نواز شریف کے مشن بلوچستان سےپیپلز پارٹی کو پریشانی کیوں؟

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے مشن بلوچستان نے ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ بلوچستان میں بڑی تعداد میں الیکٹ ایبلز کی نون لیگ میں شمولیت نے جہاں مسلم لیگ نون کے سیاسی حریفوں کی نیندیں اڑا دی ہیں وہیں پارٹی کی حلیف جماعتوں کو بھی حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔
بلوچستان سے سابق وزیر اعلی جام کمال اور مختلف سابق وفاقی و صوبائی وزراء سمیت مختلف سیاسی شخصیات کی نون لیگ میں شمولیت سے بلوچستان کی صورت حال خاصی واضح ہو گئی ہے۔ اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام اور پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں کمپین کی تھی مگر اب ان کی کمپین ضائع ہوتی نظر آ رہی ہے کیونکہ تمام الیکٹ ایبلز کا رخ ن لیگ کی طرف ہوت دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ نون لیگ میں شامل ہونے والوں میں بڑی تعداد بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں اور سابق پارلیمنٹرینز پر مشتمل ہے تاہم مسلم لیگ ن کا حصہ بننے والوں میں پی ٹی آئی، نیشنل پارٹی، بی این پی اور پیپلز پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنما بھی شامل ہیں-
ذرائع کے مطابق نواز شریف کوئٹہ میں قیام کے دوران ایک ورکرز کنونشن سے بھی خطاب کریں گے جس کے ذریعے وہ نہ صرف اپنی انتخابی مہم کو آگے بڑھائیں گے بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں اپنی جماعت کی کامیابی کے لیے راہ بھی ہموار کریں گے۔نواز شریف کے دورہ بلوچستان کو دوسری جماعتیں خصوصی دلچسپی سے دیکھ رہی ہیں۔
بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی نے اس پر کھل کر بات کی ہے اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے یہاں تک کہا ہے کہ نواز شریف کو لاہور میں مشکل پیش آ رہی ہے اس لیے وہ بلوچستان گئے ہیں تاکہ وہاں باپ جیسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر اپنے لیے مناسب نشستوں کا انتظام کر سکیں ساتھ ہی بلاول بھٹو نے نواز شریف کو پنجاب پر فوکس کرنے کا مشورہ دیا ہے۔بلاول بھٹو کی یہ بات زیادہ بے جا نہیں محسوس ہوتی کیونکہ نواز شریف کے کوئٹہ پہنچنے کے بعد کم و بیش وہاں کی تمام سیاسی جماعتیں ان سے رابطہ کر رہی ہیں اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بلوچستان کے الیکٹیبلز کی ایک بڑی تعداد اگلے انتخابات مسلم لیگ نواز کے پلیٹ فارم سے لڑیں گے۔
سینیئر سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا مشن بلوچستان ان کی اس کوشش کا حصہ ہے جو وہ اپنی جماعت کو ملک گیر بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔’نواز شریف پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں میں بھی اپنی جماعت کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں، اسی لیے وہ دوسرے صوبوں میں اتحاد بنا رہے ہیں، جیسے کہ سندھ میں بھی وہ اتحاد بنا رہے ہیں۔ بلوچستان کا دورہ بھی اسی مہم کا حصہ ہے اور وہ وہاں بھی اسی نوعیت کے اتحاد بنائیں گے۔‘
