PDM متحد ہے، میں نے کوئی چھرا نہیں گھونپا

سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ مجھے بی اے پی نے ووٹ نہیں دیا، سرکاری اپوزیشن نہ کہا جائے، ہم اکٹھے ہیں اور اکٹھے چلیں گے، چاہتے ہیں پی ڈی ایم متحد رہے، ایک قدم کی وجہ سے غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے، پی ڈی ایم جماعتوں کو اعتماد میں لوں گا۔ انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی آواز عوام کی آواز ہے، ہمیں اس کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں ہمیں کہا گیا ہم نے 26 مارچ کو لانگ مارچ اور دھرنا کرنا ہے۔ بلاول بھٹو نے پوری تیاری کر رکھی تھی، حالیہ اجلاس میں کہا گیا کہ لانگ مارچ کا فائدہ نہیں جب تک استعفے نہ دیے جائیں، ہمارے لیے یہ نئی بات تھی، اس معاملے پر اختلاف رائے تھا، اختلاف رائے جمہوریت کی روح ہے، اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے یہی کہا کہ 9جماعتیں استعفوں پر متفق ہیں، جب کہ ایک جماعت پیپلزپارٹی متفق نہیں ہے۔ وہ چلے گئے اور میں کھڑا رہا، مریم نواز نے بھی اپنی بات کی، وہ بھی کھڑی رہیں، میں نے کہا اب لانگ مارچ کے ساتھ استعفے بھی نتھی کیے گئے ہیں، اس لیے ہمیں وقت دیں ہم سی ای سی اجلاس میں فیصلہ کریں گے۔ سی ای سی اجلاس میں ہم استعفوں کے معاملے پر فیصلہ کریں گے۔ اس دوران لیڈرآف اپوزیشن کا بھی ایشو تھا، پی ڈی ایم کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کا فیصلہ ہوا، ہم نے قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کو اپوزیشن لیڈر کا کہا، چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی ان کو دیا، اسی طرح سینیٹ میں پیپلزپارٹی کا ہونا چاہیے۔ صدر زرداری نے نوازشریف، مولانا فضل الرحمان، دیگر جماعتوں کے ساتھ رابطے کیے۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ہم اپنے فیصلوں کو تبدیل نہیں کریں گے لیکن دوسری جماعتوں نے کہا کہ ہم یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیں گے۔ آج ن لیگی سینئر رہنماء نے کہا کہ بی اے پی پارٹی نے ووٹ دیا، باپ پارٹی نے ووٹ نہیں دیا، ہمیں سرکاری اپوزیشن نہ کہا جائے، پی ڈی ایم کے ساتھ ہیں، ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے، میں وزیراعظم تھا تو مجھے ن لیگ کا وزیراعظم کا جاتا تھا۔مجھے سارے ایوان نے ووٹ دیا تھا، پی ڈی ایم کو یقین دلاتا ہوں ہم اکٹھے تھے اور اکٹھے چلیں گے، کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔پی ڈی ایم جماعتوں کے سربراہاں سے مل کر ان کو اعتماد میں لوں گا۔
واضح رہے کہ ایوانِ بالا کے نئے اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں اختلافات ابھر کے سامنے آئے تھے۔
قبل ازیں مسلم لیگ (ن) سینیٹ سیکریٹریٹ میں سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کو اپوزیشن لیڈر کے عہدے کےلیے نامزد کرنے کی درخواست جمع کرواچکی تھی۔
اعظم نذیر تارڑ کی نامزدگی کےلیے مسلم لیگ (ن) کے 17 اراکین سینیٹ نے دستخط کیے اس کے علاوہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 5 سینیٹرز اور نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 2، 2 اراکین نے حمایت کی یقین دہانی کروائی تھی۔
مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ اپوزیشن لیڈر کےلیے اعظم تارڑ کو نامزد کیا تھا لیکن پیپلز پارٹی نے نہ صرف اسے مسترد کردیا تھا بلکہ اس پر احتجاج بھی کیا تھا کیوں کہ وہ بینظیر بھٹو قتل کیس کے ملزمان پولیس افسران کے وکیل تھے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ 3 تاریخ کو سینیٹ انتخابات ہوئے تھے جس میں سب سے نمایاں انتخاب یوسف رضا گیلانی کا تھا جنہوں نے قومی اسمبلی میں حکومتی اراکین کی اکثریت کے باوجود حکومت کے امیدوار ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو شکست دے دی تھی۔
بعدازاں اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم نے چیئرمین سینیٹ کے چناؤ کےلیے مشترکہ طور پر یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ نامزد کیا تھا تاہم یہاں اپوزیشں اراکین کی اکثریت کے باوجود حکومتی امیدوار صادق سنجرانی نے انہیں شکست دے دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button