پشاور ہائیکورٹ کاخیبرپختونخوا کی بند سڑکیں آج ہی کھولنے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے آئی جی پولیس اور چیف سیکریٹری کو حکم دیا ہے کہ صوبے کی تمام شاہراہیں آج ہی ٹریفک کے لیے بحال کی جائیں۔
کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور نے کی۔ عدالت کے حکم پر آئی جی پولیس ذوالفقار حمید اور چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ سڑکیں بند کرنا کیا قانون کی خلاف ورزی نہیں؟ انہوں نے ریمارکس دیے کہ “پشاور سے کوئی باہر نہیں جا سکتا، یہاں تک کہ دیگر علاقوں سے وکلاء بھی عدالت نہیں پہنچ پا رہے۔ افسوس کی بات ہے کہ حکمران جماعت اپنے ہی صوبے کے لوگوں کو تکلیف دے رہی ہے۔”
دورانِ سماعت آئی جی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ موٹروے کا معاملہ ان کے براہ راست دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب تک موٹروے حکام کی جانب سے ریفرنس موصول نہ ہو، پولیس ایف آئی آر درج کرنے کی مجاز نہیں ہے۔
عدالت نے انتظامیہ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تاریخی جملہ ادا کیا کہ “لوگ آپ کو بددعائیں دے رہے ہیں، اسے ہی کل کی اخباری خبر بنائیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور انتظامیہ فوری طور پر راستے کلیئر کرائے۔
قبل ازیں پشاور ہائیکورٹ نے صوبے میں سڑکوں کی بندش اور عوامی نقل و حمل میں رکاوٹوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کر لیا ہے۔
صوابی سے تعلق رکھنے والے شہری یوسف علی نے ایڈووکیٹ حافظ فضل الرحیم کی وساطت سے پشاور ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی، جس پر سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرخ جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
سماعت کے دوران معزز جج صاحبان نے سڑکوں کی بندش کے باعث شہریوں کو درپیش مشکلات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ درخواست گزار کے وکیل حافظ فضل الرحیم نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ سڑکوں کی بندش سے عام آدمی کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، لہٰذا سڑکیں بند کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