سہیل وڑائچ کا خیال ہے کہ نواز شریف مرکز اور پنجاب کے ساتھ دوسرے صوبوں بالخصوص بلوچستان میں بھی حکومت بنانے کے خواہشمند ہیں۔ ’اور ان کی کوشش ہے کہ وہاں ان کی جماعت اتنی مضبوط ہو جائے کہ اگر حکومت نہ بھی بنا سکے تو کم از کم اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بنے۔‘سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے الیکٹیبلز سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بناتے آئے ہیں۔ ’وہ پیپلز پارٹی اور دوسری جماعتوں کے ساتھ بھی اتحاد کرتے رہے ہیں اور اب نون لیگ سے بھی اتحاد ہی کر رہے ہیں۔‘
بلوچستان کے سینیئر صحافی شہزادہ زوالفقار کے مطابق نواز شریف کوشش کر رہے ہیں کہ بلوچستان کے تمام سیاسی دھڑے ان کی حمایت کریں۔’ان کی خواہش ہے کہ اختر مینگل، ڈاکٹر مالک اور محمود خان اچکزئی بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائیں اور اس بات کا امکان ہے کہ بدھ کے روز محمود اچکزئی نواز شریف سے ملاقات کریں۔‘شہزادہ ذوالفقار کا ماننا ہے کہ نواز شریف کی انٹری سے بلوچستان میں سب سے زیادہ نقصان پیپلز پارٹی کو ہوا ہے کیونکہ جتنے الیکٹیبلز نون لیگ میں شامل ہو رہے ہیں پہلے یہی لوگ پیپلزپارٹی میں جا رہے تھے۔’اسی لیے بلاول بھٹو کافی غصے میں ہیں۔ لیکن بظاہر پیپلز پارٹی ابھی بھی کوشش کر رہی ہے کہ کچھ بچے کھچے بلوچ سیاستدان ان کے ساتھ اتحاد بنائیں۔‘’اسی لیے پیپلز پارٹی نے پہلی مرتبہ بلوچستان میں 30 نومبر کو یوم تاسیس کی تقریب رکھی ہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بلوچستان آئیں گے ضرور اور جتنے بھی لوگ اپنے ساتھ ملا سکے ملانے کی کوشش کریں گے۔‘
دوسری جانب بعض دیگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی اسی طرف ہوتی ہے جس طرف اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے،بلاول بھٹو کا ن لیگ کو دوسرے صوبوں میں جانے پر تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں ہے،بلاول بھٹو کا بیان ان کی کمزوری ظاہر کررہا ہے، بلوچستان عوامی پارٹی ن لیگ سے ہی نکلی ہے وہ دوبارہ ن لیگ کے ساتھ جارہی ہے ،2018ء میں بلوچستان عوامی پارٹی کے کردار پر پیپلز پارٹی کو بھی شرمندہ ہونا چاہئے، بلاول بھٹو پنجاب میں آکر بھرپور سیاست کریں، آصف زرداری بھی بلوچستان میں انہی لوگوں سے ملیں گے جن سے ن لیگی قیادت مل رہی ہے، 2008ء میں آصف زرداری نے چوہدری برادران سے ہاتھ ملالیا تھا کیا وہ فیصلہ درست تھا، ن لیگ نے ماضی میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود اتحاد کیا، ۔ان کا مزید کہنا ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی اسی طرف ہوتی ہے جس طرف اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے، بلاول بھٹو کی بات درست ہے لیکن اس میں جیلسی کا عنصر بھی ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ ’بلوچستان میں 2017 میں ہماری پارٹی توڑی گئی، حکومت گرائی گئی اور وہاں سے لوگوں کو سائیڈ لائن کیا گیا۔‘’اب تمام لوگ پارٹی میں واپس آنا چاہتے ہیں تو انھیں خوش آمدید کہا جا رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ لیگی قیادت کے دورہ بلوچستان کا ایک مقصد اس تاثر کو زائل کرنا بھی ہے کہ مسلم لیگ ن صرف پنجاب کی پارٹی ہے۔ ’یہ اس لیے بھی بہت ضروری ہے کہ ہر صوبے میں ہم اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کریں۔‘عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بلوچستان کے بعد نواز شریف سندھ جائیں گے۔ ’پنجاب ہمارا مرکز ہے، یہاں مریم نواز اور حمزہ شہباز بھی الیکشن مہم چلا سکتے ہیں لیکن بلوچستان، سندھ اور کے پی کے پر ہماری توجہ ہو گی کیوں کہ یہاں سے وزیراعظم بننے کے لیے سیٹیں چاہیے ہوں گی۔‘
