وزارت اعلیٰ کے الیکشن میں پرویز الٰہی کی شکست یقینی

پنجاب میں تحریک انصاف کے ناراض رہنماؤں جہانگیر خان ترین اور علیم خان کی جانب سے وزارت اعلیٰ کے لیے حمزہ شہباز کی حمایت کے اعلان کے بعد پرویزالہی وزارت اعلیٰ کی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں، یوں اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ معاہدے کے بعد انہیں دھوکا دے کر عمران خان کے ساتھ چلے جانے والے پرویزالٰہی کا وزیر اعلی پنجاب بننے کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے۔ اب قوی امکان ہے کہ 3 اپریل کے روز نہ صرف وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی بلکہ پرویز الہی بھی حمزہ شہباز کے ہاتھوں وزارت اعلیٰ کے الیکشن میں شکست کھا جائیں گے۔

وفاق میں پی ٹی آئی کے اقتدار کا سنگھاسن ڈولتے ہی پنجاب میں اقتدار کی ریشہ دوانیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ عثمان بزدار کا استعفی قبول ہونے کے بعد اب ایوان نے نئے وزیراعلٰی کا انتخاب کرنا ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے حمزہ شہباز اور حکومت کی طرف سے چوہدری پرویز الہی آخرکار خم ٹھونک کر میدان میں آ چکے ہیں۔

پی ٹی آئی کی پارلیمانی جماعت کے اولین گروپ المعروف چھینہ گروپ کے ساتھ چوہدری پرویز الہی کے معاملات طے پا چکے ہیں حالانکہ گزشتہ روز چوہدری پرویز الہی کی اس گروپ کے ساتھ ملاقات تقریبا ناکام رہی تھی۔ دراصل چھینہ گروپ نے پہلے دن سے ہی حلف اٹھایا ہوا ہے کہ گروپ کے صرف اجتماعی مفاد کو مدنظر رکھا جائے گا۔

اسی وجہ سے گزشتہ روز اس گروپ نے چوہدری پرویز الہی کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ ایک مقدمہ قتل میں گلریز افضل چن کی مخالفت کرنے کے معاملہ پر اس خاندان کو مطمئن کریں اور اس کے بعد ہی چوہدری پرویز الہی کی حمایت کرنے پر بات شروع کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ چھینہ گروپ کا یہ مطالبہ مان لیا گیا ہے۔

دوسری جانب لندن میں جہانگیر ترین کے ساتھ اسحاق ڈار کے کامیاب مذاکرات کے بعد ترین گروپ نے وزیر اعلی پنجاب کے لیے حمزہ شہباز کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب کے سابق سینئر صوبائی وزیر علیم خان نے پہلے ہی حمزہ حمزہ شہباز کی حمایت کا اعلان کر دیا تھا۔ پنجاب اسمبلی میں ان دونوں ناراض دھڑوں کے اراکین کی تعداد 30 کے قریب ہے جب کہ غضنفر چھینہ گروپ کے پاس 14 لوگ ہیں۔

وزیراعلی پنجاب کا الیکشن جیتنے کے لیے 186 ووٹوں کی ضرورت ہے جبکہ اپوزیشن اتحاد کے ساتھ اس وقت 165 طرح اراکین ہیں۔ ایسے میں جہانگیر ترین اور علیم خان گروپس کی جانب سے حمزہ شہباز کی حمایت کے اعلان کے بعد انہیں وزیر اعلی بننے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے زیادہ ووٹ حاصل ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

یوں پنجاب کے سیانے چوہدری کی حمزہ شہباز کے ہاتھوں شکست یقینی ہوگئی ہے حالانکہ صرف دس روز پہلے تک حمزہ شہباز اہنے سیاسی۔مخالف پرویزالہی کو وزیر اعلی پنجاب بنانے کے لیے جہانگیر ترین اور علیم گروپ سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔ تاہم پرویز الہی کی ضرورت سے زیادہ چالاکیاں ان کو لے ڈوبیں۔

یاد رہے کہ اسلام آباد میں کسی سیاسی تبدیلی یا انتشار کا اثر پنجاب کے حکومتی ایوانوں پر بھی ہوتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے طوفان کے اثرات سے تخت لاہور بھی لرزاں ہے۔ وفاق میں عدم اعتماد کا منہ موڑنے کے لیے عمران خان نے پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جگہ چوہدری پرویز الہی کو وزارت اعلیٰ بنامزد کیا تھا تاکہ ان کی کرسی بچ سکے لیکن اب عمران اور پرویز دونوں فارغ ہونے جا رہے ہیں۔

پرویز الہی اور پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی کرسی کے درمیان ماضی میں قربت اور دوری کی دلچسپ سیاسی تاریخ ہے۔ ماضی میں تین مرتبہ ایسا ہوا کہ چوہدری پرویز الہی کی وزیراعلیٰ بننے کی دیرینہ خواہش سیاسی حادثات اور ناموافق حالات کے باعث تشنہ رہ گئی۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد گجرات کے چوہدری ظہور الہی کے خانوادے کی نظریں پنجاب کے سب سے بڑے عہدے پر لگی ہوئی تھیں۔ تقسیم کے بعد ظہور الہی نے گجرات میں دھڑے اور برادری کی سیاست میں کامیابی سے پاؤں جمانے کے بعد ملکی سیاست میں اپنی جگہ بنائی۔

فوجی حکمران جنرل ضیا الحق سے حد درجہ رفاقت اور حمایت کی وجہ سے انہیں جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اسی باعث ان کے بیٹے چودھری شجاعت حسین اپنے کزن اور بہنوئی چودھری پرویز الہی کے لیے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے طلب گار تھے۔ وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین اپنی سیاسی آپ بیتی ’سچ تو یہ ہے‘ میں لکھتے ہیں کہ وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں سب سے زیادہ ارکان اسمبلی ہماری میٹنگ میں آتے تھے۔ جن میں خواجہ سعد رفیق کی والدہ بھی شامل تھی۔ ان سب کا مشورہ یہ تھا کہ پرویز الہی کا نام بطور وزیراعلیٰ آنا چاہیے۔

اس وقت کے گورنر پنجاب غلام جیلانی اور بریگیڈیئر قیوم کی آشیر باد سے لاہور کے کشمیری خاندان کے نوجوان صنعت کار نواز شریف کے سر صوبے کی وزارت اعلیٰ کا تاج سج گیا۔ان کے مخالفین نے شہری اور دیہاتی ممبران اسمبلی کی تقسیم کا سوال کھڑا کر کے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ غیر سیاسی پس منظر کے شہری بابو نواز شریف کے خلاف سب سے پہلے گجرات کے چودھری پرویز الہی نے علم بغاوت بلند کیا۔

چوہدری شجاعت حسین کے مطابق نواز شریف نے انہیں دھوکا دیا۔ ان کے گروپ کے لوگوں کو مختلف مراعات کی لالچ سے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ چوہدری برادران نواز شریف کی شکایت کرنے اور انہیں ہٹانے کی اجازت لینے ضیا الحق کے پاس گئے۔ بقول چودھری شجاعت ضیاء الحق کے الفاظ تھے۔ ’آپ بسم اللہ کریں اور نواز شریف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لے آئیں۔ اللہ آپ کو مبارک کرے، چیف منسٹر شپ۔‘

جولائی 1986 میں نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے خلاف دبی دبی سرگوشیاں سنائی دینے لگیں۔ وزیراعلیٰ کو ان کے سیاسی مخالفین کے عزائم کی اطلاع اس دور کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سپیشل برانچ پولیس سردار محمد چوہدری نے دی۔

انہوں نے صوبائی سیکریٹری داخلہ حاجی حبیب کے ہمراہ نواز شریف کو بتایا کہ ان کے وزیر بلدیات پرویز الہی انہیں اقتدار سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ سردار محمد چوہدری اپنی آپ بیتی The Ultimate Crime میں لکھتے ہیں کہ پنجاب کے بااثر سیاسی رہنما جن میں اکثریت جاگیردارانہ پس منظر رکھتے تھے، نے نواز شریف کو مجبورا وزیراعلیٰ کے طور پر قبول کیا تھا۔ جب پرویز الہی نے انہیں اکثریت سے محروم کرنے کی تحریک شروع کی تو وہ لوگ ان کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔

چوہدری پرویز الہی بارسوخ سیاستدانوں کی آشیرباد کی وجہ سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے کس قدر پرجوش اور پرامید تھے، اس کا ذکر سردار محمد چودھری نے کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پرویز الہی نے اسمبلی میں ان سے ملاقات کے دوران کہا کہ ’تم، حاجی حبیب اور ڈاکٹر صفدر محمود تینوں یہ سمجھتے ہو کہ نواز شریف بچ جائے گا۔ سارے لوگ میرے ساتھ ہیں۔‘

مگر 23 اکتوبر 1986 کے دن نواز شریف نے اسمبلی سے پرجوش خطاب کے بعد جب اعتماد کے ووٹ کا تقاضا کیا تو صرف پانچ غیر حاضر ارکان ان کی مخالفت میں تھے۔ مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے 260 ارکان نے ان کی حمایت کا اعلان کیا۔

ضیا الحق کی منشا اور دیہی علاقوں کے اکثریتی ممبران کی حمایت کے باوجود چوہدری برادران نواز شریف کو اقتدار سے محروم کرنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین کہتے ہیں کہ نواز شریف نے جنرل حمید گل کی مدد سے ضیا الحق کو یہ باور کروا دیا تھا کہ اگر چوہدری پرویز الہی وزیراعلیٰ بن گئے تو پنجاب میں چودھری بہت مضبوط ہو جائیں گے، یوں وہ جونیجو حکومت کے لیے مشکلات پیدا کریں گے۔ اس کے بعد ضیا الحق لاہور آئے اور مشہور جملہ کہا ’نواز شریف کا کلہ مضبوط ہے۔‘

آج کے حالات میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر پرویز الہی پنجاب کی حکومت کے حصول میں ناکام رہ گئے تو شاید انہیں سپیکر شپ سے بھی محروم ہونا پڑے گا۔

یہ دلچسپ اتفاق ہے کہ اسی طرح کی صورتحال انہیں نواز شریف کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے ناکام ہونے کے بعد بھی درپیش تھی۔ انہیں اپنے قریبی ساتھیوں سمیت وزارتیں چھوڑنا پڑ گئی تھیں۔ ان کی کابینہ میں واپسی کا احوال چودھری شجاعت حسین اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جب ہم نے ضیا الحق سے حمایت واپس لینے کی شکایت کی تو ان کا جواب تھا کہ آپ نواز شریف سے صلح کر لیں۔۔ میں نواز شریف کو کہہ دیتا ہوں وہ آپ کے وزرا کو دوبارہ کابینہ میں لے لیں گے۔

دوسری بار پرویز الہی کے لیے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی امید اپریل 1993 میں نواز شریف حکومت کی برطرفی اور بحالی کے بحران کے دوران پیدا ہوئی۔ نواز شریف کی وزارت عظمی کے خاتمے کے بعد پنجاب میں دو تہائی اکثریت سے منتخب ہونے والے وزیراعلیٰ غلام حیدر وائیں کے خلاف اس وقت کے سپیکر اسمبلی میاں منظور وٹو نے بغاوت کر دی تھی۔ وہ 157 ممبران کی حمایت سے عدم اعتماد کے ذریعے صوبے کے وزیراعلیٰ بن گئے۔

کپتان حکومت کا ممکنہ خاتمہ اسٹاک مارکیٹ کو لے ڈوبا

مگر محض ایک ماہ کے بعد سپریم کورٹ کی جانب سے نواز شریف حک

ومت کی بحالی نے پنجاب میں ایک نیا سیاسی طوفان کھڑا کر دیا۔ نواز شریف نے پرویز الہی کو پنجاب میں سیاسی کردار ادا کرنے اور منحرف مسلم لیگی ممبران اسمبلی کی واپسی میں کامیابی کے عوض وزارت اعلیٰ کا یقین دلایا۔ بقول چودھری شجاعت پرویز الہی نے وزارت اعلیٰ کے لیے اسمبلی میں اکثریت ثابت کر دی۔ بغاوت کر کے وزیراعلیٰ بننے والے منظور وٹو نے اکثریت کھو جانے کے ڈر سے اسمبلی توڑنے کی سفارش کر دی۔

Pervez Elahi defeat in CM election is certain Urdu news | video

 

Back to top button