگ رہا ہے۔‘

سلمان غنی کے مطابق پرویز الٰہی 2 دفعہ وزیر اعلیٰ پنجاب رہ چکے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ طاقت کس کے پاس ہے۔پرویز الٰہی کی رہائی اب پاکستان تحریک انصاف میں وکلا کی سیاست اور ان کا غلبہ کم کردے گی۔ اب پی ٹی آئی کی سیاست پر وکلا کے بجائے سیاسی افراد کا غلبہ ہوگا۔سلمان غنی کے بقول پرویز الٰہی کے باہر آنے سے اب پی ٹی آئی کی مزاحمتی سیاست آگے نہیں بڑھے گی بلکہ اب مفاہمتی بیانیہ چلے گا اور پارٹی کو ایک نیا رخ ملے گا۔ تجزیہ کار کا خیال ہے کہ پرویز الٰہی کے باہر آنے کی ٹائمنگ معنی رکھتی ہے۔

Back to top button