وفاقی مشیر بن کر پرویز خٹک نہ گھر کے رہے اور نہ گھاٹ کے

خیبر پختون خواہ کے وزیراعلی اور پاکستان کے وزیر دفاع رہنے والے سینیئر سیاستدان پرویز خٹک آخری عمر میں وزیراعظم کا مشیر بن کر نہ گھر کے رہے ہیں اور نہ ہی گھاٹ کے۔ ایسا کر کے انہوں نے اپنی رہی سے ہی عزت کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ انہیں اپنا مشیر بنانے کا اعلان کرنے والے وزیراعظم شہباز شریف کی اپنی جماعت مسلم لیگ نواز نے بھی اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے کیونکہ پرویز خٹک کا سارا سیاسی کیریئر عمران خان کے ساتھی کی حیثیت سے تھا اور نون لیگ ان کے ادوار میں زیر عتاب رہی۔

وفاقی کابینہ توسیع کو ایک ہفتہ ہونے کو آیا، حلف اٹھانے والے بعض وزراء کے محکموں کا فیصلہ بھی ہو چکا، لیکن پرویز خٹک تاحال متنازعہ ہیں، پہلے اطلاع آئی تھی کہ انہیں وفاقی کابینہ میں بطور مشیر داخلہ شامل کیا جا رہا ہے، پھر پتہ چلا کہ وہ مشیر دفاع بنائے جا رہے ہیں، اس کے بعد خبر آئی کہ وہ وزیراعظم کے مشیر ہوں گے، لیکن ان کا محکمہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلم لیگ نون خیبر پختون خواہ کی مرکزی قیادت کی جانب سے انہیں کابینہ میں شامل کرنے کے فیصلے کی شدید مخالفت ہوئی ہے۔ مسلم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جس شخص کا سارا سیاسی کیریئر عمران خان کے ساتھی اور نون لیگ کے کٹر مخالف کی حیثیت سے پروان چڑھا ہو اسے پارٹی میں کیسے شامل کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے سیاسی محفلوں میں جو گفتگو ہو رہی ہے اس سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں انہیں خوشدلی سے قبول نہیں کیا گیا۔ صرف یہی نہیں کہ ان کے مشیر بنائے جانے پر کسی بھی سیاسی جماعت یا شخصیت کی جانب سے انہیں مبارکباد کا پیغام سامنے نہیں آیا، پرویز خٹک کے بطور مشیر وزیراعظم کے انتخاب پر اٹھنے والے سوالات کے حوالے سے کوئی بھی حکومتی شخصیت ان کا دفاع کرنے کیلئے تیار نہیں، گو کہ اس حوالے سے اس حکومتی فیصلے کو بعض مسلم لیگی راہنما اتحادی حکومت کی مجبوریوں سے تعبیر کر رہے ہیں لیکن وہ خود بھی جس بد دلی سے یہ جواز پیش کر رہے ہیں اس میں ان کی مجبوری بھی محسوس کی جاسکتی ہے، مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی اختیار ولی اس فیصلے سے سب سے زیادہ دل برداشتہ ہیں کیونکہ انہوں نے پرویز خٹک کو انکے اپنے انتخابی حلقے نوشہرہ سے شکست دی تھی۔ وہ اعلانیہ نون لیگی قیادت کے اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ پرویز خٹک نے پی ٹی آئی میں رہتے ہوئے بالخصوص عمران خان کے دھرنوں میں نون لیگی قیادت کے بارے میں جو زبان استعمال کی اور جس طرح ان کی تضحیک کی گئی اس کے بعد انہیں کابینہ کا حصہ بنانا غلط ہے۔

اختیار ولی کا کہنا تھا کہ یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ پرویز خٹک جیسے شخص کو کابینہ میں شامل کر لیا گیا ہے لیکن خیبر پختون خواہ سے منتخب ہونے والے نون لیگی رہنماؤں کو کابینہ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے پرویز خٹک کے ساتھ سیاسی اختلافات کے باعث ذاتی تعلقات بھی ختم ہو چکے ہیں اور ہم کہیں محفل ملیں بھی تو ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملاتے، ایسے میں جب میری اپنی پارٹی قیادت میرے سیاسی مخالف پرویز خٹک کو وفاقی کابینہ میں شامل کر لے گی تو میری اور نون لیگ دونوں کی سیاست کا تو جنازہ ہی نکلے گا۔

تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا پرویز خٹک کو وفاقی کابینہ میں بطور اپنا مشیر تعینات کرنے کا بنیادی مقصد تحریک انصاف اور علی امین گنڈا پور پر دباو ڈالنا ہے۔ اس سے پہلے الیکشن 2024 میں شکست کے بعد پرویز خٹک نے تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کی سربراہی سے استعفی دے کر سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا تھا۔

کچھ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ پرویز خٹک تو وزیر اعلی کے علاوہ وزیر دفاع بھی رہے ہیں لہذا انہیں وزیر اعظم کا مشیر بننے کی کیا ضرورت پیش آ گئی۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور پرویز خٹک دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت تھی لہذا دونوں نے ہی سمجھوتہ کیا۔ دراصل حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو خیبر پختون خواہ میں وزیراعلی علی امین گنڈاپور کا کوئی قدآور سیاسی مخالف چاہیے تھا لہذا پرویز خٹک کا انتخاب کیا گیا، انہیں وزیع کی بجائے مشیر بنانے کی وجہ یہ ہے کہ وہ پچھلے انتخابات میں کامیاب نہیں ہو پائے تھے لہذا کابینہ میں غیر منتخب شخص کو وزیر کا عہدہ نہیں مل سکتا تھا۔

یاد رہے کہ 2024 کے انتخابات سے پہلے پرویز خٹک اور عمران خان کے مابین اختلافات پیدا ہو گئے تھے لہذا انہوں نے تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے تحریک انصاف پارلیمینٹیرینز کے نام سے سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی اور پی ٹی آئی کے کچھ رہنما ان کی جماعت میں شامل ہو گئے۔ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں پرویز خٹک نے قومی اسمبلی کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے لیے بھی انتخابات میں حصہ لیا لیکن دونوں ہی الیکشن ہار گئے۔ پرویز خٹک کی جماعت نے قومی اسمبلی کے 45 میں سے 17 حلقوں اور صوبائی اسمبلی کے 115 حلقوں میں سے 73 پر اپنے امیدوار کھڑے کیے لیکن صرف صوبائی اسمبلی کے دو امیدوار کامیاب ہوئے۔

یورپ جانے والےپاکستانی لیبیا کا راستہ کیوں استعمال کر رہے ہیں؟

الیکشن 2024 کے بعد پرویز خٹک نے اپنی جماعت کی سربراہی سے استعفیٰ دے کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم وزیراعظم کے مشیر بن کر پرویز خٹک نے بظاہر خیبر پختون خواہ کی سیاست میں دوبارہ سے سرگرم عمل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

Back to top button