آئینی عدالت میں 27ویں ترمیم کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

وفاقی آئینی عدالت میں جمعرات کے روز ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اسے قائم کرنے والے قانون، یعنی 27ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق وکیل محمد شعیب نے ذاتی حیثیت میں یہ درخواست جمع کرائی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’انتہائی احترام کے ساتھ گزارش ہے کہ اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے بدنیتی کے تحت منظور کی جانے والی 27ویں ترمیم کو عدلیہ کے وسیع تر مفاد میں غیر مؤثر قرار دیا جائے‘۔

اس سے قبل 11 نومبر کو سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے سپریم کورٹ میں بھی 27ویں ترمیم کو چیلنج کیا تھا اور عدالت سے کہا تھا کہ وہ مجوزہ ترمیم کی آئینی حیثیت پر خصوصی دائرہ اختیار استعمال کرے۔ اُس وقت چونکہ پارلیمان نے ترمیم کو منظور نہیں کیا تھا اس لیے وفاقی آئینی عدالت قائم نہیں ہوئی تھی۔

اسی نوعیت کی درخواستیں مختلف ہائیکورٹس اور فیڈرل شریعت کورٹ میں بھی زیرِ سماعت ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ وفاقی آئینی عدالت سے براہِ راست اس ترمیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر کی گئی ہے—ایک ایسی عدالت جو خود اسی ترمیم کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے۔

شخصی حکمرانی کا الزام

آئین کے آرٹیکل 175-ای کے تحت دائر اس تازہ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 27ویں ترمیم مبینہ طور پر ’ایک آلہ کار حکومت‘ نے منظور کروائی تاکہ ملک میں ایک فرد کی حکمرانی قائم کی جائے اور آئین کو کمزور کیا جا سکے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب ملک بدترین آئینی بحران سے گزر رہا تھا اور امن و امان کی صورتحال خراب ہو رہی تھی، اس دوران حکومت نے پارلیمان میں یہ ترمیم پیش کی تاکہ عدلیہ کی آزادی کو کمزور کیا جا سکے۔

مزید کہا گیا ہے کہ 27ویں ترمیم کے ذریعے وفاقی آئینی عدالت کے قیام نے سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کیے، جو آئینِ 1973 کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ کچھ طاقتور افراد وفاقی حکومت کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں جبکہ پارلیمان محض اُن کی خواہشات پوری کرنے والا ربر اسٹیمپ بن چکی ہے۔

درخواست کے مطابق ملک اس وقت ’اختیارات کی تقسیم کے بحران‘ کا شکار ہے، جس میں ایک ادارہ دوسروں پر غالب آ رہا ہے، اور ملک عملی طور پر بالواسطہ مارشل لا کے زیرِ اثر چل رہا ہے جو پورے نظام اور آئین کو متاثر کر رہا ہے۔

آئینی بحران سے متعلق نکات

درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ ترمیم ریاستی اداروں کے درمیان مزید بے چینی اور انتشار پیدا کرے گی اور آئینی بحران کو جنم دے گی کیونکہ اقتدار ایک فرد کے ہاتھ میں مرتکز ہو جائے گا۔

مزید کہا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے آئین کی کھلی خلاف ورزی پارلیمان اور عدالتی نظام کا مضحکہ اڑانے کے مترادف ہے۔

درخواست میں دلیل دی گئی ہے کہ غیر منتخب اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو قانونی ذمہ داری سے مستثنیٰ قرار دینا آرٹیکل 227 سے متصادم ہے، کیونکہ کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جا سکتا۔

اسی طرح آرٹیکلز 175-ای اور 185 کے درمیان تنازع پیدا ہو جائے گا کیونکہ اب اپیل کا ایک متوازی نظام رائج ہو جائے گا—کچھ اپیلیں سپریم کورٹ میں اور کچھ وفاقی آئینی عدالت میں دائر ہوں گی—جو قدرتی انصاف کے اصولوں سے متصادم ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ عوام کے بنیادی حقوق کی نگہبان ہے، اس لیے وفاقی آئینی عدالت کو چاہیے کہ وہ 27ویں آئینی ترمیم کو عدالتی مفاد میں کالعدم قرار دے۔

Back to top button