وزیر اعظم کا یو ٹرن ،دھمکی آمیزخط صحافیوں کو دکھانے سے پیچھے ہٹ گئے

وزیر اعظم عمران خان ایک اور یوٹرن لیتے ہوئےدھمکی آمیز خط صحافیوں کو دکھانے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے سینئر صحافیوں سے ملاقات منسوخ کر دی ہے۔میٹنگ منسوخ کرنے کی وجہ خط پبلک کرنا سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے، کہا گیا ہے کہ خط پبلک کرنے سے پہلے قانونی رائے لینا ضروری ہے۔

قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ مبینہ دھمکی آمیز خط آج (بدھ کو) سنیئر صحافیوں اور اتحادیوں کو دکھائیں گے۔ الیکٹرونک پاسپورٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب میں ان کا کہنا تھا یہ غیر ملکی سازش ہے، لوگ فیصلہ کرتے ہوئے ضرور سوچیں کہ کہیں آپ پاکستان کے خلاف سازش کا حصہ نہ بن جائیں۔

عمران خان نے کہا کہ میرے پاس جو خط ہے میں سینئر صحافیوں کو دکھاؤں گا، لوگ سمجھ رہے تھے کہ ڈراما ہورہا ہے، یہ کوئی ڈراما نہیں ہم اپنے ملک کے مفاد میں اسے چھپا رہے تھے، میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ میں یہ خط اتحادی جماعتوں کے نمائندگان اور سینئر صحافیوں کو دکھاؤں، لوگوں نے جو فیصلہ کرنا ہے کریں لیکن فیصلہ کرتے وقت یہ سوچ لیں کہ کہیں آپ بین الاقوامی سازش کا حصہ نہ بن جائیں۔

انہوں نے کہاایک غیر ملکی سازش ہے، یہ سازش اس وقت سے ہورہی ہے جب سے وہ لوگ جو باہر سے پاکستان کو ایک ٹیلی فون کال پر کنٹرول کرتے تھے وہ برداشت نہیں کر پار ہے کہ پاکستان میں ایک ایسی حکومت ہو جو اپنے ملک کے مفاد کے لیے فیصلے کرے۔

ملکی سیاسی صورتحال پر فواد چودھری کا دلچسپ ٹوئیٹ‌

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک خط نکالتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔

Back to top button