امریکہ سے ٹکرانے والا کپتان چوہدریوں کے سامنے ڈھیر

وزیر اعظم عمران خان حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد کو بیرونی سازش قرار دیتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسکی وجہ انکا امریکہ کو ایبسلوٹلی ناٹ کہنا تھا، یہ وہ بیانیہ جس کی بنیاد پر عمران اپنی آئندہ کی سیاست استوار کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن انکے ناقدین سوال کرتے ہیں کہ جب انہوں نے امریکہ جیسی سپر پاور کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا تھا تو پھر انہوں نے قومی اسمبلی میں صرف 4 سیٹیں رکھنے والے گجراتی لیگ کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر انکے سامنے گھٹنے کیوں ٹیک دیئے۔

روزنامہ جنگ کے لئے تحریر کردہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی حماد غزنوی کہتے ہیں کہ عمومی خیال یہ تھا کہ خان صاحب کی حکومت کو اگر کوئی گرانا چاہتا ہے تو وہ مہنگائی کے ستائے عوام ہیں، لیکن یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور نکلا، پتا یہ چلا ہے کہ ’نادیدہ ہاتھ‘ موجودہ حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں، یہ بات خان صاحب نے خود ہمیں بتائی ہے۔ جب سے خان صاحب کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تھی انہوں نے اپنی حکومت کے خلاف کسی بیرونی سازش کا تذکرہ شروع کر دیا تھا، شروع میں تو وہ کچھ اشاروں سے کام چلاتے رہے، لیکن بتدریج ان کے اس الزام میں تسلسل آتا چلا گیا، اور پھر ایک جلسہ عام میں انہوں نے کاغذ کا ایک ٹکڑا لہرا کر اس بین الاقوامی سازش کا پردہ چاک کر دیا جو ان کی بے باک قیادت کے خلاف کی جا رہی ہے۔

خان صاحب کے بہ قول ان کی حکومت کو برخاست کرنے کی خواہش رکھنے والے یہ دستانہ پوش خفیہ ہاتھ امریکا کے ہیں، جو خان صاحب سے اس لیے ناراض ہیں کیوں کہ انہوں نے امریکا کو Absolutely Not کہہ کر فوجی اڈے دینے سے انکار کیا تھا، پھر روس کا دورہ کیا، اور عالم اسلام کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ اس ضمن میں انہوں نے غیر روایتی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو بھٹو صاحب سے تشبیہہ بھی دی، یعنی موصوف نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جس قومی خودداری کے باعث بھٹو صاحب کی حکومت ختم کر کے انہیں ’ مثالِ عبرت‘ بنا دیا گیا تھا، میرا بھی وہی گناہ ہے اور میرے خلاف بھی ہو بہو ویسی ہی سازش کی جا رہی ہے۔ بقول حماد غزنوی یہ ہے وہ جلد بازی میں ترتیب دیا گیا بیانیہ جس کی بنیاد پر عمران خان اپنی آئندہ کی سیاست استوار کرنا چاہ رہے ہیں۔

انکا کہنا ہے کہ ویسے تو سنجیدگی سے اس دھمکی آمیز ’خط‘ پر گفتگو کرنا بذاتِ خود ایک غیر سنجیدہ رویہ قرار دیا جا سکتا ہے، مگر چونکہ اس معاملے کا تعلق قومی سلامتی سے بتایا جا رہا ہے، لہذا ہمیں اس پر بات کرنا ہو گی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ انسانی تاریخ و نفسیات کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ گالی اور دھمکی لکھ کر نہیں دی جاتی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ابلاغ شہباز گِل بھی اسکی تصدیق کر سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ بھٹو صاحب کو کسی نے پرچی پر لکھ کر نہیں دیا تھا کہ تم اگر فرانس سے ایٹمی ری پراسسنگ پلانٹ لو گے تو ہم تمہیں عبرت کی مثال بنا دیں گے، نہ ہی نواز شریف کو خط لکھ کر دھمکی دی گئی تھی کہ یمن فوج نہ بھیجنے کے جرم میں تمہاری حکومت ختم کر دی جائے گی، ایسی دھمکیاں زبانی کلامی اور ملفوف انداز میں دی جاتی ہیں، یعنی ‘نتائج کے آپ خود ذمہ دار ہوں گے‘ یا ’اس سے ہمارے تعلقات پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوں گے‘ وغیرہ وغیرہ۔

حماد غزنوی کے مطابق سوال یہ بھی ہے کہ خان صاحب نے جو ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا وہ کس مطالبے کے جواب میں کہا تھا، قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کہتے ہیں کہ ہم سے تو کسی نے فوجی اڈے مانگے ہی نہیں، پھر کوئی کیوں نالاں ہو کر خان صاحب کی حکومت کے خلاف سازش شروع کرتا۔یہ بھی یاد رہے کہ ’روسی بلاک‘ کو مرحوم ہوئے دہائیاں بیت گئیں اور آج اس نام کی کوئی منڈلی کرہ ارض پر نہیں پائی جاتی۔ پھر خطے میں کوئی جنگ بھی نہیں ہو رہی جس میں خان حکومت امریکا مخالف کیمپ میں شامل ہو، تو پھر آخر خان صاحب کا گناہ کیا ہے؟

چھوٹی سی ایلیٹ کلاس کیلئے عالمی طاقتوں کو خوش نہیں کر سکتے

حماد غزنوی کے بقول خان صاحب نے تو مغرب کی محبت میں وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے، چینی حکام کہتے ہیں کہ اس حکومت نے سی پیک کے بہت سے پروجیکٹس پر کام رکوایا یا ان کی رفتار کم کی. چین سے معاہدے کی خلاف ورزی کر تے ہوئے سی پیک قرضوں کی تفصیل آئی ایم ایف کو فراہم کی، سٹیٹ بینک آف پاکستان کی خود مختاری گروی رکھنے دی، اب اور حکومت بے چاری کیا کرے، اگر ہماری ان قربانیوں کے بعد بھی مغرب ہماری حکومت گرانا چاہتا ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں، بد دعا ہی دے سکتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ قومی غیرت و حمیت، خود داری اور اصول پسندی جیسے اوصاف حمیدہ اگر خان صاحب میں موجود ہیں تو یہ قوم کی بلند بختی ہے،

مگر معروضی حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ بجائے ان خوبیوں کے مظاہرے کا آغاز دنیا کی واحد سپر پاور سے کیا جائے، پہلے ان کی بتدریج پریکٹس کر لی جائے، اور ملک کے اندر ہی کر لی جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ مثلاً، اگلی دفعہ جب خان صاحب کو کوئی بلیک میل کرنے کی کوشش کرے اور قومی اسمبلی میں اپنی چار سیٹوں کے بدلے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ مانگے تو خان صاحب اسے کہیں کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، یعنی ایبسلوٹلی ناٹ۔

The pile in front of Captain Chaudhry who collided with America | video in Urdu

Back to top button