محمد خان بھٹی کاججوں کو رشوت دینے کا اعتراف

پنجاب اسمبلی کے سیکرٹری اور سابق وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے گرفتار قریبی ساتھی محمد خان بھٹی نے پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی کے کہنے پر دو سینئر ججوں کو بھاری رشوت دینے کا اعتراف کر لیا ہے، رشوت دینے کا مقصد پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے زیر سماعت مقد مات میں مرضی کے فیصلے حاصل کرنا تھا، محمد خان بھٹی کے اس اعترافی بیان کی آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگ بھی متعلقه محکموں کے پاس موجود ہے، یہ سنسنی خیز انکشاف فرائی ڈے ٹائم نامی جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے، رپورٹ میں باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے سابق پرنسپل سیکرٹری محمد خان بھٹی نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے مونس الٰہی کے خلاف اپنا اعترافی بیان ریکارڈ کرا دیا ہے اور امکان ہے کہ وہ ان دونوں باپ بیٹے کے خلاف وعدہ معاف گواہ بھی بن جائیں گے۔
محمد خان بھٹی کو جمعرات کے روز کوئٹہ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایران فرار ہونے کوشش کر رہے تھے، سی آر پی سی کی دفعہ 164 کے تحت دئیے گئے اپنے بیان میں گرفتار سیکرٹری پنجاب اسمبلی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر پرویز الہی کے کہنے پر بھاری رقم کیسے ادا کی تاکہ سابق وزیراعلیٰ اور ان کے صاحبزادے کے زیر سماعت مقدمات میں جج حضرات سے ایک بندوبست کے تحت فیصلے اپنے حق میں کراۓ جاسکیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ ’’محمد خان بھٹی نے پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے کہنے پر دو سینئر ججوں کو رشوت دینے کا اعتراف کیا اور اس کی آڈیو اور ویڈیو بھی متعلقہ محکموں کے پاس موجود ہیں‘‘ جلد ہی یہ آڈیو جاری کی جاۓ گی جس میں اس اعترافی بیان کے بنیادی نکات بھی سامنے آئیں گے۔ "اس آڈیو میں جج اور ان کے دو بیٹوں کے بارے میں سنا جا سکتا ہے کہ کس طرح محمد خان بھٹی نے پرویز الٰہی اور مونس کے کہنے پر مبینہ طور پر کچھ ججوں کو پیسے اور دیگر مراعات دے کر ان کا بندوبست کیا۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے ذرائع نے بتایا کہ محمد خان بھٹی پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کے لئے تیار ہو گئے ہیں کیونکہ وہ ان تمام گھپلوں سے واقف ہیں جو مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز بیوروکریٹس اور ججوں کے فرنٹ مینوں کو رشوت دینے کی صورت میں ہوئے اور ان کے کہنے پر منظور نظر ٹھیکیداروں اورافسروں نے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ریکارڈنگز جج کے تعلق کو مزید واضح کر سکتی ہیں جن کی آڈیو گزشتہ ہفتے قبل منظر عام پر آئی تھی جس میں وہ سابق وزیراعلیٰ الٰہی سے محمد خان بھٹی کی ان کے گھر پر موجودگی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
ذرائع نے ان ریکارڈنگز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "مختلف بیوروکریٹس اور پولیس افسروں کے تبادلوں، تعیناتیوں اور کک بیکس سے جو رقم ملی وہ پرویز الٰہی اور ان کے بیٹے کے کہنے پرنقد کی شکل میں لی گئی۔دوسری طرف ڈائریکٹر جنرل انٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سہیل ظفر چٹھہ نے چار رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے جو محمد خان بھٹی کو لاہور لائے گی کیونکہ ان کے خلاف محکمہ انٹی کرپشن میں 80 کروڑ روپے کی کرپشن کا مقدمہ پہلے ہی درج ہے۔ ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ’’محمد خان بھٹی نے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے لیے بھاری رقم اور ترقیاتی کاموں کے ٹھیکے دینے کے لیے لاکھوں روپے کمیشن وصول کیا تھا‘‘۔
اس کیس میں سی اینڈ ڈبلیو کے ایک افسر رانا اقبال کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے جس نے عدالت میں محمد خان بھٹی کے خلاف اپنا اعترافی بیان ریکارڈ کرایا ہے۔
واضح رہے کہ محمد خان بھٹی چوہدری پرویز الٰہی کے قریبی ترین ساتھیوں میں سے ایک ہیں اور انہیں اور ان کے اہل خانہ کو ملی معاملات میں چوہدری پرویز اور مونس الٰہی کا فرنٹ مین بھی کہا جاتا ہے، پنجاب میں جب بھی چوہدری پرویز الٰہی اقتدار میں آتے ہیں تو سب سے پہلے جس افسر کی اہم پوسٹ پر تعیناتی کا حکم نامہ جاری ہوتا ہے، اس کا نام ہے محمد خان بھٹی۔ سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کی جانب سے پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد محمد خان بھٹی منظرعام سے تو غائب تھے البتہ وہ خبروں میں موجود تھے۔
محمد خان بھٹی کا تعلق پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین سے ہے اور وہ گجرات کے چوہدریوں کے خاص الخاص شخص سمجھتے جاتے ہیں۔انہوں نے نوے کی دہائی میں پنجاب اسمبلی میں 14ویں گریڈ سے ملازمت کا آغاز کیا۔ جب چوہدری پرویز الٰہی سال 2002 میں وزیراعلیٰ پنجاب بنے تو محمد خان بھٹی کو کچھ ہی عرصے بعد سیکریٹری اسمبلی کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔ عام طور پر یہ عہدہ 20ویں یا 21ویں گریڈ کے افسر کو ملتا ہے۔ 2022 میں جب چوہدری پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے اپنے پہلے حکم میں محمد خان بھٹی کو اپنا پرنسپل سیکریٹری مقرر کر دیا۔پنجاب اسمبلی کیڈر کے وہ پہلے افسر ہیں جنہیں ڈیپوٹیشن پر یہ عہدہ دیا گیا۔ اسی دوران محمد خان بھٹی کو گریڈ 22 میں بھی ترقی دے دی گئی۔اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد انہیں دوبارہ اسمبلی سیکریٹری مقرر کر دیا گیا۔
