خیبرپختونخواہ میں بڑھتی دہشت گردی کے بعد عوام نقل مکانی پر مجبور

خیبر پختونخواہ میں آئے روز ہونے والے شرپسندانہ واقعات اور بگڑتی ہوئی امن عامہ کی صورتحال کے بعد عوام نے صوبے کے مختلف علاقوں سے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ کے پی کے سے دوسرے صوبوں میں نقل مکانی کرنے والے شہریوں کا کہنا ہے کہ صوبے میں سیکیورٹی کی صورتحال دن بدن مخدوش ہوتی جا رہی ہے تاہم افسوس کی بات یہ ہے کہ صوبے میں قیام امن گنڈاپور سرکار کی ترجیحات میں شامل نہیں اس لئے موجودہ حالات کا تقاضا یہی ہے کہ اپنی جانوں کو محفوظ بنانے کیلئے ملک کے دیگر حصوں کا رخ کر لیا جائے اسی لئے لوگوں کی بڑی تعداد بد امنی کے شکار علاقوں سے مختلف صوبوں کی طرف نقل مکانی کر رہی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ سال رواں کے دوران ان دہشتگردانہ حملوں میں عوام کے ساتھ ساتھ سکیورٹی اہلکاروں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے متعدد رہنماوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
حالات یہاں تک خراب ہو چکے ہیں کہ صوبائی حکومت نے دارالحکومت پشاورسمیت دیگر اضلاع میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے سرکاری عہدیداروں کو رات کے وقت سفر نہ کرنے اور اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اسی طرح افغانستان سے ملحقہ تین ضم قبائلی اضلاع کے مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی اس لہرکے دوران زیادہ تر مذہبی شخصیات، سکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کےافسران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سےعام شہریوں میں خوف بڑھتا جا رہا ہے۔ شرپسندوں کی جانب سےدہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والی پولیس کو بھی مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے افغان سرحد سے متصل پاکستانی اضلاع میں دہشت گردی اور بدامنی کےواقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران پاکستان اور افغانستان کے مابین آمدورفت کی گزرگاہیں بھی کئی کئی ہفتوں کے لیے بند ہوتی رہی ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث افراد میں زیادہ تر کا تعلق افغانستان سے ہوتا ہے جبکہ افغان حکام کے اس الزام کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
صوبے میں بڑھتی ہوئی شرپسندانہ کارروائیوں کے بعد جہاں خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے، وہیں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے صوبے کے جنوبی اضلاع کے بعض علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں۔ افغانستان کے سرحدی اضلاع ٹانک،جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، ضلع خیبر جیسےعلاقوں میں کرفیو سمیت دہشت گردوں کےخلاف آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مسلسل کارروائیوں سے ہلاکتیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ علاقہ عدم استحکام کا شکار ہونے کے خدشات ہیں۔
دہشت گردی کی اس نئی لہر کے حوالے سے سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک حکومت نے جتنے بھی آپریشن شروع کیے ہیں، ان سے عوام کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ کیونکہ یہ ماضی کی طرح پراکسی وار نہیں بلکہ آپریشن کے بعد باقاعدہ طور مارے جانے والے دہشت گردوں کے تصاویرجاری کی جاتی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو سال رواں کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن کے دوران مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ پہلے دہشت گردانہ حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں کا جانی نقصان زیادہ ہوتا تھا لیکن اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے اور پولیس اورفوج کامیابی سے اپنا دفاع کر رہے ہیں۔‘‘
کیا اس بار دہشت گردوں کے خلاف خاموشی سے فوجی آپریشن ہوگا؟
تاہم ماہرین کے مطابق امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے خیبر پختونخوا بھر کےعوام کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فوجی آپریشن، بم دھماکے، خود کش حملے اور فرقہ ورانہ فسادات نے صوبے کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق بدامنی کی وجہ سے تاجروں کی ایک بڑی تعداد دیگرصوبوں یا بیرون ملک منتقل ہوچکی ہیں۔ تاہم اب ضم قبائلی اضلاع میں آئے روز آپریشن اور کرفیو کی وجہ سے بھی مقامی آبادی نقل مکانی پرمجبور ہورہی ہے تاہم گنڈاپور سرکار صوبے میں پھیلتی بدامنی کو روکنے اور ٹی ٹی پی کے حامی حلقوں کو لگام ڈالنے کی بجائے مسلسل ان کی وکالت میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔
