پرویز الٰہی کے بدلتے مؤقف: اپوزیشن اور حکومت دونوں پریشان

پنجاب کی وزارت اعلیٰ حاصل کرنے کے لیے کوشاں چودھری پرویزالٰہی کا ہر روز اور مسلسل بدلتا ہوا سیاسی مؤقف نہ صرف حکومت بلکہ اپوزیشن کے لیے بھی پریشان کن ہے کیونکہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار قاف لیگ کی حمایت سے جڑا ہوا ہے، جس نے حتمی فیصلہ دیگر دو اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم اور باپ پارٹی کے ساتھ مل کر کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کا روزانہ بدلتا ہوا مؤقف دراصل ان کی فرسٹریشن کا اظہار ہے چونکہ انہیں ابھی تک نہ تو حکومت اور نہ ہی اپوزیشن نے وزیراعلی پنجاب بنانے کی حتمی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ چنانچہ پرویز الہی روزانہ کی بنیاد پر الٹے سیدھے بیانات داغ کر کبھی اپوزیشن کو دباؤ میں لاتے ہیں تو کبھی حکومت کو۔
یاد رہے کہ مہربخاری کے ساتھ انٹرویو میں چودھری پرویز الہی نے وزیراعظم عمران خان اور انکی حکومت کو باقاعدہ چارج شیٹ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ حکومت کا جانا ٹھہر چکا ہے چونکہ عمران کی اتحادی جماعتیں اپوزیشن کے ساتھ جانے کو تیار ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان تو ابھی تک اپنی نیپیاں بھی دوسروں سے تبدیل کرواتے ہیں حالانکہ انہیں گورننس کے امور سیکھنے چاہیے تھے۔ تاہم اس کے اگلے ہی روز انہوں نے ایک وضاحتی بیان جاری کیا اور وزیراعظم کی تعریف کرنے کے علاوہ یہ بھی کہا کہ قاف لیگ نے اب تک اپوزیشن کے ساتھ جانے کا فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی حکومتی اتحاد کو چھوڑا ہے۔
تاہم یہ وضاحتی بیان جاری کرنے کے چند گھنٹوں بعد ہی ندیم ملک کو انٹرویو دیتے ہوئے پرویزالہی دوبارہ سے حکومت پر چڑھ دوڑے اور کہا کہ حکومت کے پندرہ، سولہ ارکان قومی اسمبلی ٹوٹ گئے ہیں جن میں سے بیشتر اپوزیشن کے پاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ تین بڑی اپوزیشن جماعتوں کے قومی اسمبلی میں سترہ ووٹ ہیں اور وہ اکٹھے ہیں ہی اپنا فیصلہ کریں گے۔ پرویز الہی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو جلسے کرنے کی بجائے اپنے لاپتہ اراکین اسمبلی کو تلاش کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ان کے لاپتہ ارکان کیوں نہیں ملتے حالانکہ کئی کی ملاقات تو مجھ سے ہو چکی یے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب لعگ اپوزیشن کے پاس ہیں اور وہ ووٹنگ والے دن اسمبلی میں ہی آئیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چودھری پرویز الہی نے مہربخاری کے ساتھ انٹرویو میں وزیر اعظم پر وزارت اعلی کے کیے دباؤ ڈالا تھا اور آخری حد تک چلے گے تھے، جس کے بعد انہیں وزارت اعلی دینے کی یقین دہانی کروائی گئی، لیکن اس بارے کوئی ضمانت نہ ملنے کے بعد انہوں نے ندیم ملک کے ساتھ انٹرویو میں دوبارہ حکومت کو لتاڑا تاکہ کوئی فوری فیصلہ سامنے آ سکے۔ دوسری جانب پرویز الہی نے کہا ہے کہ حکومت نے انہیں اب تک یہ پیغام نہیں پہنچایا کہ آپ کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنا رہے ہیں۔ یہ 100 فیصد غلط ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’حکومت کو ساڑھے تین سال بعد سمجھ آجانی چاہیے کہ جو چیز دینی نہیں ہوتی اس کا ذکر بھی نہ کیا کریں۔‘
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ چوہدری پرویز الہی تھوڑے سے ڈگمگاتے اس لیے دکھائی دیے کہ اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلی کی یقین دہانی ملنے کے بعد چند اہم حکومتی شخصیات نے انہیں یہ غلط خبر پہنچائی کے اسٹیبلشمنٹ اور وزیراعظم کے معاملات طے پا گئے ہیں اور اپوزیشن تحریک عدم اعتماد واپس لینے والی ہے اس لیے آپ بھی پیچھے ہٹ جائیں۔ اسکے بعد وزیر داخلہ شیخ رشید کا بیان بھی آ گیا جس میں اُنہوں نے کہا کہ آج ہی اتحادی حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان شروع کر دیں گے، ایم کیو ایم بھی عمران کا ساتھ دے گی۔ پھر یہ خبر سامنے آگئی کہ عمران کابینہ کے ایک وزیر نے دو اہم ترین عسکری شخصیات سے ملاقات کر کے مفاہمت کا فارمولا پیش کیا ہے اور تحریک عدم اعتماد واپس لینے کے عوض ملک میں جلد نئے انتخابات کی تجویز دی ہے۔
ان واقعات کے بعد پرویز الہی کو بھی یہ شک پیدا ہو گیا کہ شاید حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے معاملات ٹھیک ہونے جا رہے ہیں لیکن ان کا یہ شک تب دور ہو گیا جب انہیں اس حوالے سے کسی کوارٹر سے کوئی فون کال نہیں آئی۔ یاد رہے کہ پرویز الہی نے اپنے انٹرویو میں بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اب پشاور سے بھی حکومت کے لیے کوئی مدد نہیں آ رہی، اور اسٹیبلشمنٹ کا کوئی عمل دخل نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ جب فوج نے کہا کہ ہم نیوٹرل ہیں تو خان صاحب نے کہا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتے ہیں۔ لہذا آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ خان صاحب اس وقت کہاں کھڑے ہیں۔
قومی حکومت کی بات کرنے والوں کی ایسی کی تیسی
پرویز الٰہی کے روزانہ بدلتے ہوئے سیاسی موقف بارے سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انہیں ابھی تک حکومت کے جانے یا رہنے کا یقین نہیں ہے کیونکہ گیم اون ہے اور کوئی بھی نتیجہ نکل سکتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ کپتان حکومت کے جانے یا بچنے کا فیصلہ چوہدری برادارن کے فیصلہ سے ہو گا اور سب جانتے ہیں کہ ان کو کو فیصلے کی ہدایت کہاں سے آنا ہے۔ چوہدریوں کے فیصلے کو اشارہ سمجھا جائے گا اور اسی بنیاد پر دوسرے اتحادی بھی وہی فیصلہ کریں گے جو ق لیگ کا ہو گا۔
انصار عباسی کے مطابق اپوزیشن ق لیگ کو پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ دینے پر تیار ہے لیکن اس کے باوجود فیصلہ سامنے نہیں آ رہا جس میں دیر شاید نواز لیگ کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ ایک دن قبل ق لیگ کی قیادت کے ساتھ جس نے بھی بات کی، وہ عمران حکومت کے خلاف بھرے ہوے نظر آئے۔ اگر چہ چوہدری برادارن نے یہ نہیں کہا کہ ہم حکومت چھوڑ رہے ہیں لیکن تاثر پیدا ہوا کہ اب عمران خان حکومت چلنے والی نہیں اور یہ کہ ق لیگ کا ممکنہ فیصلہ یہی ہو گا کہ وہ اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہو گی اور عدم اعتماد کو کامیاب بنائے گی۔
