5اگست کواسلام آباد پردھاوےکاپلان منسوخ،احتجاج وڑ گیا

تحریک انصاف نے 5 اگست کو دھلائی، ٹھکائی اور گرفتاری کے خوف سے احتجاجی حکمت عملی مکمل طور پر تبدیل کر دی ہے۔ پی ٹی آئی قیادت نے اسلام آباد پر چڑھائی، ملکی مرکزی شاہراہوں کی بندش یا جلاؤ گھیراؤ کی بجائے پارٹی کارکنان کو انفرادی احتجاج کر کے ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کا 5 اگست کا احتجاج درحقیقت ایک سیاسی بیانیے کے زوال کی داستان بن چکا ہے۔ ایک وقت میں ڈی چوک کو سیاسی فتح کی علامت بنانے والی پی ٹی آئی اب گلی محلوں میں احتجاج تک محدود ہو چکی ہے۔ مبصرین کے بقول پی ٹی آئی کی جانب سے یہ تبدیلی حکمت عملی نہیں بلکہ پے در پے ناکامیوں، گرفتاریوں، اور قیادت کے اندرونی انتشار کا اعتراف ہے۔

مبصرین کے مطابق  تحریک انصاف نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پانچ اگست کو احتجاجی جلسے کا ار ادہ منسوخ کردیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کو بنیاد بنا کر ہر ضلع اور تحصیل میں احتجاجی مظاہرے ہونگے ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے احتجاجی حکمت عملی میں یہ تبدیلی دو سال میں کم از کم چار مرتبہ بھرپور تیاری اور قوت سے وفاقی دارالحکومت پر حملہ آور ہونے کی کوششوں میں مکمل ناکامی کے بعد اختیار کی گئی ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ پانچ اگست کے حوالے سے تحریک انصاف میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے اسی لئے 5 اگست کو کوئی منظم احتجاج ہونے کا امکان نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اب احتجاج کے لئے دورانئے کو بڑھا کر 14؍ اگست تک اس میں توسیع کا ارادہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ پانچ اگست کا احتجاج خیبرپختونخوا کے سوا ملک کے کسی بھی حصے میں اپنا ر نگ نہیں جماسکے گا۔ تاہم ملک کے دیگر شہروں میں خاموشی طاری رہے گی۔ ناقدین کے بقول پی ٹی آئی کے 5اگست کے احتجاج کو کو جمہوریت کی نام نہادبحالی کا عنوان دیا گیا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس تمام تر دوڑ بھاگ کا مقصد عمران کی رہائی کو یقینی بنانا ہے جس میں کامیابی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 5 اگست کے احتجاج کی حکمت عملی مکمل طور پر تبدیل کرتے ہوئے ہومیوپیتھک احتجاج کیلئے نیا لائحہ عمل تیار کرلیا ہے، جس کے تحت موٹروے سمیت مرکزی شاہراہیں بند کرنے یا اسلام آباد پر چڑھائی یا ریلی نکالنے اور جلسہ کرنے کی بجائے ہر ضلع میں احتجاج کیا جائے گا۔پی ٹی آئیذرائع کے مطابق پانچ اگست کو خیبر پختونخوا سے اسلام آباد کی بجائے پشاور میں حیات آباد ٹول پلازا سے قلعہ بالا حصار تک وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کی قیادت میں ریلی نکالی جائے گی جو رات تک جاری رہے گی،صوابی انٹر چینج پر سب اکٹھے ہوں گے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی 2 سال کی مبینہ غیر قانونی قید کی مناسبت سے ایک روزہ احتجاج کریں گے۔ وہ 3:30 بجے اپنا احتجاج شروع کریں گے جو عشاء کی نماز تک جاری رہے گا۔ ذرائع کے بقول

پشاور-اسلام آباد موٹروے کے صوابی انٹرچینج پر مرکزی احتجاج ہوگا جس میں مردان، صوابی اور چارسدہ کے کارکنان اور قائدین شرکت کریں گے۔ تینوں اضلاع سے کارکنان ریلیوں کی شکل میں صوبائی انٹرچینج پر پہنچیں گے اور بانی چیئرمین کی رہائی کے لیے پُرامن احتجاج کریں گے۔پارٹی ہدایات کے مطابق تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی ، اور ٹکٹ ہولڈرز اپنے حجرے یا ڈیرے سے اپنے احتجاج کی ویڈیوز بنائیں گے اور ضلعی تنظیم کو جمع کرائیں۔ جس کے بعد تمام ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر ریلیز کیا جائے گا۔

مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی اب اپنی احتجاجی حکمت عملی کو کو سیاسی ڈرائنگ رومز میں ڈھالتی نظر آتی ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز اپ لوڈ کر کے عوامی تاثر دینے کی کوشش کی جائے گی کہ تحریک اب تک جاری ہے۔ تاہم زمینی حقائق ان دعوؤں کا منہ چڑھاتے نظرآتے ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کے احتجاج میں نہ عوامی شرکت موجود ہے، نہ مرکزی قیادت کی گرفت پارٹی پر برقرار ہے اور نہ ہی ریاستی اداروں پر ان دعوؤں سے کوئی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخواہ کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں میںپی ٹی آئی کےسیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 5 اگست کا احتجاج اصل میں جمہوریت کی بحالی یا آئینی حقوق کی جدوجہد سے زیادہ عمران خان کی رہائی کے لیے آخری سعی ہے۔ اور یہ سعی اب پارٹی کے بیانیے کو نقصان پہنچا رہی ہے، کیونکہ ایک ہمہ گیر قومی جماعت اب ایک شخصیت کے گرد سمٹ کر رہ گئی ہے۔

ناقدین کے بقول پی ٹی آئی کا احتجاج اب سڑکوں سے سوشل میڈیا پر منتقل ہو چکا ہے۔  پارٹی قیادت کی جانب سے گرفتاری، تشدد اور ریاستی ردعمل سے بچنے کے لیے "ہومیوپیتھک احتجاج” کا فیصلہ حقیقت میں پی ٹی آئی کی زمینی گرفت کی کمزوری ظاہر کرتا ہے بلکہ اس امر کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں تحریک انصاف کی سیاست دفاعی رخ اختیار کر چکی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر یہی طرز عمل جاری رہا تو مستقبل میں پی ٹی آئی ایک قومی تحریک کے بجائے "ڈیجیٹل احتجاجی پلیٹ فارم” بن کر رہ جائے گی۔ جہاں عوام نہیں، صرف ہیش ٹیگز کی گونج سنائی دے گی۔

Back to top button