جنگ کے باعث پٹرول 200 روپے مزید مہنگا ہونے کا امکان

اگر ایران پر تھوپی گئی جنگ دو ہفتے مزید چلی تو پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم از کم 100 سے 200 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہونے کا اندیشہ ہے، اگر ایسا ہوا تو ہر چیز مہنگی ہو جائے گی، عوام کے لیے کھانا پینا مہنگا ہو جائے گا، نقل و حمل کے کرائے بڑھ جائیں گے اور بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ لیکن اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہوگا کہ جنگ کے بعد تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں تو بھی اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافہ واپس اپنی سابق سطح پر لانا ممکن نہیں ہو گا۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایران پر حملوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے اور خصوصاً آبنائے ہرمز سے تیل کی نقل و حمل بند ہونے کے باعث دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچ چکے ہیں اور حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔
ان کے بقول پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا مطلب سب کو معلوم ہے، یعنی تقریباً ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، خصوصاً اشیائے خور و نوش، جس کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پہلے سے مشکلات کا شکار عوام کو دوبارہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو۔
حماد غزنوی کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران پاکستان کی عوامی معیشت کے اشاریے حوصلہ افزا نہیں رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کی لگ بھگ نصف آبادی غربت کی لکیر کے قریب یا اس سے نیچے جا چکی ہے، جب کہ عوام کی قوتِ خرید تقریباً آدھی رہ گئی ہے۔ اس دوران مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہوا، بجلی اور گیس کے نرخ بڑھے، متوسط طبقے پر انکم ٹیکس کا بوجھ بڑھا اور افراطِ زر کے باعث روپے کی قدر میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 30 فیصد تک پہنچ رہی ہے، جس کے باعث عوام پہلے ہی شدید معاشی دباؤ میں ہیں اور ایسے حالات میں عوام کو شدید معاشی مشکلات کا شکار قرار دینا مبالغہ نہیں۔
ان کے مطابق موجودہ عالمی صورتحال کے باعث مہنگائی کی ایک نئی لہر آنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اور پہلے ہی کمزور معاشی طاقت رکھنے والے عوام ایک اور معاشی طوفان کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ایسے میں خدشہ ہے کہ یہ بحران متوسط خاندانوں کو مزید مشکلات میں دھکیل دے گا۔ انہوں نے حکومتی مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ایران پر حملوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس میں حکومت کا براہ راست قصور نہیں ہے، تاہم عوامی حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ جب بھی ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے تو اس کا بوجھ سب سے پہلے عام شہریوں پر ڈال دیا جاتا ہے اور انہی سے مزید قربانیوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اب بھی یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ حکومت نے وہ پٹرول 55 روپے مہنگا کیا ہے جو کہ اس نے دو مہینے پہلے سستے میں خریدا تھا۔
حماد غزنوی کے مطابق پاکستان میں معاشی ڈھانچے کا ایک بڑا تضاد یہ ہے کہ ایک طرف عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ دوسری طرف اشرافیہ کو ہر سال تقریباً 18 ارب ڈالر کی سبسڈی دی جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں اشرافیہ اپنے اخراجات یا مراعات کم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی اور اربوں روپے کی تشہیری مہمات بھی بدستور جاری رہتی ہیں۔ ادھر حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ ریاست مختلف بین الاقوامی معاہدوں کی پابند ہے جن میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدہ بھی شامل ہے، جب کہ بجلی گھروں اور پٹرولیم کمپنیوں کے ساتھ بھی طے شدہ معاہدے موجود ہیں، مگر عوام کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں جس کے تحت مشکل وقت میں ان کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
حماد غزنوی کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کب تک جاری رہیں گے۔ انہوں نے اس تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کی وارننگ اور ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کی ممکنہ جانشینی کے حوالے سے ایرانی قیادت کی نفسیاتی کیفیت کا بھی ذکر کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ چند ہفتے بھی جاری رہی تو پاکستان کو کئی معاشی خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے جن میں تیل کی قیمتوں میں مزید 100 سے 150 روپے تک اضافے کا امکان، زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی، ڈالر کی قدر میں اضافہ، خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر میں کمی اور ملکی برآمدات کو دھچکا لگنے جیسے خدشات شامل ہیں۔ ساتھ ہی درآمدات میں کمی کا بھی امکان ہے۔
ایران کے بعد اسرائیل کا اگلا ٹارگٹ پاکستان کیوں؟
حماد غزنوی کے مطابق ان تمام عوامل کا مجموعی اثر براہ راست عام شہریوں پر پڑے گا اور نتیجتاً کھانے پینے کی اشیاء مہنگی ہوں گی، ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھ جائیں گے اور بجلی کے نرخ مزید بڑھ سکتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اگر ایران کے خلاف جنگ ایک یا دو ہفتوں میں ختم بھی ہو جائے اور عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں کم ہو جائیں تو بھی ضروری نہیں کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دوبارہ اپنی پرانی سطح پر واپس آ جائیں، کیونکہ پاکستان میں اس سے پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے کہ پٹرول سستا ہونے کے باوجود اشیائے خور و نوش کی قیمتیں کم نہیں ہوئیں۔ ان کے بقول موجودہ حالات ایک ممکنہ خوفناک معاشی منظرنامے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے مشکل حالات کا سامنا ہو تو ریاست کو اپنے شہریوں کا بوجھ بانٹنے کے لیے طویل المدتی تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ عوام اور ریاست دونوں کی معاشی قوتِ برداشت بڑھانے کے لیے دہائیوں پر محیط پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
وہ ریاستیں جو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی سخت شرائط کے تحت معیشت چلاتی ہیں وہ مشکل وقت میں اپنے عوام کو چند ہفتوں کے لیے بھی خاطر خواہ سبسڈی فراہم کرنے کے قابل نہیں ہوتیں، اور وہ ریاستیں جو اشرافیہ کے اخراجات پر بڑے پیمانے پر زرِ مبادلہ خرچ کرتی ہیں، بحران کے وقت نہ ڈالر بچا پاتی ہیں اور نہ ہی پٹرول کے ذخائر۔ حماد غزنوی کا کہنا ہے کہ اگر آئندہ بھی کسی بڑے بحران یا آفت کا سامنا ہوا تو موجودہ حالات میں ریاست کے لیے عوام کا بوجھ بانٹنا مشکل ہوگا، کیونکہ اس کے لیے پیشگی تیاری ناگزیر ہے اور جب بھی ریاست اس سمت میں عملی قدم اٹھائے گی تو اس کے واضح آثار سامنے آئیں گے۔
