PIA کے جہاز کی بھارت میں لینڈنگ،انڈین سیکیورٹی فورسز میں کھلبلی

پاکستانی غبارہ جہاز کی بھارت میں اچانک لینڈنگ نے انڈین سیکیورٹی فورسز کی دوڑیں لگوا دیں۔ بھارتی پولیس نے غبارے کو تحویل میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور غبارے کی نوعیت اور اس کے مقصد سے متعلق مختلف پہلوؤں پر غور شروع کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان سے کوئی غبارہ نما جہاز یا میزائل بھارت میں جا کر گرا ہو۔ اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر پاکستان سے کبوتر اور غبارے اُڑ کر بھارت پہنچ چکے ہیں۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ بھارتی سیکیورٹی فورسز نے اس نوعیت کے واقعے پر اس قدر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
انڈین ریاست ہماچل پردیش کے ایک گاؤں میں جہاز نما غبارے کی لینڈنگ سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی، کیونکہ غبارے پر انگریزی اور اردو میں ’پی آئی اے‘ درج تھا۔ مکان کے مالک سچدیو سنگھ کے مطابق ان کے بیٹے نے سب سے پہلے چھت پر موجود جہاز نما غبارہ دیکھا، جس پر ’پی آئی اے‘ لکھا ہوا تھا۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر دولت پور پولیس اسٹیشن کو دی گئی۔ پی آئی اے کے کھلونا جہاز کی لینڈنگ کی اطلاع نے ہی بھارتی سیکیورٹی اداروں کے چھکے چھڑا دئیے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی، پولیس نے نہ صرف غبارے کو تحویل میں لے لیا بلکہ پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا۔
تاہم پولیس حکام کو غبارے سے کچھ نہیں مل سکا، تھانہ انچارج روی پال کے مطابق لگتا ہے کہ یہ غبارہ کہیں دور سے یہاں پہنچا کیونکہ اس کی گیس ختم ہو چکی ہے۔ تاہم اس کے معائنے کے دوران اس میں سےکوئی مشکوک چیز جیسے کوئی چپ یا کیمرہ وغیرہ نہیں ملا۔ اس میں غبارہ بنانے والی کمپنی یا کسی ملک کا نام بھی نہیں لکھا ہوا۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔ انھوں نے بتایا کہ چند مہینے پہلے بھی اسی طرح کا ایک غبارہ تھانے کے برہم پور گاؤں میں ملا تھا۔ اس وقت انھوں نے انڈین فضائیہ کے افسروں کو بلایا تھا لیکن انھیں بھی اس غبارے میں کوئی مانیٹر یا چپ وغیرہ نہیں ملی تھی۔‘
کیا واقعی قریشی اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کر کے باہر آنے والے ہیں؟
اونا ضلع کے سپرنٹنڈینٹ آف پولیس امیت یادو نے میڈیا کو بتایا کہ ہما بردیش کے مختلف علاقوں سے اس طرح کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں تاہم ابھی تک کسی غبارہ نما جہاز یا میزائل وغیرہ سے کوئی خطرناک سامان برآمد نہیں ہوا تاہمحالیہ واقعات کے بعد ہم پڑوسی ریاستوں کی پولس سے رابطے میں ہیں اور معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی تفتیش میں کیا نتیجہ سامنے آیا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ 8 دسمبر کو بھی قریبی گاؤں میں’پاکستانی‘ غبارے ملے تھے جن پر پاکستانی پرچم بنا ہوا تھا اور ’آئی لو پاکستان‘ لکھا ہوا تھا۔ پولیس کی جانچ میں ان غباروں سے بھی کوئی آلہ یا مانیٹر نہیں ملا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک اس اس سلسلے میں کوئی ایف آئی آر نہیں درج کی گئی لیکن ان غباروں سے متعلق باضابطہ تفتیش شروع کر دی گئی ہے کیونکہ یہ سوال ابھی تک حل طلب ہے کہ آخر کس طرح یہ غبارے کسی جگہ ٹکرائے اور پھنسے بغیرپاکستان سے اڑ کر بھارت کے دور دراز علاقوں تک پہنچ رہے ہیں۔‘
