تیراہ وادی سے عوام کی نقل مکانی، PTI کا دوغلا چہرہ بے نقاب

خیبر پختونخوا کی حساس وادی تیراہ سے سینکڑوں خاندانوں کی نقل مکانی نے جہاں ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے، وہیں یہ معاملہ وفاق، سیکیورٹی اداروں اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے درمیان ایک شدید تنازعے کی علامت بھی بن گیا ہے۔ بظاہر یہ معاملہ طالبان شدت پسندوں کے خلاف مجوزہ فوجی آپریشن سے جڑا ہے، تاہم گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ مسئلہ صرف سیکیورٹی سے متعلقہ نہیں بلکہ نظریاتی اختلافات کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
تیراہ وادی کو خالی کرانے کا فیصلہ اچانک نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ماہ مقامی جرگے، ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان کئی ہفتوں پر محیط مذاکرات ہوئے، جن میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ علاقے میں سرگرم کالعدم شدت پسند طالبان عناصر کے خلاف ایک حتمی کارروائی سے قبل شہری آبادی کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے گا۔ ان مذاکرات میں یہ بھی طے پایا تھا کہ نقل مکانی 25 جنوری تک مکمل کر لی جائے گی اور حالات بہتر ہونے پر اپریل 2026 سے متاثرین کی مرحلہ وار واپسی شروع ہو گی۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق تیراہ وادی گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف شدت پسند تنظیموں کا گڑھ بنی ہوئی تھی۔
تحریک طالبان پاکستان، داعش خراسان، ٹی ٹی پی جماعت الاحرار، ٹی ٹی پی حافظ گل بہادر گروپ اور لشکر اسلام جیسے نیٹ ورکس نے یہاں نہ صرف پناہ گاہیں قائم کر رکھی تھیں بلکہ مقامی سماجی ڈھانچے میں مداخلت بھی شروع کر دی تھی۔ ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک غیر ملکی خودکش حملہ آور، جسے پشاور میں ایک بڑے سیاسی اجتماع پر حملے کا ٹاسک دیا گیا تھا، وہ بھی اسی وادی میں مقیم رہا۔ ان عوامل کے باعث ریاستی اداروں کے نزدیک تیراہ ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بن چکا تھا۔
تاہم بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نقل مکانی کے دوران شدید سردی، برفباری اور ناقص انتظامات کے باعث متاثرہ خاندان کھلے آسمان تلے دربدر ہو گئے۔ بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں افراد کے لیے نہ مناسب پناہ موجود تھی اور نہ ہی بنیادی سہولیات۔ برفانی طوفان کے دوران حادثات بھی پیش آئے، جن میں دو بچوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی، جبکہ ریسکیو اداروں کو سینکڑوں افراد کو برف میں پھنسنے سے نکالنا پڑا۔ صورتحال کی سنگینی کے بعد ضلعی انتظامیہ نے عارضی طور پر نقل مکانی روکنے کا اعلان کیا۔
یہی وہ مرحلہ تھا جہاں معاملہ انتظامی ناکامی سے بڑھ کر سیاسی محاذ آرائی میں تبدیل ہو گیا۔ وفاقی حکومت نے واضح طور پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ افواج پاکستان نے کسی بھی مرحلے پر آبادی کے انخلا کا حکم نہیں دیا اور یہ کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے لیے آبادی کو بے دخل کرنا ضروری نہیں ہوتا۔ وفاقی وزارت اطلاعات کے مطابق نقل مکانی مقامی آبادی کی رضامندی، جرگے کی سفارشات اور صوبائی حکومت کی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی، جس کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے خود اربوں روپے کے فنڈز بھی جاری کیے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عوام کو مجوزہ فوجی آپریشن کے باعث اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ وفاق نے نہ صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیا اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کو، بلکہ فیصلے بند کمروں میں کیے گئے۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس نے فنڈز اس لیے جاری کیے تاکہ متاثرہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے، جبکہ اصل ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وفاق اور صوبے کے درمیان اس چپقلش کی ایک گہری وجہ نظریاتی اختلاف بھی ہے، جس کا براہ راست تعلق تحریک انصاف کی قیادت کے طالبان سے متعلق مؤقف سے جوڑا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ماضی میں طالبان کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ صوبے اور قبائلی اضلاع میں بڑے فوجی آپریشنز کے سخت ناقد رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ مؤقف صرف امن کے بیانیے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے قبائلی علاقوں میں طالبان سے متاثر یا ہمدرد حلقوں کی سیاسی حمایت حاصل کرنے کی حکمت عملی بھی کارفرما ہو سکتی ہے۔
اسی تناظر میں عمران خان کے بیانات اور پالیسی مؤقف بھی زیر بحث آتے ہیں۔ ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ عمران خان ماضی میں طالبان کو اپنے لوگ قرار دے چکے ہیں اور خیبر پختون خوا اور قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشنز کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کی مجموعی پالیسی میں عسکریت پسندی کے خلاف ریاستی سخت مؤقف کی بجائے مذاکرات اور نرم رویے پر زور دیا گیا، جسے بعض حلقے ریاستی انسداد دہشت گردی کے ایجنڈے کے لیے رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔
وادی تیراہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہورہے ہیں : وزیر مملکت برائے داخلہ
وفاقی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی نظریاتی اختلاف کے باعث صوبائی حکومت اور مرکز کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہوا، اور تیراہ وادی کا معاملہ اس کشمکش کا عملی اظہار بن گیا۔ ایک طرف ریاست شدت پسند نیٹ ورکس کے مکمل خاتمے کو ناگزیر قرار دے رہی ہے، تو دوسری جانب صوبائی قیادت عوامی ردعمل اور سیاسی نقصان کے خدشات کے تحت کھل کر آپریشن کی حمایت سے گریزاں دکھائی دیتی ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان تیراہ کے عام شہریوں کا ہوا ہے، جو نہ صرف دہشت گردی اور آپریشن کے بیچ پس رہے ہیں بلکہ سیاسی الزام تراشی کا ایندھن بھی بن چکے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک وفاق، صوبہ اور سیکیورٹی ادارے ایک واضح، مشترکہ اور شفاف پالیسی کے تحت آگے نہیں بڑھتے، تیراہ جیسے علاقے بار بار اسی قسم کے انسانی اور سیاسی بحرانوں کا شکار رہیں گے، اور ریاستی رٹ قائم کرنے کا مقصد بھی متنازع بنتا رہے گا۔
