پرویز مشرف نے اسرائیل کو غوری میزائل کا نشانہ کیوں نہ بننے دیا؟

سینئر صحافی حامد میر نے دعویٰ کیا ہے کہ جب ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے غوری میزائل کی رینج بڑھانے کی کوشش کی تو جنرل پرویز مشرف نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا کہ آپ اسرائیل کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ اسلام آباد میں حرمت مسجد اقصیٰ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ ’آپ کو پتا ہونا چاہئیے کہ غوری میزائل کا رخ اسرائیل کی طرف کرنے کی کوشش کی تھی ایک آدمی نے، اس کا نام تھا ڈاکٹر عبدالقدیر خان‘۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ بات مجھے خود ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے بتائی، میں نے ان سے پوچھا ڈاکٹر صاحب پرویز مشرف کے ساتھ آپ کا کیا مسئلہ ہے؟ آپ تو ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ تو انہوں نے پرویز مشرف کو ناقابل بیان قسم کی گالی دی اور کہا کہ میں نے جب غوری میزائل کی رینج 5 ہزار کلومیٹر کرنے کی کوشش شروع کی اور پروجیکٹ کیلئے جب میں نے ان سے فنڈز مانگے تو انہوں نے کہا کہ اچھا! تم اسرائیل کو ٹارگٹ کرنا چاہتے ہو‘۔
حامد میر کے مطابق پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کہا کہ ’ہمارا دشمن تو انڈیا ہے، تم 1500 یا زیادہ سے زیادہ 2000 کلومیٹر سے آگے نہیں جاسکتے‘یہ کہنا آسان ہے کہ غوری میزائل کا رخ اسرائیل کی طرف کردو، لیکن جس نے کرنے کی کوشش کی آپ نے اس کو تو آپ نے عبرت کا نشان بنا دیا حامد میر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق صاحب کو پتا ہے کہ اس وقت بھی پاکستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ’اوپر اوپر سے تو مذمت کر رہے ہیں اسرائیلی بمباری کی، لیکن اندر سے ان کا دل کہیں اور ہے‘۔ ………… یاد رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور میزائل ٹیکنالوجی کے بانیوں میں سے تھے ، انہوں نے بیلجیئم سے دھاتوں کی انجنیئرنگ اور ٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کی۔ 1972 میں جب انڈیا نے ایٹمی ہتھیار کا کامیاب تجربہ کیا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس سلسلے میں اپنی خدمات پیش کیں 1974 میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اس حوالے سے دو خطوط ارسال کیے جس کے بعد انہیں وزیراعظم سے ملاقات کے لیے اسلام آباد بلایا گیا۔ اس ملاقات کے بعد اے کیو خان دو سال تک ہالینڈ میں ہی رہے اور 1976 میں باضابطہ طور پر پاکستان ایٹمی بم کے منصوبے میں شامل ہوئے۔
سال 1979 میں ہالینڈ کی حکومت نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر جاسوسی کے الزامات کے حوالے سے مقدمہ بھی چلایا، جس میں ان پر عدم پیشی کی بنیاد پر قید کی سزا اور جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ بعدازاں عدالت نے ان کی اپیل پر سزا کے ثبوت کی عدم دستیابی کی بنا پر سزا واپس کر لی۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں مشیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے عہدے پر فائض رہے تاہم امریکی صدر جارج ڈبلیو بش انتظامیہ کی جانب سے 2003 میں ڈاکٹر اے کیو خان پر یورینیم دیگر ممالک کو فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے۔
سابق صدر پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبد القدیر خان پر دباؤ ڈالتے ہوئے سرکاری ٹیلی ویژن پر ان سے معذرت کروائی جس کے بعد ان کے خلاف باضابطہ انکوائری کا آغاز کیا گیا اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے حوالے سے ان پر دباؤ ڈال کر اعترافی بیان دلوایا گیا اور انہیں ’اسٹیبلیشمنٹ کی طرف سے قربانی کا بکرا بنایا گیا۔‘
سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے اپنے گھر میں نظر بند ہو کر ہی زندگی گزاری
ڈاکٹر خان نے زندگی کے آخری سال اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر ہی
گزارے اور آخری چند سال میں ان کی ملاقاتوں کا سلسلہ تھم چکا تھا۔
